جسٹس فائز عیسیٰ کو دھمکانے والے مولوی کی ضمانت کیوں؟

بالآخراسلام آباد ہائیکورٹ نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو قتل کی دھمکیاں دینے والے نام نہاد عالم دین آغا افتخار الدین کی ضمانت منظور کر لی ہے۔ تاہم دو ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ایف آئی اے اس بات کا سراغ لگانے میں ناکام رہا کہ ملزم نے دھمکی آمیز ویڈیو کس کے ایماء پر بنائی اور اسے اپلوڈ کرنے کے پیچھے کیا مقاصد کارفرما تھے؟
اعلیٰ عدلیہ کے ججوں خصوصآ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف توہین آمیز تقریر کرنےاورقتل کی کھلی دھمکیاں دینے کے ملزم آغا افتخار الدین نے ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ چیف جسٹس اطہرمن اللہ اور جسٹس عامر فاروق نے آغا افتخار الدین کے درخواست 20 اگست 2020 کو سماعت کی جس کے دوران چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے کہ یہ پوری عدلیہ کو بدنام کرنے کا معاملہ ہے تاہم ہر ایک کو شفاف ٹرائل کا حق دینا عدالت کی ذمہ داری ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ توہین عدالت کا معاملہ سپریم کورٹ میں ہے، ہم تو صرف ضمانت دیکھ رہے ہیں۔ اس موقع پرڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملزم پر انسداد دہشتگردی ایکٹ، ہتک عزت اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔
چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ملزم کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ملزم نے جج اور عدلیہ سے متعلق کیا کہا تھا؟ جو کچھ افتخار مرزا نے کہا وہ آپ نے سنا، پھر بھی وہ خود کو مذہبی سکالر کہتے ہیں۔‘ اس پر آغا افتخار کے وکیل نے جواب دیا کہ ملزم اپنے بیان میں الفاظ کی ادائگی کی حد تک معافی مانگ چکا ہے جبکہ ویڈیو آغا افتخار نے اپلوڈ نہیں کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ’کیس زیرالتواء ہے اس لیے ہم کوئی آبزرویشن دے کر اسے خراب نہیں کرنا چاہتے۔‘ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ہم فیئر ٹرائل کو یقینی بنانے کے لیے ضمانت منظور کر رہے ہیں۔ عدالت نے ضمانت منظور کرتے ہوئے ملزم کو 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیدیا۔
یاد رہے کہ جون 2020 میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں علامہ آغا افتخارالدین مرزا کی جانب سے اعلیٰ عدلیہ اور ججز کے بارے میں توہین اور دھمکی آمیز زبان استعمال کی گئی تھی۔ 24 جون کو سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے پولیس کو ایک درخواست دی تھی جس میں کہا گیا کہ ان کے خاندان کی زندگی خطرے میں ہے کیونکہ انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ انہوں نے اپنی شکایت میں کہا تھا کہ ‘میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ ہوں جو سپریم کورٹ کے جج ہیں اور انہیں قتل کی دھمکی دی گئی ہے’۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے مزید کہا تھا کہ ایک شخص نے ویڈیو میں کہا تھا کہ ان کے شوہر کو سرعام گولی ماری جائے، ساتھ ہی انہوں نے اپنی شکایت کے ساتھ دھمکی آمیز ویڈیو پیغام پر مشتمل یو ایس بی بھی جمع کروائی تھی۔ بعد ازاں اگلے ہی روز چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے آغا افتخار الدین کی ججزاور عدلیہ کے خلاف اس ویڈیو کلپ کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے سے رپورٹ طلب کی تھی جبکہ ملزم افتخارالدین کو بھی توہین عدالت کا نوٹس جاری کرکےجواب طلب کیا تھا۔
ملزم نے اپنے جواب میں سپریم کورٹ سے معافی طلب کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس کے دل کی مرکزی شریانیں بند ہیں، باقاعدگی سے ادویات لینے سے دماغ پر برا اثر پڑا ہے،کبھی کبھی بے عقلی اور مایوسی والی باتیں کرنا شروع کر دیتا ہوں۔۔ جس کے بعد 26 جون کو پہلی سماعت پر عدالت نے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے واجد ضیا اور آغا افتخار مرزا کو طلب کیا تھا اور اٹارنی جنرل نے بتایا تھا کہ ایف آئی اے نے الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت کارروائی شروع کردی ہے۔ عدالتی کارروائی کے بعد آغا افتخار کو حراست میں لیا گیا تھا اور 30 جون کو انسداد دہشت گردی عدالت نے راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے آغا افتخار الدین مرزا کو 7 روز کے جسمانی ریمانڈ پر وفاقی تحقیقاتی ادارے کے حوالے کردیا تھا۔ بعدازاں 9 جولائی کو سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ و دیگر ججز سمیت عدلیہ مخالف اور توہین آمیز ویڈیو ازخود نوٹس کیس میں مولوی آغا افتخار الدین مرزا کی غیر مشروط معافی مسترد کرتے ہوئے توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا جبکہ 15 جولائی کو سپریم کورٹ نے عدلیہ اور ججز مخالف توہین آمیز ویڈیو ازخود نوٹس کیس میں ملزم آغا افتخار الدین مرزا کی معافی کی استدعا ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے فرد جرم عائد کی تھی۔ تاہم بعد ازاں ملزم نے اپنا موقف بدلتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ وہ اس کیس کی پیروی کرے گا۔ اب اسلام آباد ہائیکورٹ نے قتل کی دھمکیاں دینے والے ملزم کی ضمانت منظور کر لی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کے قانون میں توہین عدالت کا جرم ثابت ہونے کی صورت میں زیادہ سے زیادہ چھ ماہ قید یا جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے اور جرم کی نوعیت کی صورت میں دونوں سزائیں بھی ہو سکتی ہیں۔ عدالت اگر چاہے تو مقدمے کی سماعت کے دوران کسی بھی وقت ملزم کو معاف بھی کر سکتی ہے کیونکہ یہ معاملہ ملزم اور عدالت کے درمیان ہوتا ہے۔
