عمران اور باجوہ نے پاکستان کی معیشت کیسے برباد کی؟

سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو چند کاروباری شخصیات نے کچھ تجاویز دیں اور وہ سمجھنے لگے کہ وہ معیشت دان بن چکے ہیں اور اب وہ معیشت کو بہتر کر لیں گے۔مگر یہ حقیقت ناقابل تردید ہے کہ عمران دور میں جنرل باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمیددن رات معیشت کو بہتر بنانے کی تگ و دو میں لگے رہے مگر نواز شریف کے جانے کے بعد معیشت ایک دن بھی نہیں سنبھل سکی عمران خان کی نااہلی و خامیاں اپنی جگہ مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ انکے دور میں معیشت سمیت تمام اہم فیصلے وہ خود نہیں کرتے تھے، لیکن ایک دن بھی معیشت کو ان فیصلوں سے فائدہ نہ ہو سکا، باقی رہی سہی کسر عمران خان کی کرپشن اور نااہلی نے خود پوری کر دی. ان خیالات کا اظہار سینئر سیاسی تجزیہ کار حذیفہ رحمان نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے. وہ لکھتے ہیں کہ عمومی تاثر ہے کہ سیاستدان معیشت سنبھالنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف سمیت تمام جماعتوں کو ملک ٹھیک کرنے کا موقع دیا گیا، مگر نتائج حاصل نہ ہوسکے۔ آج تمام خامیوں کا ذمہ دار سیاستدانوں کو ٹھہرایا جارہا ہے۔ لیکن ہمیں اس معاملے کو سمجھنے سے پہلے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جس طرح سارے سارے عسکری عہدیدار موجودہ خامیوں کے ذمہ دار نہیں ہیں، اسی طرح سارے سیاستدان بھی ایک جیسے نہیں ہیں۔ پاکستان اگر آج اس حال تک پہنچا ہے تو اس میں ہر ادارے اور ہر شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ شخص نے اپنا اپنا حصہ دل کھول کر ڈالا ہے۔ 2008ء میں جنرل (ر) پرویز مشرف نے اقتدار جمہوری جماعتوں کے حوالے کیا۔ پیپلز پارٹی کی غلطیاں اور خامیاں اپنی جگہ لیکن حکومت سنبھالنے کے ساتھ ہی ملک میں بجلی کے بحران نے سر اٹھانا شروع کردیا، جو مشرف حکومت کا تحفہ تھا۔ 2012ء تک ملک میں ایسی نوبت آگئی کہ لوگ یہ کہنے پر مجبور تھے کہ خدارا بجلی دے دیں، بیشک ہم 100روپے فی یونٹ بھی بھرنے کو تیار ہیں۔ 2013ء میں مسلم لیگ ن نے حکومت سنبھالی۔ میاں محمد نوازشریف کی اولین ترجیح لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ تھی۔ وفاقی وزارت پانی و بجلی کی کارکردگی دیکھتے ہوئے نواز شریف نے اپنا بہترین کھلاڑی میدان میں اتارنےکا فیصلہ کیا اور یوں شہباز شریف نے پنجاب میں بجلی گھروں کی قطار لگادی اور یوں پاکستان لوڈشیڈنگ فری ملک بن گیا۔ یعنی کہ جن علاقوں میں بجلی چوری نہیں تھی، وہاں لوڈشیڈنگ صفر کردی گئی.

حذیفہ رحمان بتاتے ہیں کہ اس دوران پروجیکٹ عمران خان کو لانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ مسلسل دھرنوں اور احتجاج سے نوازشریف کی حکومت نہ گری تو پاناما کا سہارا لیا گیا۔ ہنستا بستا پاکستان چند افراد کی اناء اور ذاتی مفاد کی نذر ہوگیا۔ جس دن نواز شریف کو نکالا گیا، اس دن ڈالر105 اور پیٹرول 65سے 80روپے فی لیٹر کے درمیان تھا۔ عمران خان حکومت میں ان کی نااہلی و خامیاں اپنی جگہ مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ انکے دور میں معیشت سمیت تمام اہم فیصلے وہ خود نہیں کرتے تھے، لیکن ایک دن بھی معیشت کو ان فیصلوں سے فائدہ نہ ہو سکا، باقی رہی سہی کسر عمران خان کی کرپشن اور نااہلی نے خود پوری کر دی۔ عمران خان کے بعد شہباز شریف حکومت پر بات کرنا اسلئے بے معنی ہے کہ خیبر پختونخوا اور پنجاب حکومت نے جنوری 2023ء تک انہیں کوئی کام نہیں کرنے دیا۔ آٹے، چینی کا بحران ہو یا پھر ڈالر کی اسمگلنگ، صوبائی حکومتوں نے دل کھول کر اپنا حصہ ڈالا۔ اس سے پہلے جنرل باجوہ بھی دو طرفہ پالیسی پرچلتے رہے۔ جس سے اور تو کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ ملک کا بہت نقصان ہوا۔ آج آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے اگر معیشت کے حوالے سے اچھے فیصلے کئے ہیں تو اسکی یہ وجہ نہیں ہے کہ سیاستدان ناکام ہوچکے ہیں اور فوج سب کچھ ٹھیک کرے گی۔ بلکہ اس وقت ملک کے پاس وقت نہیں کہ ایک دوسرے پر ملبہ ڈالے اور اس دوران ڈالر 350 کی حد کراس کر جائے۔ ڈالر کی قیمتوں کے حوالے سے اسمگلنگ سب سے بڑا مسئلہ تھا۔ دیر آید درست آید۔ افواج پاکستان کے سپہ سالار نے بارڈرز پر سختی کرکے اسکو انتہائی کم کردیا ہے، اسے سراہنا چاہئے۔ ساتھ ساتھ اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ماضی میں اس اسمگلنگ کا راستہ جن عناصر نے ہموار کیا، انہیں کٹہرے میں کھڑا کئے بغیر معیشت وقتی طور پر تو ٹھیک ہو جائیگی لیکن مستقل حل یہ نہیں ہے. حزیفہ رحمان کا کہنا ہے کہ کسٹم، ایف آئی اے اور پولیس کا اسمگلنگ کی روک تھام میں عمل سب سے آخر میں شروع ہوتا ہے۔ بارڈر سے ایرانی تیل کا اس طرف آنا اور ہمارے روپے کا ڈالرز میں منتقل ہوکر باہر جانا ہی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے؟ یہ اسمگلنگ اسی طرح رک سکتی تھی، جس طرح آرمی چیف نے اپنے ادارے پر سختی کرکے روکنے کا حکم دیا ہے۔ جب بارڈرز محفوظ ہو جائینگے، پھر کسٹم ،ایف آئی اے اور صوبائی پولیس کیلئے روک تھام آسان ہو جائیگی۔ اسی طریقے سے معیشت کسی ایکشن سے نہیں بلکہ ایک مسلسل پراسس کے ذریعے ٹھیک ہوگی۔ اچھے کام پر شاباش اور غلط کام پر باز پرس ہی ہجوم کو قوم بناتا ہے۔

Back to top button