جاوید میاں داد نے اللہ سے لو لگالی، دنیا داری چھوڑ دی

دنیا کے بڑے بڑے بولرز کو تگنی کا ناچ نچانے والے 62 سالہ بیٹسمین جاوید میانداد نے دنیا داری چھوڑ کر اب درویشی کا چوغہ پہن لیا ہے۔ فلک شگاف چھکے مارنے والا میانداد اب گلیوں کا روڑ کوڑہ بن کے فقیروں کی خدمت میں مصروف ہو گیا ہے۔ اطلاع ہے کہ جاوید میانداد کراچی سے باہر مقیم کسی درویش کے پاس باقاعدگی سے حاضری کے لیے جاتے ہیں اور ان سے فیض پاتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی شارجہ کے ہیرو جاوید میانداد کا نام سرفہرست ہوگا۔ اپنے بیس سالہ کرکٹ کرئیر میں کپتان بننے کے بعد اندرونی سازشوں کا مقابلہ کرنے والے میانداد نے پلیئرز پاور کی وجہ سے کھڈے لائن لگنے کے بعد ریٹائرمنٹ لی۔ بعد ازاں انہوں نے کرکٹ ٹیم کی کوچنگ بھی کی لیکن ان کی کبھی بھی کرکٹ بورڈ حکام سے نہ بنی سکی۔
اب میانداد دنیا کی بے ثباتی سے مایوس ہوکر عملی کرکٹ سے مکمل طور پر ناطہ توڑتے ہوئے میانداد روحانی دنیا میں داخل ہوچکے ہیں لیکن میانداد چاہے دنیا تیاگ کر صوفی ازم کا راستہ اختیار کر لیں، لوگ ان کے بارے میں اب بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔ کرکٹ کی گلیمر زدہ دنیا کو خیرباد کہنے بعد جاوید میانداد کی زندگی میں تبدیلی کیسے آئی، اس کا تو کسی کو علم نہیں مگر میاں داد کی باتوں اور سرگرمیوں سے واضح طور پر یہ پتہ چلتا ہےکہ وہ روحانی دنیا میں داخل ہو چکے ہیں۔
کبھی وہ حضرت عبداللہ شاہ غازی کے مزار اقدس پر لوگوں کے جم غفیر کے ہمراہ درود و سلام پڑھتے نظر آتے ہیں تو کبھی اولیاء اللہ کے آستانوں پر مناجات میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ جس خلوص اور دردِ دل کے ساتھ وہ درود پاک پڑھ رہے تھے ایسا لگ رہا تھا کہ ان کے دل کا رشتہ اس دنیا سے نہیں ہے بلکہ کہیں اور ہی اٹکا ہوا ہے۔
حال ہی میں کسی نے جاوید میانداد کو اوکاڑہ کے قریب واقع شیر گڑھ کے گاؤں سے اس حالت میں آتے دیکھا کہ ماضی کے سٹار کرکٹر نے سادہ شلوار قمیص اور چپل پہن رکھی تھی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کہاں سے آ رہے ہیں تو جاوید میانداد کے ایک ساتھی نے بتایا کہ ان سے ایک فقیر کئی ماہ پہلے داتا دربار لاہور میں ملا تھا جس نے جاوید میاں داد کا دامن پکڑ کر کہا تھا کہ میری موت کے بعد میری قبر اور مزار تم بنواؤ گے۔
میانداد کو کچھ عرصے بعد اطلاع ملی کہ وہ فقیر گزر گیاہے اور شیر گڑھ میں دفن ہے۔ میانداد وہاں پہنچے تو مجاور نے بتایا کہ مرنے سے پہلے فقیر بابا بتا گئے تھے کہ میانداد آئے گا اور میری قبر بنوائے گا۔ کہتے ہیں کہ نامعلوم فقیر کی قبر بنوا کر جاوید میانداد بہت خوش تھے کہ انہوں نے اپنے وعدے کے مطابق فرض ادا کر دیا۔
