ترین گروپ کا اجتماعی استعفوں پر غور

 ترین گروپ نے حکومت سے معاملات طے نہ ہونے کی وجہ سے حکومتی نشستوں سے اجتماعی استعفوں پر غور شروع کر دیا ۔تفصیلات کے مطابق جہانگیر ترین  ہم خیال گروپ نے تحریک انصاف حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کیا ہے۔جہانگیر ترین گروپ نے حکومتی نشستوں سے اجتماعی طور پر استعفوں پر غور شروع کر دیا۔ذرائع کے مطابق ترین گروپ میں 9 اراکین قومی اسمبلی اور 21 اراکین صوبائی اسمبلی شامل ہیں۔مشاورتی اجلاس میں مستقبل کی حکمت عملی کے بارے میں اتفاق رائے سے فیصلہ کیا جائے گا ، جہانگیر ترین کی لودھراں سے لاہور اپسی پر گروپ کا اہم اجلاس ہو گا۔ترین گروپ میں دو صوبائی وزراء، دو معاونین خصوصی ، دو مشیر اور دو پارلیمانی سیکرٹریز شامل ہیں۔ ترین گروپ نے حکومت کی انتقامی کاروائیوں کیخلاف مری میں 8 سے 10اگست تک تین روزہ اجلاس طلب کیا تھا۔

اجلاس میں حکومت کی انتقامی کارروائیوں کیخلاف حکمت عملی طے کی جائے گی۔ اجلاس میں تمام اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ اجلاس کی صدارت جہانگیر ترین خود کریں گے۔ اجلاس میں ترین گروپ حکومت سے علیحدگی کے آپشن پر بھی مشاورت کرے گا۔ یاد رہے ترین گروپ کے عون چودھری کی بھی وزیراعلیٰ آفس میں وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات ہوئی تھی جس میں انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب  کو اپنا تحریر استعفیٰ پیش کیا۔

دوسری جانب حکومت نے بھی جہانگیر ترین گروپ کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کرلیا ہے، معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشو اعوان کے استعفی کی اندرونی کہانی سامنے آئی ہے۔ جس کے تحت فردوس عاشو اعوان  پارٹی کے اندر ٹکراؤ کے حق میں نہیں تھیں۔ اس لیے ترین گروپ کو بھرپور جواب دینے کے لیے فیاض الحسن چوہان کو میدان میں اتارا جائے گا، ترین گروپ کو ٹف ٹائم دیا جائے اسی وجہ سے فردوس عاشو اعوان کا استعفی فوری قبول کیا گیا۔

Back to top button