تیز ترین گیند کرانے کا شعیب اختر کا ریکارڈ خطرے میں

انڈر 19 ورلڈ کپ کے سری لنکا بھارت میچ میں ایسا ریکارڈ بن گیا جسے اب تک تسلیم کرنے میں مشکلات کاسامنا ہے۔ سری لنکن فاسٹ بولر متھیشا پتھیرانا نے اتوار کو کمبرلے میں کھیلے گئے میچ میں 175 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرائی۔
اتوار کو انڈر19 ورلڈ کپ میں بھارت اور سری لنکا کے درمیان کھیلے گئے میچ میں سری لنکن فاسٹ باؤلر متھیشا پتھیرانا نے میچ کے چوتھے اوور کی پانچویں گیند کرائی جو وائیڈ گیند تھی تاہم اس گیند کی خاص بات یہ تھی کہ اسپیڈو میٹر کے مطابق انہوں نے 175کلومیٹر فی گھنٹہ یعنی 108میل کی رفتار سے گیند کی۔


مایہ ناز سری لنکن فاسٹ باؤلر لاستھ ملنگا کی طرح کے ایکشن کے حامل 17سالہ فاسٹ باؤلر کی جانب سے انڈر19 ورلڈ کپ میں کی گئی اس گیند پر ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔
اس گیند کو کرانے کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شائقین کرکٹ کی جانب سے گیند کے اسکرین شاٹ پوسٹ کیے گئے اور انہوں نے اس گیند کی رفتار پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا ایسا واقعی ہوا ہے۔
نتیش کمار نامی صارف نے ایک انڈر19 باؤلر کی جانب سے اس قدر تیز گیند پر اپنی حیرانی کا اظہار کیا جبکہ کچھ نے اسے اسپیڈ گن کی غلطی بھی قرار دیا۔
یاد رہے کہ اس وقت انٹرنیشنل کرکٹ میں سب سے تیز ترین گیند کرانے کا اعزاز شعیب اختر کے پاس ہے جنہوں نے 2003 ورلڈ کپ میں انگلینڈ کے خلاف میچ میں 161.3کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کی تھی۔
مدشکا بالا سوریا نامی صارف نے نشاندہی کی کہ پتھی رانا ورلڈ کپ سے قبل 130کلومیٹر کی رفتار سے گیند کرتے تھے لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ کوئی یکدم 175کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے باؤلنگ شروع کردے۔
یاد رہے کہ میچ کے دوران بھی پتھی رانا نے اکثر گیندیں 130سے 140کلومیٹر کے درمیان ہی کرائی تھیں۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ سری لنکن باؤلر کی جانب سے کرائی گئی اس گیند کو نہ صرف بلے باز نے آرام کے ساتھ وکٹ کیپر کے پاس جانے دیا اور انہیں کھیلنے میں کوئی دقت نہ ہوئی جب کہ وکٹ کیپر نے بھی با آسانی گیند کو پکڑا جس سے اس کے تیز ترین گیند ہونے کا امکان خارج ہوتا نظر آتا ہے۔
دوسری جانب انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بھی اس حوالے سے کسی قسم کا بیان یا سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر کوئی پوسٹ نہیں کی جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ ایک مشینی غلطی کے سبب ہوا۔
اس کے ساتھ ساتھ آئی سی سی نے میچ کے جن تین بہترین لمحات کا ذکر کیا اس میں بھی اس گیند کا کوئی ذکر نہیں تھا جس کے بعد اس کو غلطی نہ ماننے کی تاحال کوئی وجہ باقی نہیں بچی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button