جامی نے حمید ہارون کے نوٹس کے جواب میں ریپ کا الزام دہرا دیا

ڈان اخبار کے چیف ایگزیکٹو آفیسر حمید ہارون کی جانب سے بھیجے گئے ہتک عزت کے نوٹس کے جواب میں فلمساز جمشید محمود عرف جامی نے خود کو ریپ کیے جانے کے الزام پر معافی مانگنے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوٹس بازی دراصل سچ کو چھپانے کی ایک مکارانہ کوشش ہے جس کا وہ بھرپور مقابلہ کریں گے انہوں نے کہا کہ وہ حمید ہارون کی جانب سے خود کو ریپ کئے جانے کے موقف پر قائم ہیں۔
یاد رہے کہ 28 دسمبر 2019 کو جامی نے اپنے مبینہ ریپسٹ کے طور پر ڈان کے سی ای او حمید ہارون کا نام لیا تھا جنہوں نے ریپ کے الزام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے جامی کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ حمید ہارون نے ہتک عزت آرڈیننس 2002 کے تحت جامی کو ایک قانونی نوٹس بھیجا اور ریپ کا الزام واپس لینے اور سرِ عام غیر مشروط معافی کا مطالبہ کیا۔ حمید ہارون کے بھیجے گئے نوٹس میں کہا گیا تھا کہ ’جامی نے الزام ’معاشرے اور ریاست میں طاقتور مفاد رکھنے والوں کے اکسانے پر لگایا جو ہمارے موکل کی ساکھ، بالخصوص آزادی صحافت کے لیے آواز اٹھانے پر ان کی ساکھ کو تباہ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں‘، انہوں نے جامی پر یہ الزام بھی لگایا تھا کہ وہ ان کی شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں۔
16 جنوری کو حمید ہارون کے قانونی نوٹس کا جواب دیتے ہوئے جامی کے وکیل نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے مؤکل کو ہراساں کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جامی کے جوابی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’آپ کے موکل کو بتانا ضروری ہے کہ اگر وہ ہمارے موکل کو ہراساں کرنے کی بیکار اور غیر ضروری کوششوں کو مزید جاری رکھنا چاہتے ہیں تو نوٹ کرلیں کہ ہمارے موکل اس کا مقابلہ کرنے کو تیار ہیں، کیونکہ ایسے بہت سے گواہان جن پر ہمارے موکل کو بھروسہ ہے، آپ کے موکل کے خلاف کسی بھی مسابقتی فورم پر گواہی دینے کے لیے تیار ہیں‘۔
جامی نے حمید ہارون کو قانونی نوٹس ایک ہفتے میں واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے، بصورت دیگر نوٹس میں کہا گیا کہ جامی حمید ہارون کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرنے کا استحقاق رکھتا ہے اور ’اگر آپ کے موکل کی جانب سے کوئی جابرانہ کارروائی ہوئی تو اس کا بھرپور دفاع کیا جائے گا‘۔ واضح رہے کہ حمید ہارون نے 6 جنوری کو فلمساز کو نوٹس بھیجا تھا اور جامی سے نوٹس وصول کرنے کے 14 روز کے اندر معافی کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم جامی نے حمید ہارون کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ان کے نوٹس کو ’اپنی ساکھ خراب کرنے اور سچ کو چھپانے کی مکارانہ اور آسان کوشش قرار دیا‘ہے۔ جامی کے جواب کے مطابق حمید ہارون کے نوٹس میں ڈان میڈیا گروپ کے دفاتر کے باہر مظاہروں کا تذکرہ کیا گیا تھا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی تھی کہ ان کے پیچھے بھی جامی اور وہ قوتیں کارفرما تھیں جو کہ ڈان اخبار کو نقصان پہنچانا چاہتی ہیں ۔ نوٹس میں کہا گیا کہ جامی کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں اور وہ ’بھی غیر جانبدارانہ طور پر اس اقدام کی مذمت کرنا چاہتے ہیں‘۔ علاہ ازیں جامی نے اس الزام کو بھی سراسر مسترد کیا کہ وہ کسی ’وسیع تر ایجنڈے‘ کا حصہ ہیں۔ انہوں نے حمید ہارون کے نوٹس میں لگائے گے اس الزام کی بھی تردید کی کہ وہ ریاست میں طاقتور مفادات رکھنے والوں کے اکسانے پر سامنے الزام لگا رہے ہیں۔
جامی کے نوٹس میں کہا گیا کہ ’اس بات کا تذکرہ کرنا ضروی ہے کہ آپ نے اپنے پورے قانونی نوٹس میں ہمارے موکل کو ’وسیع ایجنڈے کا حصہ ہونے کا الزام لگایا۔ ہمارے موکل واضح طور پر اس کی تردید کرتے ہیں‘۔
ڈان اخبار کے چیف ایگزیکٹو حمید ہارون کی طرف سے ریپ کے الزام پر ملنے والے قانونی نوٹس کا جواب دیتے ہوئے فلمساز جمشید محمود عرف جامی نے معافی مانگنے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی صورت اپنے ساتھ جنسی زیادتی کا مرتکب ہونے والے شخص سے معافی نہیں مانگیں گے۔ جھوٹے پر خدا کی لعنت ڈالتے ہوئے جامی نے کہا کہ وہ پوری تفصیل کے ساتھ بتا سکتے ہیں کہ ان کے ساتھ ریپ کب، کہاں اور کیسے ہوا۔ جامی نے اس الزام کی بھی سختی سے تردید کی کہ ان کی طرف سے حمید ہارون پر عائد جنسی زیادتی کےالزام کے پیچھے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ الزام لگا کر دراصل جنسی زیادتی کے معاملے کو سیاسی بنانے کی بھونڈی کوشش کی جارہی ہے جو کہ خود کو بچانے کا سب سے آسان راستہ ہے۔ اب جبکہ جامی نے اپنے الزامات کو دہراتے ہوئے حمید ہارون سے معافی مانگنے سے انکار کردیا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ الزامات کا یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button