صدرعلوی کی جانب سے الیکشن کی تاریخ کا اعلان؟

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے کسی بھی وقت الیکشن کی تاریخ کا اعلان کیے جانے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق عارف علوی کسی بھی وقت الیکشن کی تاریخ کا اعلان کر سکتے ہیں۔ذرائع نے بتایاکہ صدر مملکت کی وزیرقانون سے ملاقات میں الیکشن تاریخ کے اعلان پر بات ہوئی۔ذرائع کا بتانا ہے کہ وزارت قانون کی رائے ہے کہ الیکشن تاریخ کا اعلان کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا تھاکہ عارف علوی صدارتی مدت پوری ہونے پر ایوان صدر خالی کرنے کی تاریخ دیں، بوریا بستر اٹھائیں اور پی ٹی آئی سیکرٹریٹ منتقل ہوجائیں۔انہوں نے کہا کہ معاشی دہشت گرد الیکشن نہیں ملک میں معاشی، سیاسی اور آئینی بحران چاہتے ہیں، ملک میں امن اور استحکام جیل میں بیٹھے ریاستی اور معاشی دہشت گرد سے برداشت نہیں ہو رہا۔
لیگی رہنما عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ صدرپاکستان کے عہدے کی معیاد 9 ستمبر کو ختم ہوچکی ہے، وہ عبوری صدر ہیں، انہیں اختیار کس نےدیا کہ الیکشن کی تاریخ دےدیں؟ عبوری صدر نئے صدر کی تعیناتی تک عہدے پر برقرار رہتےہیں۔
دوسری جانب تحریک انصاف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے انتخابات کی تاریخ کے فوری اعلان کا مطالبہ کیا ہے۔ اس حوالے سے مرکزی سیکریٹری جنرل عمر ایوب خان نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے نام ایک خط تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دستور کا آرٹیکل 48(5) صدر کی جانب سے قومی اسمبلی کی تحلیل کی صورت میں صدر مملکت کو انتخابات کے انعقاد کے لئے نوے روز کی مدت کے اندر کی کسی تاریخ کے تعین کا پابند بناتا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان، سبطین خان بنام الیکشن کمیشن آف پاکستان اور پنجاب اور کے پی میں انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے از خود نوٹس کے فیصلوں میں آئین کے اس آرٹیکل کی پوری صراحت سے تشریح کر چکی ہے، دستور اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں انتخابات کی تاریخ کا تعین صدر کا استحقاق اور اہم ترین آئینی فریضہ ہے۔
عمرایوب خان نے خط میں لکھا کہ دستور کا آرٹیکل 5 ہر شہری کو ریاست سے وفاداری اور آئین و قانون کی مکمل تابعداری کا پابند بناتا ہے، دستور کی تمہید کے تحت ریاست عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے ہی اپنے اختیارات و اقتدار کے استعمال کی پابند ہے چنانچہ قومی اسمبلی کے انتخابات جمہوریت کا بنیادی تقاضا ہیں جس کے بغیر ریاست کے لیے آئین پر عمل ممکن نہیں۔خط میں کہا گیا ہے کہ آپ نے وزیر اعظم کے مشورے پر نو اگست کو قومی اسمبلی تحلیل کی، اسمبلی کی تحلیل کے بعد انتخابات کی تاریخ کا تعین بھی آپ کے ذمے ہے، انتخابات کی تاریخ کے تعین کے حوالے سے الیکشن ایکٹ 2017ء کا سیکشن 57 کلی طور پر آئین کے تابع ہے، آئین و قانون کا مسلمہ قانون یہی ہے کہ آئین کو ملک میں رائج تمام قوانین پر مکمل فوقیت حاصل ہے۔عمر ایوب نے صدر سے کہا ہے کہ دستور کے آرٹیکل 48(5) کی رو سے انتخابات کی تاریخ کا تعین بطور صدر مملکت آپ کے ہی ذمے ہے، بطور صدر مملکت آپ انتخابات کی تاریخ کا تعین کا آئینی تقاضا پورا کریں تاکہ عوام کے لیے اپنے نمائندوں کا انتخاب اور آئین و ریاست کیلئے عوام کی منشاء کے مطابق عمل کرنا ممکن ہوسکے۔
