عمران نے پارٹی تنظیمیں توڑ کر ایک سنگین غلطی کیسے کی؟

پارٹی تنظیمیں توڑ کر ایک سنگین غلطی


خیبر پختونخوا الیکشن میں شکست کے بعد تحریک انصاف میں ہونے والی اکھاڑ پچھاڑ نے پارٹی کارکنوں کو مایوس کردیا ہے اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ شکست تو خیبرپختونخوا میں ہوئی تھی لیکن باقی تین صوبوں میں پارٹی تنظیمیں کیوں توڑ دی گئیں؟ عمران خان کی جانب سے شکست کے اصل محرکات کا پتہ چلا کر گورننس بہتر کرنے اور مہنگائی کم کرنے کی بجائے سابق قیادت کو ہٹانے اور نوواردوں کو پارٹی کی تنظیم سازی کے لیے اہم ترین عہدے سونپنے پر ورکرز پی ٹی آئی کے مستقبل سے یکسر مایوس نظر آتے ہیں۔
کے پی میں شکست کے بعد عمران خان کی جانب سے پرانا تنظیمی ڈھانچہ توڑ کر تگڑے وفاقی وزرا کو اہم تنظیمی عہدے دینے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی ورکرز کا کہنا ہے کہ یہ سب دکھاوا ہے جس کا پارٹی کو کوئی فائد نہیں بلکہ الٹا نقصان ہوگا کیونکہ وسطی پنجاب کے نئے صدر شفقت محمود اپنی شخصیت کے حوالے سے عثمان بزدار سے مختلف نہیں اعر ورکرز کے لئے مکمل اجنبی ہیں۔ سابقہ بیوروکریٹ ہونے کی وجہ سے وہ ویسے بھی پارٹی کارکنان سے ہاتھ ملانے کے بھی روادار نہیں۔ اسی طرح تین سال قبل آزاد منتخب ہو کر پی ٹی آئی کا حصہ بننے والے مخدوم خسرو بختیار نہ صرف نیب مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں بلکہ بار بار پارٹیاں بدلنے کی وجہ سے بھی بری شہرت رکھتے ہیں۔ ان کے والد بھی اسی طرح جماعتیں بدلا کرتے تھے لہذا لوٹا کریسی انہیں ورثے میں ملی یے۔ ایسے میں کے پی کے بعد پنجاب میں ہونے والے بلدیاتی اور عام انتخابات میں پی ٹی آئی کو انتخابی نتائج کی صورت میں زبردست دھچکہ لگنے کا خدشہ ہے۔
یاد رہے کہ عمران خان نے حال ہی میں ملک بھر میں اپنی پارٹی کی تنظیمیں توڑ دی ہیں اور اپنی چیئرمین شپ کے علاوہ تمام عہدوں پر نئے لوگ تعینات کردیے ہیں۔ تمام پرانے عہدیدران کو یک جنبش قلم فارغ کر دیا گیا ہے۔ ایسا تب کیا گیا جب خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کو خلاف توقع بلدیاتی انتخابات میں مولانا فضل الرحمان اور عوامی نیشنل پارٹی کے ہاتھوں شکست سے دو چار ہونا پڑا۔ عمران خان نے تنظیمی ڈھانچہ تحلیل کرنے کے بعد چاروں صوبوں میں پارٹی کے نئے صدور مقرر کر دیے ہیں جو اب نئے سرے سے جماعت کی تنظیم نو کریں گے۔ جماعت کا نیا سیکرٹری جنرل وفاقی وزیر اسد عمر کو بنا دیا گیا ہے جب کہ خیبر پختونخوا میں پرویز خٹک کو پارٹی کا صدر بنایا گیا ہے۔ پارٹی چیئرمین اور وزیر اعظم عمران خان نے وسطی اور شمالی پنجاب کے لیے شفقت محمود، جنوبی پنجاب کے لیے خسرو بختیار، بلوچستان کے لیے ڈپٹی سپیکر قاسم علی سوری اور سندھ کے لیے علی زیدی کو پارٹی صدر بنایا ہے۔
