جب ریاست اپنی رٹ خود تباہ کرے تو ملک کا کیا ہوگا؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار سید طلعت حسین نے کہا ہے کہ ایک زمانے میں ملک میں سیاسی تبدیلی لانے کے لیے کوئی خاص پاپڑ نہیں بیلنے پڑتے تھے۔ اگر کسی سویلین حکومت کی ادا پسند نہیں آتی تھی تو وزیراعظم تبدیل کر کے کسی دوسرے کو خدمت کا موقع دے دیا جاتا تھا۔ تاہم وزیر اعظم نواز شریف کے پچھلے دور میں تبدیلی لانے کا طریقہ کار مکمل طور پر تبدیل کر دیا گیا۔ اسٹیبلشمنٹ نے کان سے پکڑ کر وزیراعظم کو نکالنا کافی نہیں سمجھا اور اسے شدت پسندوں کے سامنے ڈال دیا جنہوں نے فتووں کا ڈھیر لگا دیا۔ اسٹیبلشمنٹ نے وزیر اعظم کو ذلت و رسوائی کا شکار کر کے نشان عبرت بنانے کی ٹھان لی تھی۔ شاید سوچ یہ تھی کہ ذات کی تباہی سے کہیں زیادہ موثر ساکھ کی تباہی ہوتی ہے۔ یوں عمران خان اور نئے پاکستان کے لیے میدان صاف ہو گیا۔ میاں نواز شریف کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے نہ کسی کو ٹھڈا مارنا پڑا، نہ ہی کسی جلاد کو زحمت دینا پڑی، نہ کسی آئینی بحث میں الجھے گیا، نہ ٹینک بھیجنے پڑے، نہ ہی دیواریں پھلانگی گئیں۔ سب کچھ خاموشی اور آسانی سے ہو گیا۔ لیکن اسکا ایک برا نقصان یہ ہوا کہ اپنے مخالفین کو خوار کرتے ہوئے ریاست کی عزت اور اس کی رٹ کا بھی کچومر نکال دیا گیا۔ ایسا کرنے والے طاقتور لوگوں اور اداروں نے یہ بھی نہیں سوچا گیا کہ شدت پسندوں کے فتوؤں کا سیلاب بے قابو ہو کر کل انکے اپنے گھروں میں بھی داخل ہو جائے گا۔ آج پاکستان میں جو لوگ ریاست کی مسخ شدہ رٹ بحال کرنے کی بات کر رہے ہیں ان کو ادراک ہو چکا ہے کہ اب وہ اپنے لائے ہوئے سیلاب کی زد میں ہیں۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں طلعت حسین کہتے ہیں کہ 50 کی دہائی میں وزیراعظم کی کرسی گھوم گھوم کر چکرا گئی تھی۔ ہر چھ ماہ بعد اس پر کوئی نیا چہرہ نظر آتا۔ اس طریقے کا فائدہ یہ تھا کہ ایک آدھ دھکہ ہی نتائج حاصل کرنے کے لیے کافی ثابت ہوتا۔ نہ توانائی صرف ہوتی اور نہ وقت ضائع ہوتا۔ دوسرا طریقہ زیادہ جامع مگر پھر بھی سہل تھا۔ ناپسندیدہ حکمرانوں کے خیمے اکھاڑ کر اپنا محل تعمیر کر لیں، ایوب خان نے یہی کیا۔ پہلے دوسروں کے ذریعے کھیلتے رہے پھر ان کو ہٹا کر خود سے کھیلنا شروع کر دیا۔ وہ تو بیماری نے آن لیا ورنہ عین ممکن ہے کہ ابھی تک کھیل رہے ہوتے۔ ہمارے ہاں منہ میں دانت رہے نہ پیٹ میں آنت مگر کرسی چھوڑنے کا دل نہیں کرتا۔
بقول طلعت حسین، جنرل ضیا الحق اس طریقے میں جدت لائے۔ خود کو طاقت میں لانے کے ساتھ ساتھ تمام سیاسی خطرات کی گردن بھی مروڑ دی۔ مزید تبدیلی یہ کی کہ لسانی اور مذہبی بنیادوں پر ملک کو دھڑوں میں بانٹ دیا۔ سب آپس میں لڑتے رہے اور مرد حق مزے کرتے رہے۔ ان کے بعد یہ سوچا گیا کہ خون خرابا زیادہ ہو گیا ہے، آئین میں ایک پرزہ ایسا لگا دینا چاہیے جس سے تمام واردات مکمل طور پر قانونی لگے۔ آٹھویں ترمیم مرحوم غلام اسحاق خان نے ایسے چلائی کہ جیسے بچے پھلجھڑیاں چلاتے ہیں، جب دل میں آتا حکومت رخصت کر دیتے، وزیراعظم برطرف کر دیتے اور نئے انتخابات کے ذریعے ایک اور شکار کو اپنے نشانے پر لے آتے۔ وہ بھی اللہ کو پیارے ہو گئے ورنہ شاید اب بھی ہمارے محبوب صدر کے طور کسی نہ کسی آئینی ترمیم کے ذریعے ضرور موجود ہوتے۔ بہرحال مرحوم سردار فاروق خان لغاری نے غلام اسحاق کے ایک اچھے شاگرد ہونے کا اعزاز حاصل کیا اور آٹھویں ترمیم کے ذریعے وہ سب کچھ کیا جو ایوب خان نے بوٹ اور ضیا الحق نے پھانسی گھاٹ کے ذریعے کیا۔
