ججز کو بلاسود قرض کی فراہمی تنقید کی زد میں کیوں؟

پنجاب کی نگراں حکومت کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کے جج صاحبان کیلیے بلا سود قرضوں کی منظوری و اجرا پر ملکی ذرائع ابلاغ ہی نہیں، عالمی سطح پر بھی بحث جاری ہے اور اس اقدام کو عالمی اصولوں کی نفی، عدلیہ کے وقار پر سوالیہ نشان، ججوں کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، اقربا پروری، اختیارات کے غلط استعمال اور امتیازی سلوک قرار دے کر تنقید کی جارہی ہے۔ جبکہ اس قرض کا اجرا روک کر ایسے عمل سے اجتناب برتنے کے مطالبات بھی سامنے آرہے ہیں۔
واضح رہے کہ اس فیصلے کیخلاف عدالت عالیہ میں ایک پٹیشن بھی دائر کردی ہےجبکہ مستقبل میں یہ معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں بھی زیر بحث آنے کا امکان دکھائی دے رہا ہے۔
خیال رہےکہ حال ہی میں نگراں صوبائی کابینہ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے خزانہ نے اعلیٰ عدلیہ کے گیارہ جج صاحبان کو بلا سود قرض جاری کرنے کی منظوری دی ہے۔ اس دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ دو جج صاحبان پہلے ہی بلا سود قرض حاصل کرچکے ہیں۔اس بلا سود قرض پر وکلا تنظیموں میں تو شدید ردِ عمل سامنے آیا ہی۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ عدلیہ کا حصہ رہنے والی شخصیات بھی انگشت بدنداں ہیں اور اسے عوام کا عدلیہ پر اعتماد متزلزل کرنے کی سازش قراردیتی ہیں۔ ’’امت‘‘ سے آف دی ریکارڈ گفتگو کرتے ہوئے سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے چار سے پانچ ریٹائرڈ جج صاحبان نے گفتگو کے دوران اس اقدام کو ججز کے منصب کے تقدس اور اس پر اعتماد کے انحطاط کی آخری سطح قرار دیا اور کہا کہ، جب منصفین ہی اس ڈگر پر چل نکلیں گے تو باقی معاشرے میں سماجی برائیوں کی روک تھام کی سوچ ہی دم توڑ دیتی ہے۔
ادھر پاکستان بار کونسل نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ ججز کو بلاسود قرض فراہمی کا یہ عمل غیر اخلاقی اور غیر قانونی ہے۔ سرکاری خزانے کو بدترین معاشی حالت میں بہت نقصان پہنچا ہے۔ عوامی وسائل سے قرضے کی منظوری کا عمل جائز نہیں۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ غریبوں سے قرضوں پر بیس سے پچیس فیصد وصول کیا جا رہا ہے، جبکہ ججز تنخواہوں اور مراعات کے ساتھ بلا سود قرض لے رہے ہیں۔ ان کیلئے قرضوں کا یہ عمل ضابطہ اخلاق کے خلاف ہے۔ جج صاحبان کیلئے بلا سود قرضوں کا اجرا، امتیازی سلوک اور عدم مساوات ہے۔ لہٰذا صوبائی نگراں حکومت نوٹیفکیشن واپس لے۔
دوسری جانب نگران حکومت کے مطابق ماضی میں بھی ججز کو بلاسود قرضے دیے جا چکے ہیں جس کا ایک مقصد انھیں ’کرپشن سے دور رکھنا ہے۔‘پنجاب کے نگران وزیر اطلاعات عامر میر نے بتایا کہ یہ قرضے ججز کی تین برسوں کی تنخواہوں کے برابر ہیں جو کہ 12 سال کی مدت میں ان کی تنخواہوں سے ہی منہا کر لیے جائیں گے۔انھوں نے بتایا ہے کہ ’ججوں کی قرضوں کے لیے درخواستیں لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے آئی تھیں جنھیں روٹین کے مطابق پنجاب کابینہ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے خزانہ نے منظور کر لیا۔‘عامر میر کا کہنا ہے کہ ’ججز کے لیے گھروں کی تعمیر کے لیے سود سے پاک قرضوں کی منظوری کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ایسا ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے۔’یہ وہ 11 جج حضرات ہیں جو قرضے لینے سے رہ گئے تھے۔ لاہور ہائی کورٹ کے باقی تمام ججز ماضی میں گھر بنانے کے لیے مختلف حکومتوں سے سود فری قرض حاصل کر چکے ہیں۔ ان 11 ججوں نے بھی یہی مؤقف اختیار کیا تھا۔‘صوبائی نگران وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ ’ججوں کو سود فری قرضے دینے کا ایک بڑا مقصد انھیں کرپشن سے دور رکھنا بھی ہے تاکہ وہ اپنے وسائل سے ہی اپنی سروس کے دوران گھر بنانے کے قابل ہو جائیں۔‘
دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی سیکریٹری صباحت رضوی کی رائے میں ججز پہلے ہی بڑی تنخواہیں اور مراعات وصول کر رہے ہیں تو ایسے میں یہ بلاسود قرض بھی ’بظاہر بدعنوانی کی ایک قسم ہے۔‘انھوں نے کہا کہ یہ مراعات ایک ایسے وقت میں دی جا رہی ہیں جب عوام مہنگائی کے باعث دب چکے ہیں اور حکومت بجلی کی قیمتیں بڑھاتی چلی جا رہی ہے مگر دوسری طرف ’ہماری اشرافیہ کو مالی طور پر مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔‘
ججز کو بلاسود قرض دیے جانے کے خلاف نہ صرف وکلا تنظیموں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی حیرت کا اظہار کیا گیا ہے۔صحافی عادل شاہزیب نے لکھا کہ ’انڈسٹریز اور کاروبار 25 فیصد سود کی وجہ سے دیوالیہ ہو کر بند ہو رہے ہیں لیکن پنجاب حکومت ججز کو بلا سود قرضہ دی گی واہ! جو غلط ہے اس کو ٹھیک کرنے کا پہلا اصول یہ ہے کہ نئی غلطیاں نہ کریں، اس ملک پر رحم کریں۔‘
اداکارہ نادیہ جمیل نے سوال کیا کہ ’کیا سینیٹیشن ورکر یا سکیورٹی گارڈ بھی 371 ملین روپے کا بلاسود قرض حاصل کر سکتا ہے؟‘
جبکہ سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر پوچھتے ہیں کہ ’ججز کے لیے بلاسود قرض، طاقتور ادارے کے لیے ریٹائرمنٹ کے بعد 90 ایکڑ زمین، سینیٹ چیئرمین اور سابق چیئرمین کے لیے بڑی مراعات۔ یہ سب ایلیٹ کیپچر ظاہر کرتا ہے۔‘
