پیپلز پارٹی کو سندھ میں کون ٹف ٹائم دینے والا ہے؟

’’سیاسی سطح پر تیزی سے بدلتے ہوئے واقعات، غیرمتوقع ممکنات کے آثار اور اندیشوں کے پیش نظر قدرے مختصر خاموشی کے بعد اب سیاسی قائدین بھی حکمت عملی کے بدلتے ہوئے بیانئے کے ساتھ منظر پر آ رہے ہیں۔پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی وطن واپسی اور پاکستان مسلم لیگ نون کےقائد نو از شریف کی آئندہ ماہ سیاسی میدان میں اترنے کے یقینی امکان کے بعد نئی سیاسی صف بندیاں شروع ہوگئی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو آئندہ جاڑے میں انتخابات کا یقین ہوگیا ہے۔ جہاں ایک طرف ہفتے کے روز بلاول بھٹو زرداری نے اپنے والد آصف زرداری سے سیاسی ’’فاصلہ‘‘ اختیار کرکے ’’اچھے سپاہی اور برے سپاہی‘‘ کا پاکستان مسلم لیگ نون والا کھیل شروع کردیا ہے وہیں مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علمائے اسلام نے سندھ میں پیپلزپارٹی کے مقابل نئے اتحاد کی داغ بیل ڈال کر اسے جہاں اس کے روایتی گڑھ اندرون سندھ میں چیلنج دے دیا ہے وہاں پاکستان مسلم لیگ نون نے کراچی میں ڈیرے ڈالنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
مبصرین کے مطابق ایم کیوایم پاکستان کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ انتخابی اتحاد تشکیل نہیں دے گی تاہم مسلم لیگ نو ن کےساتھ اس کے قریبی سیاسی تعلق کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق کم و بیش تمام سیاسی جماعتوں کو یقین ہوگیاہے کہ آئندہ جاڑے میں پاکستان عام انتخابات سے ہمکنار ہوگا موجودہ نگران حکومت کے بعض طویل المدتی منصوبوں پر کام کرنا بعض جماعتوں کو سیاسی عزائم کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے تاہم پاکستان مسلم لیگ ن اور مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علمائے اسلام کو اس بارےمیں سرے سے کوئی تحفظات نہیں ہیں یہ دونوں اورا ن کی مقرب سیاسی جماعتیں سرمایہ کاری کی خصوصی کونسل سمیت حکومتی اقدامات کی کامیابی کے لئے ہر طرح کی یقین دہانی کرانے کے لئے تیار ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کیخلاف اتحاد کیلئے سیاسی جماعتوں نے رابطے شروع کردیئے۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن، ایم کیو ایم، جی ڈی اے اور جے یو آئی ف میں مشاورت جاری ہے۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم، جی ڈی اے اور جے یو آئی کے وفود کی کئی ملاقاتوں میں مختلف نکات پر اتفاق ہوگیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن میں پیپلز پارٹی کیخلاف سندھ بھر میں مشترکہ امیدوار کھڑے کیے جائینگے۔ جس حلقے میں جس جماعت کی اکثریت ہوگی وہاں کوئی اتحادی اپنا امیدوار کھڑا نہیں کرے گا۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس نے پیپلزپارٹی مخالف بیانیے کو آگے بڑھاتے ہوئے آئندہ انتخابات میں اپنے مشترکہ حریف کو ٹف ٹائم دینے کے لیے اپنی تیار کردہ سیاسی حکمت عملی جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے پیپلز پارٹی پر سندھ میں بدعنوانی، اقربا پروری اور سیاسی تعصب پر مبنی متوازی نظام حکومت متعارف کرانے کا الزام عائد کیا ہے۔ایم کیو ایم رہنما یہ اعتماد بھی ظاہر کرتے نظر آتے ہیں کہ جی ڈی اے کے ساتھ ان کی شراکت داری اگلے عام انتخابات کے بعد سندھ میں مخلوط حکومت کی تشکیل کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ایم کیو ایم کا خیال ہے کہ اگر آزادانہ اور منصفانہ انتخابات منعقد ہوں تو پیپلزپارٹی کے خلاف بڑھتی ہوئی ناراضگی صوبے میں بڑی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔
واضح رہے کہ ایم کیو ایم اور جی ڈی اے کے درمیان تازہ قربت سندھ اسمبلی کی تحلیل سے چند ہفتے قبل شروع ہوئی، اگست 2023 میں سندھ اسمبلی نے اپنی پانچ سالہ مدت پوری کی۔اگرچہ دونوں فریق سندھ اسمبلی میں اپوزیشن بنچوں کا حصہ تھے لیکن دونوں کے درمیان اس وقت قربت بڑھی جب جی ڈی اے نے ایم کیو ایم کی جانب سے جولائی 2023 میں اپنی رکن اسمبلی رعنا انصار کو سندھ اسمبلی میں پہلی خاتون اپوزیشن لیڈر مقرر کرنے کی کوشش کی حمایت کی، قبل ازیں اسپیکر سندھ اسمبلی نے 9 مئی کے پُرتشدد واقعات کے بعد پی ٹی آئی کے حلیم عادل شیخ کو اس عہدے سے ہٹانے کا اعلان کیا تھا۔
بعدازاں دونوں فریقین نے موجودہ نگران سیٹ اپ کے لیے اپوزیشن کی جانب سے اتفاق رائے سے نام تجویز کرنے میں اہم کردار ادا کیا، ایم کیو ایم اور جی ڈی اے نے گزشتہ 2 ماہ کے دوران اب تک نصف درجن سے زائد ملاقاتیں کی ہیں جن میں بنیادی طور پر مستبقل میں اپنی سیاسی شراکت داری کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اگرچہ دونوں فریقین نے اب تک آئندہ انتخابات کے لیے انتخابی اتحاد جیسی کوئی تجویز نہیں دی لیکن ان کے تعلقات میں بڑھتی ہوئی گرمجوشی ان کی بعد از انتخابات شراکت داری کی جانب اشارہ کررہی ہے۔
دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن اور جے یو آئی بھی پیپلز پارٹی مخالف اتحاد کا حصہ بننے جا رہی ہے اور توقع ہے کہ اس حوالے سے جلد پیشرفت سامنے آ جائے گی۔ ذرائع کا مزید دعویٰ ہے کہ نون لیگ نے سندھ کو اپنا ٹارگٹ بنا لیا ہے اور مریم نواز جلد سندھ کا دورہہ کرنے والی ہیں۔ ماضی میں مسلم لیگ ن کاحصہ رہنے والے کئی سیاسی خاندان جو پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے تھے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے دورہ سندھ کے موقع پر ایک بار پھر ن لیگ میں شمولیت اختیار کرینگے اسی طرح جی ڈی اے میں شامل کئی شخصیات بھی ن لیگ میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کر چکی ہیں جبکہ سندھ کے بعض قوم پرست رہنما بھی ن لیگی لیڈر شپ سے رابطے میں ہیں۔