یاد رہے کہ میانداد نے عین شباب میں ارب پتی سہگل خاندان میں شادی کی۔ 1981 میں طاہرہ سہگل سے شادی کے بعد سے دولت جاوید میانداد کے گھر کی باندی رہی ہے۔ میانداد نے اپنے بیٹے کی شادی ٹائیگر میمن کے نام سے مشہور انڈرولڈ ڈان داؤدابراھیم کی بیٹی کے ساتھ کی۔ یوں انہیں دولت سمیٹنے کی ذرا فکر نہیں، الٹا وہ اس سے اچاٹ نظر آتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ لاہور میں کسی سپیشل بچے نے جاوید میانداد کے ساتھ تصویر بنوانے کی فرمائش کی تو میانداد نے خوشی خوشی نہ صرف بچے کے ساتھ تصویر بنوائی بلکہ عجیب سی بولی میں اس کے ساتھ کافی دیر تک باتیں بھی کرتے رہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ اس بچے کے ساتھ کیا لا یعنی گفتگو کر رہے تھے تو بولے، ان لوگوں کی ایک اپنی دنیا ہے، ان کی اپنی زبان ہے۔ میں اس بچے کے ساتھ اسی کی زبان میں گفتگو کر رہا تھا۔ پھر تھوڑا توقف کرکے سنجیدگی سے گویا ہوئے کہ دنیا کا نظام یہی چلا رہے ہیں، یہ روحانی دنیا کے لوگ ہیں، اصل میں دنیا چلاتے ہیں۔
یاد رہے کہ روحانی دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے میاں داد نے بھرپور کرکٹ کیریئر کو انجوائے کیا۔ انہوں نے نہ صرف جی بھر کر کرکٹ کھیلی بلکہ کوچنگ بھی کی اور کرکٹ تجزیہ کار کی حیثیت سے تو اب بھی متحرک نظر آتے ہیں۔ 1976 میں نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ کرکٹ کھیل کر اپنے ٹیسٹ کیرئیر آغاز کرنے سے پہلے 1975 میں وہ پہلا ورلڈ کپ کھیل چکے تھے۔ جاوید میاں داد کا آغاز ہی عوامی تھا۔ کراچی جمخانہ گراؤنڈ سے ابتدا کرنے والے جاوید کم عمری میں ہی بڑے شاٹس کھیلنے کے لیےمشہور ہوگئے تھے۔ جب مشتاق محمد کی سفارش پر ان کو موقع ملا تو انہوں نے مایوس نہیں کیا۔ پہلے ہی ٹیسٹ میں سنچری نے کرکٹ کے حلقوں کو متوجہ کردیا اور وہ پاکستان کے پہلے کھلاڑی بن گئے جس نے اپنی پہلی سیریز میں ڈبل سنچری بنا ڈالی۔
نوجوانی اور پھر مزاج میں تفریح کا عنصر میاں داد کے سینئیر کھلاڑیوں کو بہت گراں گزرتا تھا۔ کئی مواقع پر جاوید کو ان کاتعاون بھی نہیں مل پاتا تھا، لیکن وہ کسی کے دباؤ میں نہ آتے تھے اور جہاں کمی پڑتی خود ہی اس کو پورا کر لیتے۔ ملبورن ٹیسٹ میں جاوید میانداد نے جہاں بہترین کپتانی کی وہیں ان کا ڈینس للی کے ساتھ تنازع بھی خوب مشہور ہوا، جہاں کینگرو کے انداز میں ان کی چھلانگوں نے ڈینس للی کو اتنا مشتعل کیا کہ وہ مارنے کو دوڑے، جس کے جواب میں جاوید نے بھی بلا اٹھا لیا۔
جاوید میانداد کی شخصیت کا ایک اہم رخ یہ ہے کہ وہ انتقام پر یقین نہیں رکھتے۔ میاں داد ہمیشہ پورے جوش اور جیت کے جذبے سے کھیلے ہیں۔ کئی ایسے میچز اور سیریز بھی کھیلیں جن میں انہوں نے جوانمردی سے بیٹنگ کرکے پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔1988 کا ویسٹ انڈیز کا دورہ اس کی ایک مثال ہے جہاں انہوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اپنے جسم پر گیندیں روکتے رہے لیکن ہمت نہ ہاری۔
