تین روز کے وقفے سے کراچی کی ایک اور بڑی مارکیٹ میں آتشزدگی

صدر کی زینب مارکیٹ کے ساتھ قائم ایک اور مشہور مارکیٹ، وکٹوریہ مارکیٹ میں آتشزدگی کے نتیجے میں 4 گودام اور 45 دکانیں جل کر راکھ ہوگئیں۔
یہ ایک ہفتے میں آتشزدگی اک دوسرا بڑا واقعہ ہے، اس سے قبل صدر کی کووآپریٹو مارکیٹ میں 14 نومبر کو لگنے والی آگ سے سیکڑوں دکانین جل کر خاکستر ہوگئی تھیں۔
عبداللہ ہارون روڈ پر واقع اس مارکیٹ کی پانچویں منزل پر آگ صبح ساڑھے 11 بجے لگی جس پر شدید کوششوں سے کئی گھنٹوں بعد قابو پایا گیا جبکہ کولنگ کا عمل رات دیر تک جاری رہا۔
ڈپٹی کمشنر ارشاد سودر نے ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کئی منزلہ شاپنگ سینٹر کی بالائی منزل تقریباً پوری آگ سے تباہ ہوگئی۔
انہوں نے بتایا کہ اس منزل پر زیادہ تر گودام تھے جہاں موسم سرما کے کپڑے رکھے گئے تھے اور چونکہ وہاں کوئی سرگرمی نہیں تھی اس لیے آگ آتشزدگی کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے۔
ایس ایس پی زبیر نذیر شیخ نے کہا کہ آتشزدگی کے نتیجے میں کوئی زخمی نہیں ہوا، اور قانونی کارروائی کے آغاز کے لیے فائر مین کی رپورٹ کا انتظارکیا جارہا ہے۔
چیف فائر افسر مبین احمد نے ڈان کو بتایا کہ 12 سے 13 فائر انجنز اور 2 اسنارکلز نے آگ بجھانے کی کوششوں میں حصہ لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ عمارت میں آگ بجھانے کے مناسب انتظامات نہیں تھے اور کپڑے جن میں زیادہ تر جیکٹس اور سویٹرز مارکیٹ کے اندر اور سیڑھیوں پر بھی رکھے گئے تھے جس کی وجہ سے آگ قابو کرنے میں مشکلات ہوئیں۔
چیف فائر افسر کا مزید کہنا تھا کہ اس مصروف مارکیٹ میں کوئی فائر الارم نہیں تھا اور دکانداروں کو آگ لگنے کا اس وقت پتا چلا جب شعلے بلند ہوئے اور کالا دھواں عمارت سے نکلتا ہوا دکھائی دیا۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد عل شاہ نے وکٹوریہ مارکیٹ کی آتشزدگی کانوٹس لیتے ہوئے صدر میں ایک ہفتے کے دوران آتشزدگی کے دو واقعات کے حوالے سے انکوائری رپورٹ طلب کرلی۔
کوآپریٹو مارکیٹ کے تاجروں نے آتشزدگی کے پیچھے تخریب کاری کا شبہ ظاہر کیا تھا اور نامعلوم ملزمان کے خلاف پریڈی تھانے میں ایف آئی آر درج کرائی تھی۔
دوسری جانب ایس ایس پی جنوبی نے ڈان کو بتایا کوآپریٹو مارکیٹ میں آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں لیکن وہ قانونی کارروائی کے آغاز کے لیے فائر بریگیڈ سے آگ لگنے کی اصل وجہ کی رپورٹ کا انتظار کررہے ہیں۔
