ایف ڈبلیو او کو سرخ گرے نائیٹ کا پہاڑ کاٹنے سے روک دیا گیا

سندھ کے ضلع تھرپارکر کی ایک عدالت نے پاک فوج کے ذیلی ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کو ننگرپارکر میں سرخ گرینائیٹ کے قیمتی پتھر والے کارونجھر پہاڑ کی کٹائی فوری روکنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ ایف ڈبلیو کی جانب سے ایک تاریخی سیاحتی مقام پر کیا جانے والا کٹائی کا عمل غیر قانونی ہے کیونکہ وزارت دفاع کی جانب سے اس پہاڑ کو کاٹنے کا کوئی این اور سی بھی پیش نہیں کیا گیا۔ سول جج اینڈ جوڈیشل مجسٹریٹ ننگرپارکر کرم علی شاھ نے مقامی اور بین الاقوامی قوانین، آئین پاکستان سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دے کر اپنا فیصلہ جاری کیا، جس میں انھوں نے فیض احمد فیض کے ان اشعار کا حوالہ بھی دیا:
’مِٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے
منصف ہو تو اب حشر اُٹھا کیوں نہیں دیتے‘
یاد رہے کہ یہ پہاڑ مٹھی سے 130 کلومیٹر دور قدیمی شہر ننگر پارکر میں واقع ہے۔ سرخ گرینائیٹ واکے پتھر کے اس پہاڑ کا رنگ سورج کی روشنی بدلنے کے ساتھ تبدیل ہوتا ہے۔ کارونجھر پہاڑ کی کٹائی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گزشتہ کئی ماہ سے #SaveKaroonjhar مہم جاری ہے۔ اس کے علاوہ ننگر پارکر سے لیکر اسلام آباد تک پہاڑ کی غیر قانونی کٹائی کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔ پہاڑ کی غیر قانونی کٹائی کے خلاف درخواست میں پاک فوج کے تعمیراتی ادارے ایف ڈبلیو او، کوہ نور ماربل انڈسٹری، سندھ پولیس، محکمہ جنگلی حیات، جنگلات، نوادرات اور ثقافت اور دیگر کو فریق بنایا گیا تھا۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ یہ پہاڑ ایک تاریخی سیاحتی علاقے میں واقع ہے جہاں سیاحوں کی ایک بڑی تعداد آتی ہے۔ لہذا کارونجھر کی کٹائی سے نہ صرف یہاں کی خوبصورتی، سیاحت اور ثقافت متاثر ہو رہی ہے بلکہ اسکے نہایت ۔نفی ماحولیاتی اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ ڈیموں میں پانی ان ہی پہاڑوں کے ذریعے جمع ہوتا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں ایف ڈبلیو او اور کوہ نور کمپنی کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ دعویٰ کرتے ہیں کہ قانونی طور پر یہ عمل جاری ہے جبکہ آپ نے لیز کے معاہدے، سروے رپورٹس، حدود یا اس کی شرائط سمیت کوئی اور دستاویز ظاہر نہیں کیں اور اس کے علاوہ محکمہ ماحولیات، محمکمہ جنگلی حیات، محکمہ ثقافت اور نوادرات اور پاکستان کی وزارت دفاع کا این او سی جو کام شروع کرنے سے پہلے لازمی شرط ہے، پیش نہیں کیا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس تباہ کن فعل پر آنکھیں بند کر کے نگرپارکر کے مکینوں کو خاموش اور بنیادی حقوق سے محروم کر کے ظالموں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا، ھکم میں کہا گیا کہ کہ پہاڑ کاٹنے کے اس عمل نے لوگوں میں عدم تحفظ اور بے یقینی کی کیفیت پیدا کردی ہے، یہاں تک کہ یہ مقامی لوگوں کی زندگی کے لیے بھی خطرہ بنا ہوا ہے اور یہ ہمہ گیر خوفناک منظر نامے کی خالص شکل ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے عدالت میں یہ حقائق بیان ہو چکے ہیں کہ ایف ڈبلیو او اور کوہ نور ماربل نے سٹون کٹنگ اور لفٹنگ پلانٹس لگائے ہیں۔ یہ پہاڑی سلسلہ سیاحت کا خالص مرکز ہے اور مقامی باشندوں کے لیے آمدنی اور ذریعہ معاش پیدا کرتا ہے۔
عدالت نے دونوں فریقین کو ہدایت کی ہے کہ اپنی مشنری سائیٹ سے ہٹائیں، جو ٹرک لوڈ ہیں انھیں خالی کیا جائے جبکہ پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ ضلع میں چیک پوسٹ لگاکر جہاں سے بھی سرخ پتھر لدا ہوا ٹرک نظر آئے اس کو آف لوڈ کیا جائے۔
خیال رہے کہ کارونجھر میں ہندو مذہب کے کئی استھان یعنی مقدس مقامات بھی موجود ہیں جن میں ایک کو سادہڑو گام کہا جاتا ہے جہاں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی موت کے بعد چتا جلائی جاتی ہے۔ بعض روایات کے مطابق مہا بھارت میں جب کوروں نے پانڈوؤں کو 13 سال کے لیے جلاوطن کیا تھا تو پانچ پانڈو بھائی اس پہاڑ پر آ کر بس گئے تھے اور ان کے نام سے پانی کے تالاب اب تک موجود ہیں۔
ننگرپارکر پہاڑ سے شہد اور جڑی بوٹیوں سمیت لکڑیاں حاصل کی جاتیں ہیں ایک کہاوت ہے کہ کارونجھر روزانہ سوا سیر سونا پیدا کرتا ہے۔ کارونجھر کے پہاڑ میں جین دھرم کے مندر بھی واقع ہیں جو بارہویں صدی میں قائم کیے گئے تھے، جبکہ انڈین باڈر کے قریب چامونڈکا ماتا کا مندر ہے جس کو چوڑیو بھی کہا جاتا ہے اور اسے پاکستان میں اپنی نوعیت کا واحد مندر کہا جاتا ہے۔