جاوید میاں داد کو اپنے کھیل اور بیٹنگ کی مہارت پر بہت اعتماد تھا، اسی لیے وہ دنیا کے تیز ترین بولرز کو ہیلمٹ کے بغیر کھیلتے رہے۔ ہیلمٹ کا استعمال انہوں نے اس وقت شروع کیا جب ڈینس للی کی ایک گیند انہیں سر کے پیچھے لگی اور وہ بے ہوش ہوگئے۔ جاوید میاں داد کی تکنیک بھی خود ساختہ تھی۔ وہ شارٹ پچ گیندیں بھی فرنٹ فٹ پر کھیلنے کا ہنر جانتے تھے۔ ان کے کچھ اصول تھے، وہ کبھی سپنر کو سیدھا شاٹ نہیں مارتے تھے اور نہ ہی مس فیلڈ پر رنز لیتے تھے۔
ان کی ایک صلاحیت ایسی تھی جس سے دوسرے بولرز اوربیٹسمین پریشان ہوجاتے تھے۔ وہ ان کی ہر وقت بولنے کی عادت تھی۔ وہ جب بیٹنگ کرتے تھے تو مخالف بولر کو تنگ کرتے تاکہ وہ غصہ میں آجائے اور غلط بولنگ کرے اور فیلڈنگ کرتے وقت مخالف بلے باز کو اپنے فقروں سے اتنا تنگ کرتے کہ وہ عاجز آجاتا اور اپنی لائن اور لینتھ کھودیتا۔
1996 کے ورلڈکپ میں بھارت سے آخری میچ کے بعد جاوید میاں داد بالآخر ریٹائر ہوگئے۔ میانداد ایک عظیم کرکٹر اور حب الوطنی کے جذبے سے سرشار شخص ہیں۔ ان کی خوبی یہ ہے کہ وہ لگی لپٹی نہیں رکھتے اور اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کرتے ہیں۔ ان کی مہارت اور تجربے کا پاکستان میں کوئی ثانی نہیں۔ وہ بیٹنگ میں کئی نئی تکنیکس کے بانی بھی سمجھے جاتے ہیں۔ ریورس سوئپ اگرچہ مشتاق محمد کی ایجاد ہے لیکن جاوید میاں داد نے اس میں جدت پیدا کی اور اس کو آج کی کرکٹ کا اہم حصہ بنادیا ۔
اس قدر خدمات اور شاندار کیریئر کے باوجود جاوید میاں داد کو نہ تو اس کا صلہ مل سکا اور نہ ہی ان کے تجربے اور مہارت کا فائدہ اٹھایا جاسکا۔ ان سے جونیئر اور کم مہارت کے کھلاڑی کوچ اور سیلیکٹر بنتے رہے اور فائدے اٹھاتے رہے لیکن دنیائے کرکٹ کا یہ عظیم بلے باز گھر پر بیٹھ کر کڑھتا رہا۔ لٹل ماسٹر سنیل گواسکر نے ایک دفعہ کہا تھا کہ اگر جاوید کسی مغربی ملک میں ہوتے تو اب تک اپنے جیسے سینکڑوں بلے باز تیار کردیتے لیکن ان کی بدقسمتی کہ وہ برصغیر میں ہے جہاں کرکٹ مہارت نہیں تعلقات پر چلتی ہے۔
15 سال گراؤنڈ اور ڈریسنگ روم میں ساتھ وقت گزارنے والے عمران خان کے وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی اگر میانداد کے کرکٹ کے تجربے اور مہارت سے فائدہ نہ اٹھایا جاسکے تو پھر ایک ہی سوال ذہن میں آتا ہے کہ آخر یہ دنیا والے جاوید سے خوش کیوں نہیں ہیں۔ تاہم دوسری طرف اب صورتحال یہ ہے کہ میاں داد کو دنیا کی کوئی پروا نہیں رہ گئی اور وہ دنیا داری کو خیر باد کہہ کر اپنے اللہ سے لو لگا چکے ہیں۔
