جام کمال باپ کی صدارت چھیننے کے لیے کوشاں ہو گئے
جام کمال باپ کی صدارت چھیننے کے لیے کوشاں ہو گئے
سابق وزیرا علیٰ بلوچستان جام کمال نے وزارت اعلیٰ چھن جانے کے بعد بطور پارٹی صدر عہدہ بچانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کردیئے ہیں جس سے باپ پارٹی نئے سیاسی بحران کا شکار ہوتی دکھائی دیتی ہے اور اس کی سیاسی بقا پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ اپنے ہی ساتھیوں کی بغاوت کے نتیجے میں صوبے کی وزارت اعلیٰ چھوڑنے پر مجبور ہوجانے والے جام کمال خان الیکشن کمیشن کے ساتھ خط و کتابت کو بنیاد بناکر اب باپ پارٹی کی صدارت پر قبضے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی اور وزیرا علی میر عبدالقدوس بزنجو کی قیادت میں جام کا مخالف دھڑا انہیں صدر ماننے پر آمادہ نہیں جس کے بعد جام کمال کی پارٹی سے بیدخلی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ اندروانی اختلافات کے باعث مبصرین بلوچستان عوامی پارٹی کی مستقبل کے بارے میں بھی سوالات اٹھا رہے ہیں۔
بلوچستان سے اسمبلیوں میں نمائندگی کی بنیاد پر سب سے بڑی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کا اصل صدر کون ہے؟ اس تنازعہ کو سابق وزیر اعلیٰ جام کمال خان نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایک خط کی بنیاد پر پھر سے چھیڑ دیا ہے۔ انھوں نے ایک ٹویٹ میں پارٹی کے سینئر وزیر کو مخاطب کر کے کہا کہ الیکشن کمیشن کا خط یہ ثابت کرتا ہے کہ پارٹی کا اصل صدر میں ہوں۔ جواب میں میر ظہور بلیدی نے کہا جام صاحب آپ صدر نہیں بلکہ آپ نے تو استعفیٰ دے دیا تھا۔ اسکے بعد پارٹی نے مجھے عبوری صدر بنایا تھا۔ یاد رہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی 2018 کے اوائل میں بنی اور اسی سال ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لیکر اراکین اسمبلی کے لحاظ سے یہ بلوچستان کی سب سے بڑی جماعت بن گئی۔ اگرچہ اسمبلیوں کی حد تک یہ بلوچستان کی سب سے بڑی پارٹی تو بن گئی لیکن اس کی تنظیم سازی کی جانب کوئی توجہ نہیں دی گئی، یہاں تک کہ اس میں انٹرا پارٹی الیکشن بھی نہیں ہو سکے۔
انٹرا پارٹی الیکشن نہ ہونے پر الیکشن کمیشن نے پہلے پارٹی کے صدرکے طور پر جام کمال خان کو رواں سال 10 ستمبر اور دوسری مرتبہ 11نومبر کو نوٹسز جاری کیے۔ لیکن وہ اس کے باوجود انتخابات نہیں کرا سکے جس پر انھیں اب الیکشن کمیشن نے جام کو 18 جنوری 2022 کو ذاتی طور پر پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔ الیکشن کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے تو پارٹی انتخابی نشان کے لیے نااہل قرار دی جائے گی اور نتیجہ اس کی الیکشن میں نااہلی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ اگرچہ الیکشن کمیشن نے جام کمال کو صدر کے طور پر طلب کیا ہے لیکن پارٹی کی اکثریت انھیں صدر نہیں مانتی۔ پارٹی ترجمان سردار عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ شاید الیکشن کمیشن کے اہلکاروں کو جام کمال کے پارٹی کی صدارت سے استعفے کے اعلان اور اس کے نتیجے میں دوسرے صدر کے آنے کے بارے میں پتہ نہیں ہوگا، اس لیے انھوں نے پہلے ریکارڈ کی بنیاد پر جام کمال کو نوٹس جاری کر دیا ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ پارٹی کے نئے صدر اور وزیر اعلیٰ دونوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ انٹرا پارٹی الیکشن کی طرف جارہے ہیں اور پارٹی نے جس کو بھی صدر منتخب کیا وہی صدر ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جام کمال آئیں، الیکشن لڑیں۔ اگر وہ جیت گئے تو ہم انھیں تسلیم کریں گے اور اگر کوئی اور جیت گیا تو جام کو چاہیئے کہ انھیں تسلیم کریں۔
تاہم دوسری جانب باپ پارٹی کے رہنما سینیٹر انوار کاکڑ کا کہنا ہے کہ جام کمال ہی پارٹی کے آئینی اور قانونی صدر ہیں، اس لیے الیکشن کمیشن نے ان کو نوٹس جاری کیا۔ ان کا ماننا ہے کہ جام کمال نے پارٹی کی صدارت سے استعفے کا اعلان کیا، لیکن ساتھیوں کے مشورے پر انھوں نے اپنے فیصلے کو واپس لیا۔ اس لیے وہ پارٹی کے بدستور صدر ہیں اور پارٹی میں عبوری صدر کا کوئی تصور نہیں ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم انٹرا پارٹی الیکشن کرائیں گے اور جو بھی جیت گیا وہی پارٹی کا صدر ہو گا۔ واضح رہے کہ اختلافات کی وجہ سے پارٹی جام کمال کی قیادت میں متحد نہیں رہی بلکہ بعد میں پارٹی کے اراکین بلوچستان اسمبلی کی بغاوت کی وجہ سے انھیں وزارت اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔وزارت اعلیٰ کے عہدے سے مستعفی ہونے سے قبل انھوں نے یکم اکتوبر کو پارٹی کی صدارت کو چھوڑنے کا اعلان کیا اور پارٹی کے مرکزی آرگنائزر میر جان محمد جمالی اور سیکریٹری جنرل منظور کاکڑ کو کہا کہ وہ پارٹی کے انتخابات فوری طور پر کرائیں۔اس موقع پر انھوں نے ایک ٹویٹ کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ میں نے تین سال تک پارٹی کے صدر کی حیثیت سے اچھی خدمت کی اور آج پارٹی کی صدارت کو چھوڑ رہا ہوں۔ ان کی پارٹی کی صدارت کو چھوڑنے کے اعلان کے فوراً بعد ان کے مخالفین نے پارٹی کے رہنما اورموجودہ سینیئر وزیر میر ظہور بلیدی کو پارٹی کا صدر بنا دیا۔ لیکن جام کمال نے پارٹی کی صدارت چھوڑنے کے اعلان کے بارہویں روز پارٹی کی صدارت سے دستبرداری کے فیصلے کو یہ کہہ کر واپس لے لیا کہ پارٹی کے پارلیمیینٹرینز، ڈویژنز کے صدور اور اراکین نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ استعفیٰ نہ دیں، ۔اس لیے ان کے کہنے کے مطابق صدر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کو جاری رکھوں گا۔ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کی صدارت سے مستعفی ہونے کا ایک قانونی طریقہ ہے اور جب تک اسے اختیار نہ کیا جائے تو سابق پوزیشن برقرار رہتی ہے، اس لیے وہ صدر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کو جاری رکھیں گے۔اب الیکشن کمیشن کی جانب سے آنے والے خط کو اپنی صدارت کی سند کے طور پر استعمال کرتے ہوئے انھوں ظہور بلیدی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