ایسے میں سوال کیا جا رہا ہے کہ اگلے مہینے خیبرپختونخوا میں بلدیاتی الیکشن کے دوسرے راؤنڈ سے پہلے اتنے وسیع پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کیا مناسب تھی اور کیا اس سے پارٹی کو فائدے کی بجائے مزید نقصان نہیں ہو جائے گا؟ تحریک انصاف پنجاب کے ایک سابق اعلی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ پارٹی میں اس وقت ہر ذی شعور شخص حیران ہے کہ اس نازک موقع پر تنظیم توڑنے کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟ اگر وجہ کے پی کے کا الیکشن ہے تو باقی تین صوبوں کی تنظیموں کا کیا قصور تھا جنہیں کی خیبرپختونخوا کی تنظیم کے ساتھ ہی تحلیل کر دیا گیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ میرے خیال میں تو کے پی کے کی تنظیم توڑنے کا فیصلہ بھی غلط ہے کیونکہ اگر ٹکٹ غلط تقسیم ہوئے تھے تو اس میں تو مرکزی قیادت کی مرضی بھی شامل تھی؟
عمران خان کے فیصلے سے نالاں پارٹی رہنما کہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی الیکشن میں ٹکٹس کی تقسیم کے لیے ایک بورڈ بنایا گیا تھا جس میں ایم این ایز اور ایم پی ایز شامل تھے جن کی سفارشات پر ٹکٹ جاری کیے گے لہذا جب پارٹی تنظیم نے ٹکٹ ہی جاری نہیں کیے تو ہار کی ذمہ داری ان پر کیسے عائد کی جا سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ اس وقت تحریک انصاف کو شکست صرف اور صرف بیڈ گورننس اور مہنگائی کی وجہ سے ہوئی اور خیبر پختون خوا کے تین وزراء ریکارڈ پر یہ بات تسلیم کر چکے ہیں، تاہم وزیراعظم خود کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ پنجاب میں بنائے گئے نئے دو صدور کے بارے میں ان کا خیال ہے تو ان کا کہنا تھا کہ یہیں سے آپ فیصلہ سازی کا اندازہ لگا لیں کہ وسطی پنجاب کے لیے شفقت محمود جیسے مردم بیزار بابو کا انتخاب کیا گیا ہے۔ ادھر جنوبی پنجاب میں خسرو بختیار کو صدر بنایا گیا ہے جس کو تحریک انصاف کا ورکر جانتا ہی نہیں۔ ویسے بھی اس خاندانی لوٹے کو تحریک انصاف میں آئے صرف تین سال ہوئے ہیں لیکن انہوں نے کبھی پی ٹی آئی ورکرز کے ساتھ ملاقات کی کوشش نہیں کی۔
جب تحریک انصاف کے سابق اعلی عہدیدار سے پوچھا گیا کہ ان کے نزدیک پارٹی تنظیم توڑنے کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ جہاں تک میرا ذاتی خیال ہے، پارٹی کی شکست کے بعد عمران کی جانب سے گونگلوں سے مٹی جھاڑنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ ورکرز کو مطمئن کیا جا سکے لیکن اس کا نتیجہ الٹ آئے گا اور پارٹی مزید کمزور ہو جائے گی۔ سیاسی تجزیہ کار بھی اس بات سے متفق دکھائی دیتے ہیں کہ حکمراں جماعت میں تبدیلیاں صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور وزیراعظم بتانا چاہتے ہیں کہ انہوں نے اس معاملے کا بھی نوٹس لے لیا ہے، حالانکہ وہ جس بھی معاملے کا نوٹس لیتے ہیں وہ اور زیادہ خراب ہو جاتا ہے۔ سنیئر تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کے مطابق ہم نے تو سیاسی تاریخ میں پہلی دفعہ دیکھا ہے کہ ایک صوبے میں شکست کا ملبہ باقی صوبوں پر ڈال دیا جائے جیسا کہ ابھی تحریک انصاف نے کیا ہے۔ بقول شامی اگر کے پی کے میں شکست ہوئی ہے تو اس میں پنجاب کی تنظیم کا کیا قصور ہے؟

Back to top button