طلعت حسین کہتے ہیں کہ اگلے مرد آہن جنرل پرویز مشرف نے تبدیلی کا نیا ایڈیشن جاری کیا۔ جس میں انہوں نے خود کو ایک بین الاقوامی نظریاتی جنگ میں مسیحا کے طور پر متعارف کروایا۔ ملک میں اچھے اور برے نظریے کی لکیر کھینچی اور اپنے ساتھ ان تمام جماعتوں کو ملا لیا جو طویل سیاسی یتیمی کے باعث دربدر کی ٹھوکریں کھا رہی تھیں۔ جو نہیں مانے ان کا بازو موڑ کر محب وطن یعنی ’پٹریاٹ‘ بنا دیا۔ زیادہ پیچیدہ سیاسی معاملات کو بیرونی امداد سے طے کیا اور پہلی مرتبہ پاکستانی سیاست میں جلاوطنی کے تصور کو متعارف کروایا۔ یوں ان کے دور میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو دونوں جلاوطن ہوئے۔ مشرف دور میں دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک ایسی چابی کے طور پر استعمال کی گئی جس سے ہر سیاسی تالا باآسانی کھول دیا جاتا۔ اور جس دھات سے یہ کنجی بنائی گئی اسی سے ہتھکڑیاں اور بیڑیاں ڈھالیں جو میڈیا کے ہاتھوں اور عدلیہ کے پاؤں میں بلاخوف و خطر کس دی گئیں۔
طلعت حسین کہتے ہیں کہ تبدیلی کے لیے جنرل مشرف کا رائج کردہ طریقہ کار سب سے پیچیدہ اور مشکل تھا۔ مگر چونکہ وہ بش کے لاڈلے تھے لہذا بیرونی امداد نے ان کی طاقت بھی بچائی اور آخر میں جان بھی۔ لیکن دور حاضر میں سیاسی تبدیلی لانے، مخالفین کو دیوار سے لگانے اور مزے اڑانے کا ماڈل ماضی کے تمام تجربات سے کہیں زیادہ مشکل اور خطرناک ہے۔ نجانے وہ کون سا موڑ تھا جب ہمارے ناخداؤں نے آسان راستے چھوڑ کر نئے طریقوں کو اپنا لیا یعنی کان سے پکڑ کر نکالنے کو ناکافی سمجھتے ہوئے مخالفین کو مکمل طور پر ذلت و رسوائی کا شکار کر کے عبرت کا نشان بنانے کی ٹھانی۔ طلعت کہتے ہیں کہ ظاہر ہے یہ کام ہاتھ سے نہیں ہوتا، اس کے لیے فتوؤں کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہذا نواز شریف کے خلاف شدت پسندوں سے رنگ برنگے فتوے لیے گئے، شاید یہ سمجھا گیا ہو کہ ذات کی تباہی سے کہیں زیادہ موثر ساکھ کی تباہی ہے۔ شاید یہ سوچ بھی آئی ہو گی کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی لگانے سے بہتر تھا کہ اس کو ذاتی طور پر صفر کر دیا جاتا، اس کو بدعنوان، بھارت کا دوست یا بےعقیدہ قسم کا شخص بنا کر جلا وطن کر دیا جاتا تو وہ آج شہادت کے رتبے پر فائز نہ ہوتے۔ بقول طلعت حسین، ایسا نہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو جیسے سیاست دانوں کے بارے میں ایسے فتوے صادر نہیں کیے گئے، یقینا کیے گئے لیکن ایسا ایک بڑے لائحہ عمل کے ایک جزوی پلان کے طور پر کیا گیا۔ تاہم موجودہ دور میں اصل پلان ہی فتوؤں کی مار مارنا ہے۔ ایسے فتوے جو صرف علما کی طرف سے ہی جاری نہ کیے جائیں بلکہ ہر گلی محلے کے لاوڈ سپیکر سے بار بار دہرائے جائیں۔ ایسا کرنے کے لیے ایسی تنظیموں کی ضرورت پڑی جو بیچ چوراہے کھڑے ہو کر سیاسی قیادت کے عقائد کو کیچڑ میں تبدیل کر دیں۔ 2014 سے پاکستان میں دھرنوں کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ اس لائحہ عمل کی ایک عملی شکل تھی۔ اس کاوش کو بانتیجہ کرنے کے لیے کسی کو کینیڈا سے بلوایا اور کسی کو مرید کے سے۔ سب نے مل کر سڑکیں بند کیں، سینکڑوں ٹی وی کیمروں کے ذریعے کروڑوں عوام تک اپنے فتوؤں کی بوچھاڑ پہنچائی، چنانچہ مخالفین، ان کی حکومت، اور سب کچھ اس طوفان نے بہا دیا۔ یوں نئے پاکستان کے لیے میدان صاف ہو گیا۔
تاہم طلعت حسین کہتے ہیں کہ ایسا کرتے ہوئے ریاست کی پاکستان کی عزت اور اس کی رٹ کا کچومر نکال دیا گیا۔ یہ نہیں سوچا گیا کہ فتوؤں کا سیلاب بے قابو ہو کر ان کے گھروں میں بھی داخل ہو جائے گا جو بڑی فصیلوں کے پیچھے رہتے ہیں۔آج جو لوگ ریاست کی مسخ شدہ رٹ کی بحالی کی بات کر رہے ہیں ان کو ادراک ہو گیا ہے کہ اب وہ اپنے بنائے ہوئے سیلاب کی زد میں ہیں۔ لیکن اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔
