تمام پاکستانی ہر چیز پر ٹیکس کیوں دے رہے ہیں؟

سینئر صحافی اور کالم نگار وسعت الله خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایک بھی ایسا انسان نہیں جو مقروض نہ ہو۔ ہر پاکستانی دو لاکھ پینسٹھ ہزار پانچ سو اسی روپے کا مقروض ہے اس ملک کے پچیس کروڑ میں سے چوبیس کروڑ اسی لاکھ لوگ نہیں جانتے کہ ان کے نام پر کس نے کب قرضہ لیا۔ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ نام نہاد ٹیکس نیٹ سے باہر ہونے کے باوجود زندگی کی ہر شے پر بلاواسطہ ٹیکس دے رہے ہیں اپنے ایک کالم میں وسعت الله خان کہتے ہیں کہ 80 فیصد ٹیکس انہی عام افراد سے جمع ہو رہا ہے جن کی ماہانہ آمدنی بیس ہزار سے اوپر نہیں۔ اور پھر یہ اینٹھی ہوئی رقم ان خاکی و غیر خاکی افسروں، ججوں، تاجروں، صنعت کاروں، آئینی عہدیداروں، مشیروں میں بٹ رہی ہے جن کی ایک ماہ کی کمائی پانی، بجلی، گیس، رہائش، پٹرول اور الاؤنسز کی مجموعی مراعاتی مالیت سمیت ایک عام چوکیدار کی پندرہ برس کی کمائی کے برابر ہے۔ ہمارے سیاہ و سفید کے مالک چاہتے تو ایسا کوئی بھی اقتصادی گیم چینجر کہیں سے بھی اٹھا کے لاگو کر سکتے تھے جس میں ہر طبقے کی جیت ممکن ہے۔ مگر انھوں نے ہمارے لیے دیسی گیم چینجر چنا۔ یعنی وسائل و مواقع کی تین ڈھیریاں بنائیں۔ ان میں سے ایک ڈھیری صرف میری، دوسری ڈھیری میرے خاندان، عزیزوں اور سہولت کاروں کی اور تیسری ڈھیری باقی پچیس کروڑیوں کی۔ ہمت ہے تو اٹھا لو۔ ثبوت یہ ہے کہ پچھتر برس میں سی پیک منصوبوں سمیت ایک سو پچیس ارب ڈالر کا قرضہ لیا گیا۔ کہیں نہ کہیں تو استعمال ہوا ہو گا۔ امریکہ سے ستر ارب ڈالر سے زیادہ دفاعی، اقتصادی، سماجی و ادارہ جاتی امداد ملی۔ کہیں نہ کہیں تو بہرحال لگی لپٹی ہو گی۔آئی ایم ایف کا اندازہ ہے کہ یہی لچھن رہے تو سن دو ہزار اٹھائیس تک پاکستان کا بیرونی قرضہ موجودہ ایک سو پچیس ارب ڈالر سے بڑھ کے ایک سو اسی ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ وسعت الله خان کہتے ہیں کہ جب صنعت بیساکھیوں پر کھڑی ہو۔ زراعت سبسڈی کے ریڑھے پر بیٹھی ہو۔ سروس سیکٹر خود پر لگنے والے ٹیکسز کی ٹوپی براہ راست صارف کو پہنا رہا ہو۔ معیشت کا پہیہ زنگ آلود ہونے کے باوجود یہ معجزہ مسلسل ہو کہ پاکستانی بینکوں کے کاروبار کی سالانہ شرح منافع دنیا میں سب سے زیادہ منافع کمانے والے بینکوں میں شمار ہو تو پھر انسانی وسائیل کی ترقی پر رقم لگانے کی کیا ضرورت ہے۔ دوست ممالک بھی پہلے کی طرح مٹھی بھر کے اشرفیاں اچھالنے کے بجائے ادھار کی پائی پائی کا جواز لکھت پڑھت میں مانگنے لگے ہیں اور معاشی ڈھانچہ ٹھیک کرنے کا بن مانگا مشورہ بھی دینے لگے ہیں۔ لہٰذا جب پھٹیچر تعلیمی نظام کے سبب اکیسویں صدی کا گلا کاٹ مقابلہ نہ کر سکنے والی ہنر مند معیاری افرادی قوت کے لالے پڑے ہوں اور مذہبی مدارس و لبرل یونیورسٹیوں کے کھیتوں سے سالانہ لاکھوں کی تعداد میں وہ کاغذی فصل کٹ رہی ہو جو کسی غیر ملکی سرمایہ کار کے کام کی نہ ہو تو پھر بیرونی سرمایہ راغب کرنے کے لئے گھر کا زیور ہی نیلامی پر چڑھایا جاتا ہے۔ آؤ ہماری معدنیات لے جاؤ، ایئرپورٹ لیز پر لے لو، ہمارے کمرشل فضائی روٹ پکڑ لو، ہماری زمین میں کارپوریٹ فارمنگ کر کے ساری فصل اٹھا لو، ہماری پورٹ سروسز کے ٹھیکے لے لو۔ بس ہمارے لائف سٹائل کو چیلنج نہ کرو۔ ہمیں کسی بھی گالف کورس یا جم خانے کے کسی کونے میں پڑا رہنے دو۔

Back to top button