کیا عدالت متنازعہ قانون سازی کے خلاف فیصلہ دے گی؟


17 نومبر کو قانون سازی کے لیے ہونے والے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں 33 بلوں کی منظوری کو حکومت اپنی جیت اور اپوزیشن جماعتوں کی شکست قرار دے رہی ہے لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت نے عددی اکثریت تو ثابت کر دی لیکن دھونس دھاندلی سے متنازعہ قوانین پاس کروا کر وہ اخلاقی طور پر شکست کھا گئی۔ اپوزیشن جماعتیں متنازعہ قانون سازی کو عدالت میں چیلنج کرنے جا رہی ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ فیصلہ حکومت کے خلاف آئے گا اور اسے پشیمانی اٹھانی پڑے گی۔ تاہم دوسری جانب حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کو اس معاملے پر منہ کی کھانا پڑے گی کیونکہ آئین کے تحت پارلیمنٹ میں کی جانے والی قانون سازی کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے 17 نومبر کو پاکستانی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے حکومتی چماٹ کا کردار ادا کرتے ہوئے تمام قوانین اور ضابطوں کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں اور سیشن کے آغاز ہی میں دھاندلی کی بنیاد رکھ دی۔ یاد رہے کہ سیشن کے آغاز میں جب اپوزیشن نے اعتراض کیا کہ سپیکر نے متنازعہ قانون سازی کے حق میں 221 اراکین کے ہونے کا غلط دعوی کیا ہے لہذا دوبارہ ممبران کی گنتی کروائی جائے تو اسپیکر نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور بل پیش کرنے شروع کر دیے۔ سونے پر سہاگا یہ کہ جب اپوزیشن نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا تو حکومت نے موقع غنیمت جانتے ہوئے نہ صرف کلبھوشن یادیو کو اپیل کا حق دلوانے کا بل پاس کروا لیا بلکہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال اور بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دلوانے کے بل بھی منظور کروا لیے حالانکہ اپوزیشن کو ان بلوں پر مشاورت کی یقین دہانی کروائی گئی تھی۔ اس سارے عمل کے دوران اسپیکر اسد قیصر نے ایک کٹھ پتلی کا کردار ادا کرتے ہوئے تمام قواعد و ضوابط کو بلڈوز کردیا جسکے بعد اب اپوزیشن جماعتوں نے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔
یاد رہے 17 نومبر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کپتان حکومت 33 قانونی بل منظور کروانے میں کامیاب ہوئی تاہم جس طریقہ سے یہ عمل پایہ تکمیل کو پہنچا، اس سے ملک میں سیاسی تقسیم اور بھی گہری ہوئی ہے اور حکومت کی رہی سہی ساکھ کا بھی جنازہ نکل گیا ہے۔ اپوزیشن نے تکنیکی بنیاد پر ا7 نومبر کی قانون سازی سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ بلاول بھٹو نے اعلان کر دیا ہے کہ متنازعہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ذریعے الیکشن کروانے کی صورت میں اپوزیشن کے لیے آئندہ انتخابات کے نتائج قابل قبول نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی ایس سسٹم کو بٹھا کر دھاندلی سے برسر اقتدار
لائی جانے والی حکومت نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا قانون پاس کر کے دو برس بعد ہونے والے الیکشن کے نتائج کو ابھی سے ناقابل قبول بنا دیا ہے۔
یاد رہے کہ منظور کروائے گے بلوں میں آئندہ انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں استعمال کرنے کی ترمیم کے علاوہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے ووٹ کا حق دینے کی ترمیم بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ گرفتار بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو عدالتی نظام میں اپیل کا حق دینے کے لئے ایک ترمیمی بل منظور کروایا گیا ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کو منظم دھاندلی کا ایک نیا طریقہ قرار دے رہی ہے۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے ایوان میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں گنے چنے ممالک میں ہی یہ مشینیں استعمال ہوتی ہیں کیوں کہ یہ قابل اعتبار نہیں ہیں۔ الیکشن کمیشن پاکستان بھی ان مشینوں کے استعمال کی مخالفت کرچکا ہے لیکن حکومت نے زبردستی یہ ترمیم ٹھونس دی ہے اور الیکشن سے پہلے ہی دھاندلی کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ شہباز شریف نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو شیطانی مشینیں قرار دیا۔
دوسری جانب اپوزیشن نے 17 نومبر کو ہونے والی قانون سازی عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کرلیا کیوں کہ اس کے خیال میں حکومت نے ایسا کرتے ہوئے متعلقہ قواعد و ضوابط پر عمل نہیں کیا۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کے 2007 میں منظور شدہ ضوابط کے تحت وفاقی حکومت کو مشترکہ اجلاس میں بل منظور کروانے کے لئے کل ارکان کی اکثریت کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ موجودہ صورت میں یہ تعداد 222 بنتی ہے۔ اجلاس میں حکومت کے بلوں کو 221 ارکان کی حمایت حاصل ہوئی تھی۔ حکومت کا کہنا تھا کہ آئین کی شق 72 کے تحت حکومت حاضر ارکان کی اکثریت سے کوئی بل منظور کروا سکتی ہے۔ اسپیکر اسد قیصر نے حکومتی مؤقف تسلیم کرتے ہوئے اپوزیشن کا اعتراض مسترد کردیا تھا۔ چنانچہ اب اسی نکتہ کی بنیاد پر اپوزیشن عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانے کا اعلان کر رہی ہے۔ اپوزیشن نے پارلیمنٹ میں رائے شماری کے دوران غلطیوں کی نشاندہی بھی کی ہے۔ اپوزیشن لیڈر کا دعویٰ ہے کہ حکومت کو 221 ارکان کی حمایت بھی حاصل نہیں تھی لیکن ارکان کو گننے میں گڑبڑ کی گئی اور حکومت کے زیادہ ارکان دکھائے گئے۔ لہذا اپوزیشن قیادت کو یقین ہے کہ حکومت کی جانب سے کی جانے والی متنازعہ قانون سازی عدالت میں چیلنج کیے جانے کی صورت میں فیصلہ انکے حق میں آئے گا اور کپتان حکومت کو پشیمانی اٹھانی پڑے گی۔

Back to top button