جج سکینڈل میں کون لوگ اور کونسا ادارہ پھنسنے والا ہے؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار جاوید چودھری نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم کے حلف نامے میں لگائے گئے الزامات سے ایک نیا پنڈورا بکس کھل چکا ہے۔ اس سکینڈل کی لپیٹ میں کون کون سا شخص اور کون کون سا ادارہ آئے گا، یہ تو سوچ کر بھی نیند اڑ جاتی ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ یہ حلف نامہ حیران کن بھی ہے اور عدلیہ کی ساکھ کے لیے خطرناک بھی تاہم اس میں چند تشنہ سوالات بھی موجود ہیں اور یہ سوالات مستقبل میں بار بار اٹھائے جائیں گے مثلاً رانا شمیم نے یہ حلف نامہ پاکستان کی بجائے لندن میں کیوں دیا؟ میاں نواز شریف کے کاغذات اور رانا شمیم کے حلف نامے کا نوٹری پبلک ایک کیوں ہے؟ جولائی 2018 میں میاں صاحب کی ضمانت کا کیس جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس میاں گل حسن اورن گزیب کا بینچ کیس سن رہا تھا، جس جج صاحب کو ثاقب نثار کا فون گیا وہ تو بینچ کا حصہ ہی نہیں تھے پھر چیف جسٹس نے انھیں یہ حکم کیوں دیا اور رانا شمیم نے سوا تین سال بعد جسٹس ثاقب نثار کو ہدف کیوں بنایا وغیرہ وغیرہ؟
جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ میں نے ان سوالوں کے جواب کے لیے پہلے جسٹس ثاقب نثار اور پھر لندن میں نواز شریف فیملی کے اہم فرد سے رابطہ کیا۔ ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ رانا شمیم اپنی مدت ملازمت میں ایکسٹینشن لینا چاہتے تھے۔ میں نے انکے چند اہم فیصلے ریورس کیے تھے اس لیے انھیں ایکسٹینشن نہ مل سکی اور یہ اب اس کا بدلہ لے رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا لہ رانا شمیم صرف مجھے بدنام نہیں کر رہے بلکہ یہ ان جج کو بھی متنازع بنا رہے ہیں جن کی عدالت میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی اپیلوں کی سماعت ہو رہی ہے۔ موصوف ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جاوید چودھری کہتے ہیں میں نے ثاقب نثار سے پوچھا کہ آپ کے اس جج صاحب کے ساتھ کتنے پرانے تعلقات ہیں؟ وہ ہنس کر بولے کہ ہماری بہت پرانی شناسائی ہے۔ وہ بطوروکیل میرے ساتھ کام بھی کرتے رہے لیکن اس کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں انھیں فون کروں گا اور وہ میرا کوئی غیرقانونی حکم مانیں گے۔ لیکن جب ثاقب نثار سے نے پوچھا گیا کہ کیا آپ رانا شمیم کے خلاف عدالت میں پیش ہوں گے یا ان کے الزامات کا جواب دیں گے تو ان کا فوری جواب تھا کہ بالکل نہیں۔ میں اس گند میں نہیں پڑوں گا۔
جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ میں نے اسکے بعد نواز شریف فیملی کے ایک اہم فرد سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ آپ سے متعلق تمام ڈاکومنٹس لندن میں ایک ہی نوٹری پبلک سے کیوں تصدیق ہوتے ہیں؟‘‘ ان کا جواب تھا لہ سینٹرل لندن میں صرف ایک ہی نوٹری پبلک ہے۔ لہٰذا جوبھی شخص عدالتی کاغذات کی تصدیق کرائے گا وہ اسی کے پاس جائے گا۔ نیب نے حسین نواز کے کاغذات بھی اسی نوٹری پبلک سے تصدیق کرائے تھے لہٰذا صرف شریف فیملی نہیں بلکہ نیب کے کاغذات کی تصدیق بھی اسی نوٹری پبلک سے ہوتی ہے۔ بقول جاوید، میں نے پوچھا کہ کیا رانا شمیم کو ن لیگ کے لوگ نوٹری پبلک کے آفس لے کر گئے تھے تو انھوں نے تصدیق کی اور کہا کہ نواز شریف کے کچھ دوست ان کے ساتھ تھے اور رانا شمیم نے حلف دیا تھا کہ اگر مجھے پھانسی بھی دے دی جائے تو بھی میں اپنے بیان سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ جاوید چودھری کہتے ہیں کہ جب میں نے شریف خاندان کے فرد سے پوچھا کہ جس جج پر ثاقب نثار سے ہدایات لینے کا الزام لگایا گیا ہے وہ تو جولائی 2018 میں بینچ کا حصہ ہی نہیں تھے، پھر جسٹس ثاقب نثار انھیں فون کیوں کریں گے؟