’عسکری کارروائیوں‘ میں کمی کا مقصد امن معاہدے پر دستخط ہیں

افغان طالبان کا کہنا ہے کہ ’عسکری کارروائیاں‘ کم کرنے پر رضامندی کا مقصد افغانستان سے امریکی اور اتحادی افواج کے نکلنے کیلئے محفوظ ماحول فراہم کرنا اور امریکہ کے ساتھ ہونے والے امن معاہدے پر دستخط کی تاریخ مقرر کرنا ہے۔
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے بتایا کہ ہم نے امن معاہدے پر دستخط ہونے تک کے دنوں کے لیے عسکری کارروائیاں کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ عسکری کارروائیوں میں کمی کا مقصد غیر ملکی فوجوں کے افغانستان سے انخلا کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔
سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کا کوئی معاہدہ نہیں ہوا یہ صرف ہماری عسکری کارروائیوں میں کمی ہے، یہ ہمارا استحقاق ہے کہ ہمیں کب، کہاں اور کس طرح عسکری کارروائیوں میں کمی لانی ہے اور یہ صرف غیر ملکی افواج کے لیے نہیں، پرتشدد کارروائیوں میں کمی افغانستان اور دیگر تمام افواج کے لیے ہے۔
طالبان ترجمان سے جب پوچھا گیا کہ کیا حملوں میں کمی معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد بھی جاری رہے گی اور انہوں نے کہا کہ جب معاہدہ پر دستخط ہوں گے اس میں موجود شقیں نافذ ہوجائیں گی۔انہوں نے یہ واضح نہیں کیا وہ کون سی شقیں ہیں تاہم یہ کہا کہ معاہدے سے اشرف غنی حکومت سمیت بین الافغان مذاکرات کا انعقاد ہوگا اور ملک بھر میں جنگ بندی پر بات کی جائے گی۔
رواں ہفتے کے آغاز میں قطر کے دارلحکومت دوحہ میں امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد اور طالبان کے نائب سربراہ ملا عبدالغنی اخوند المعروف ملا برادر کے درمیان بات چیت کا پہلا مرحلہ شروع ہوا تھا۔ دونوں فریقین کے مابین مذاکرات کے 3 دور ہوچکے اور جمعے کے وقفے کے بعد ہفتے کو دوبارہ ملاقات کا امکان ہے۔سہیل شاہین نے بتایا کہ بات چیت جاری ہے اور معاہدہ ہونے کے قریب ہے کیوں کہ مسودہ تیار ہوچکا ہے اور معاہدہ کی شرائط کے حوالے سے مزید بات چیت کرنے کے لیے کچھ باقی نہیں۔انہوں نے کہا کہ صرف ایک چیز کا تعین ہونا باقی ہے اور وہ ہے امن معاہدے پر دستخط کی تاریخ، یہ صرف چند دنوں کا معاملہ ہے، ہم پر امید ہے کہ شاید اس ماہ کے آخر تک ہم معاہدے پر دستخط کرسکیں گے۔
دوسری جانب افغان صدارتی محل سے کہا گیا کہ وہ امریکہ اور طالبان کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کے بارے نہی جانتے لیکن انہیں اس کے اثرات کے حوالے سے خبردار کیا گیا، انہوں نے کہا کہ سمجھوتا طے پانے اور معاہدے پر دستخط کے بارے میں انہیں اعتماد میں لینا پڑے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button