جام کمال کی وزارت اعلیٰ آخری ہچکولے کھانے لگی

https://youtu.be/HFqsYUqvy9k
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان اپنے اقتدار کی ڈوبتی ناؤ کو بچانے کی آخری کوششوں میں مصروف ہیں جو کہ کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دیتیں۔ بلوچستان میں حکمران اتحاد کے اختلافات کے باعث سیاسی ڈیڈلاک برقرار ہے اور ناراض گروپ نے 24 گھنٹے کا الٹی میٹم ختم ہونے کے بعد اگلا قدم کابینہ سے استعفوں کی صورت میں اٹھایا ہے۔ چنانچہ کابینہ کے پانچ ارکان اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ 14 حکومتی اراکین پر مشتمل بلوچستان عوامی پارٹی یعنی باپ سے تعلق رکھنے والا ناراض گروپ وزیراعلیٰ جام کمال کے استعفے کے مطالبے پر ڈٹا ہوا ہے جبکہ جام ابھی تک مستعفی ہونے سے انکاری ہیں۔ لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جام کا جانا ٹھہر گیا ہے، صبح گیا یا شام گیا۔
جام کمال کو دیا گیا استعفے کا الٹی میٹم ختم ہونے کے بعد انکی کابینہ چھوڑنے والے وزراء میں وزیر خزانہ ظہور احمد بلیدی، وزیر خوراک عبدالرحمان کھیتران، اور وزیر سماجی بہبود اسد بلوچ شامل ہیں۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے محنت و افرادی قوت محمد خان لہڑی، مشیر برائے ماہی گیری حاجی اکبر آسکانی، پارلیمانی سیکریٹری اطلاعات بشری رند اور پارلیمانی سیکریٹری معدنیات سکندر عمرانی نے بھی عہدوں سے استعفی دے دیا ہے۔ انہوں نے گورنر ہاؤس جا کر گورنر بلوچستان ظہور احمد آغا کو اپنے استعفے پیش کیے۔ ظہور بلیدی نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ 40 حکومتی ممبران میں سے پندرہ اراکین  اسمبلی، وزراء اور مشیروں کی جانب سے بیڈ گورننس کی بنیاد پر حکومت سے راہیں الگ کرنے کے بعد جام کمال کی حکومت آئینی جواز کھو چکی ہے۔‘
دوسری طرف وزیراعلیٰ جام کمال ڈٹے ہوئے ہیں اور انکا کہنا ہے کہ وہ اپنے عہدے سے استعفی نہیں دیں گے کیونکہ حکومتی اتحاد کے اراکین کی اکثریت ان کے ساتھ ہے۔ جام کمال کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں صرف باپ نہیں بلکہ پانچ جماعتوں کی اتحادی حکومت ہے، اور انہیں اتفاق رائے سے وزیراعلیٰ بنایا گیا تھا۔ انکا کہنا ہے کہ پہلے دن سے ہی بلوچستان عوامی پارٹی کے پانچ لوگ ناراض تھے کہ وزیر اعلیٰ انہیں کیوں نہیں بنایا گیا، وہی لوگ آج بھی نالاں ہیں، اب مزید چھ سات لوگ اس گروپ میں شامل ہو گئے ہیں ۔ اسی دوران وزیراعلیٰ کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے ٹوئٹر پر دعویٰ کیا ہے کہ صوبے میں ناراض رفقا کے ساتھ 14جبکہ وزیراعلیٰ کے ساتھ 27 اراکین ہیں جو کہ اکثریت بنتی ہے، جمہوریت میں اقلیت اکثریت کی تابع ہوتی ہے لہٰذا دوستوں سے گزارش ہے کہ اکثریت کا ساتھ دیں، تحفظات دور کریں گے۔
میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ناراض صوبائی وزیر اسد بلوچ کا کہنا تھا کہ اب جام کمال کے ساتھ بیٹھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور یہ واضح ہے کہ انہیں گھر جانا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ اگر استعفیٰ نہیں دیتے تو پھر وہ اپنا آئینی و قانونی حق استعمال کریں گے اور دوری عدم اعتماد کی تحریک لائیں گے۔ اسد بلوچ کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس نمبرز پورے ہیں اور 40 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ یوں ایک ہفتے میں نئی حکومت آ جائے گی اور پھر ہم سب مل کر نیا وزیراعلیٰ لے آئیں گے۔ خیال رہے کہ بلوچستان میں بحران تب پیدا ہوا جب 14 ستمبر کو متحدہ حزب اختلاف نے وزیراعلیٰ جام کمال کے خلاف صوبائی اسمبلی سیکریٹریٹ میں تحریک عدم اعتماد جمع کرائی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومتی اتحاد کے کئی اراکین بھی ان کے ساتھ ہیں اس لیے وہ عدم اعتماد کے ذریعے وزیراعلیٰ کو ہٹانے میں کامیاب ہو جائیں گے، تاہم گورنر بلوچستان نے عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کے لئے اسمبلی اجلاس طلب کرنے کی سمری کو تکنیکی وجوہات کی بنا پر مسترد کر دیا۔
اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک لانے کی کوشش ناکام ہونے کے بعد بلوچستان عوامی پارٹی اور حکومتی اتحاد میں اختلافات کھل کر سامنے آ گئے اور  سپیکر عبدالقدوس بزنجو، سردار صالح بھوتانی، اکبر آسکانی، عبدالرحمان کھیتران اور ظہور بلیدی کی قیادت میں بلوچستان عوامی پارٹی کے11 اراکین، اتحادی جماعت بی این پی عوامی کے دو اور تحریک انصاف کے ایک رکن نے وزیراعلیٰ کی کھل کر مخالفت کرتے ہوئے ان پر استعفے کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔  چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کی سربراہی میں باپ پارٹی کی مصالحتی کمیٹی اور اسلام آباد سے اہم شخصیات نے کوئٹہ آ کر ناراض ارکان کو منانے کی کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہو سکے۔ اس وقت بلوچستان اسمبلی کے 65 ارکان میں سے 40 ارکان حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں جن میں بی اے پی کے 24، پی ٹی آئی کے سات، اے این پی کے چار، بی این پی عوامی اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے دو دو اور جمہوری وطن پارٹی کا ایک رکن شامل ہے۔  جبکہ جمعیت علمائے اسلام، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور آزاد رکن نواب اسلم رئیسانی پر مشتمل اپوزیشن اتحادکے پاس 23 ارکان ہیں۔ دو ارکان نواب ثناء اللہ زہری اور سید احسان شاہ حکومت اور نہ ہی اپوزیشن کی صف میں شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپنی ہی جماعت اور اتحادی جماعتوں کے اراکین کے ایک بڑے گروپ کی جانب سے کھلم کھلا مخالفت کی وجہ سے وزیراعلیٰ جام کمال کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے اور ان کی وزارت اعلی بچ جانا ایک معجزے سے کم نہیں ہوگا کیونکہ اگر 14 ارکان پر مشتمل یہ گروپ اپوزیشن کے ساتھ مل کر وزیراعلیٰ کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹانا چاہے تو ان کے پاس سادہ اکثریت موجود ہے ۔

Back to top button