‘‘ انکا جواب یہ تھا کہ یونیورسٹی آف لندن نے 1997 میں شریف سٹی ایجوکیشنل کمپلیکس میں قانون کا ایکسٹرنل پروگرام شروع کیا تھا، یہ جج (یعنی عامر فاروق) تب وکیل تھے اور شریف سٹی ایجوکیشنل کمپلیکس میں پڑھاتے تھے۔ آج کے مشیر احتساب شہزاد اکبر بھی ان کے شاگرد تھے اورٹی وی اینکر منیب فاروق بھی۔ یہ اس زمانے میں بھی ثاقب نثار کے ساتھ کام کرتے تھے اور ان کے ان سے انتہائی قریبی تعلقات تھے۔ بقول جاوید میں نے ان سے پھر پوچھا لیکن ان تعلقات کے باوجود وہ بینچ کا حصہ نہیں تھے، لہٰذا جسٹس ثاقب نثار انھیں کیوں فون کریں گے؟ اس پر شریف خاندان کے فرد نے دعویٰ کیا کہ یہ کیس جوں ہی آگے چلے گا، یہ لنک بھی ثابت ہو جائے گا کیونکہ ہمارے پاس اس حوالے سے بہت ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نواز شریف اور مریم نواز اپنے کارڈز بہت احتیاط کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ ان کے پاس ثبوت موجود ہیں اور وہ مناسب وقت پر اپنے ثبوت سامنے لاتے چلے جائیں گے۔
جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ میں نے شریف خاندان کے فرد سے آخری سوال پوچھا کہ رانا شمیم نے اپنا راز تین سال اور چار ماہ تک کیوں چھپائے رکھا۔ وہ اس دن کا انتظار کیوں کر رہے تھے جب عدالت میں مریم نواز کا کیس لگنا تھا۔ جواب میں مجھے بتایا گیا کہ رانا شمیم نے یہ بات ہمیں ٹیلی فون پر ڈیڑھ سال پہلے بتائی تھی۔ ہم چاہتے تھے کہ وہ ہمارے سامنے بیٹھ کر بات کریں تاکہ ہم ان کی بات کو باڈی لینگوئج سے میچ کر سکیں، لیکن کرونا کی وجہ سے وہ لندن نہ آ سکے۔ دوسرا ہم نے بھی رانا شمیم سے یہی سوال کیا تھا اور ان کا جواب تھا کہ میری اہلیہ اس واقعے کی گواہ تھیں اور انہیں اسکا بہت قلق تھا لہٰذا انتقال سے قبل انہوں نے مجھے پابند کیا تھا کہنمیں یہ واقعہ نواز شریف کو سناؤں گا اور اگر مجھے کسی عدالت میں گواہی بھی دینا پڑے تو دوں، لہٰذا میں اب اس سچ کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہوں۔ جب جاوید چودھری نے شریف خاندان کے فرد سے پوچھا کہ رانا شمیم چیف جج بننے سے قبل مسلم لیگ ن کے عہدیدار تھے لہٰذا پھر ان کے سچ کو سچ کیوں مان لیا جائے؟ اس پر وہ ہنس کر بولے کہ جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس آصف سعید کھوسہ بھی تو میاں نواز شریف کے ساتھی رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ثاقب نثار ن لیگ کے وزیر قانون خالد انور کے چیمبر میں کام کرتے رہے تھے۔ خالد انور نے انھیں 1997میں وفاقی سیکریٹری قانون بنایا اور انھیں نواز شریف کے ذریعے 1998میں ہائی کورٹ کا جج بنوایا جب کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی فائل ان کے سسر جسٹس نسیم حسن شاہ نواز شریف کے پاس لائے تھے۔ وزیراعظم نہیں مان رہے تھے لیکن جسٹس نسیم حسن شاہ نے اپنے داماد کے لیے بہت زور لگایا اور یوں وہ بھی 1998 میں جج بن گئے اور ہمیں سب سے زیادہ سیاسی نقصان ان دونوں ججوں کے ہاتھوں پہنچا لہٰذا شریف فیملی سے دوستانہ اِدھر یا اُدھر کسی جگہ میٹر نہیں کرتا۔‘
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ اس معاملے میں سچ کیا ہے، یہ فیصلہ تو وقت کرے گا لیکن ایک بات طے ہے گل ودھ گئی ہے اور یہ اب روزانہ کی بنیاد پر بڑھتی رہے گی اور اس کی لپیٹ میں کون کون سا شخص اور کون کون سا ادارہ آئے گا یہ سوچ کر بھی نیند اڑ جاتی ہے۔
