سینیٹ اجلاس ، اپوزیشن کا شدید احتجاج، ہنگامہ آرائی

سینیٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن کا شدید احتجاج، چیئرمین کے ڈائس کا گھیرائو، قومی سلامتی پالیسی کا مسودہ پیش نہ کیے جانے پر حکومت کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔سینیٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن رکن سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ جس قومی سلامتی پالیسی کی منظوری دیدی، وہ صرف ایک کاغذ ہوگا، ایک جانب کاغذ کا ٹکڑا ہوگا، دوسری جانب زمینی حقائق کچھ اور ہوں گے۔
پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیریں رحمان نے اجلاس کے دوران موقف اپنایا کہ یہ کہاں کی سیکیورٹی پالیسی ہے جب اسٹیٹ بینک گروی رکھا جا رہا ہے، کونسی سیکیورٹی پالیسی جس میں آئی ایم ایف ملک کی اکانومی چلائے گا۔شیری رحمان کی تقریر کے دوران سینٹر محسن عزیز نے شور شرابہ کیا اور کہا کہ تقریر نہ کرے اپنا مدعا سامنے رکھیں جس پر شیری رحمان نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کا اعلان کر دیا۔
سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن کے واک آؤٹ کے اعلان کے بعد سینیٹ میں قائد ایوان شہزاد وسیم نے کہا کہ اپوزیشن میں ہمت ہے تو جواب سن کر جائے جس پر اپوزیشن اراکین ایوان میں رک گئے۔شہزادوسیم نے کہا کہ قومی سلامتی پالیسی کو قومی سلامتی کمیٹی میں پیش کیا گیا لیکن اپوزیشن نے ایوان کا بائیکاٹ کیا۔
سینیٹ رکن شہزاد وسیم نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں وردی والے نہیں آئے تھے، اس لیے اپوزیشن نہیں آئی تھی جب قومی سلامتی کمیٹی میں وردی والے ہوتے ہیں تو یہ بھاگے چلے آتے ہیں۔شہزاد وسیم کے بیان پر اپوزیشن نے ایوان میں احتجاج کیا، اپوزیشن اراکین چیئرمین سینٹ کے ڈائس کے سامنے احتجاج اور نعرے بازی کرتے رہے، جواباً حکومتی ممبران بھی اپنی نشستوں سے اُٹھے اور چیئرمین ڈائس کے سامنے پہنچے اور نعرے بازی کی۔

Back to top button