جسٹس بندیال عمران کے سہولت کار ثابت ہو گئے

2017 میں عمران خان کو اثاثے چھپانے کے کیس میں سپریم کورٹ کے ہاتھوں نااہلی سے بچانے والوں میں جنرل قمر باجوہ اور جنرل فیض حمید کا نام تو سامنے آیا ہی ہے لیکن کیس کا لکھا لکھایا فیصلہ سنانے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس فیصل عرب کے علاوہ جسٹس عمر عطا بندیال بھی شامل تھے جو اس وقت چیف جسٹس آف پاکستان ہیں اور اپنے پرو پی ٹی آئی جھکاؤ کی وجہ سے عمرانڈو جج کا خطاب حاصل کر چکے ہیں۔ اس انکشاف کے بعد ناقدین لکھا ہوا فیصلہ پڑھ کر سنانے کے الزام کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ چیف جسٹس بندیال کی پوزیشن واضح ہو سکے۔
یاد رہے کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے ساتھ 6 گھنٹے طویل ملاقات کے بعد سینئر صحافی جاوید چوہدری نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان کی درخواست پر جنرل باجوہ نے انہیں سپریم کورٹ کے ہاتھوں اثاثہ جات کیس میں نااہلی سے بچانے کے لیے جنرل فیض حمید کی ذمہ داری لگائی تھی جنہوں نے ثاقب نثار کے ساتھ کہانی ڈالی اور تمام تر ثبوتوں کے باوجود عمران کو نااہل ہونے سے بچا لیا یہ اور بات کہ عمران کو جنرل باجوہ سے ملوانے والے پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کو سپریم کورٹ نے اس کیس میں نا اہل قرار دے دیا حالانکہ دونوں کے خلاف الزامات کی نوعیت ایک ہی تھی۔
جاوید چوہدری نے یہ ہوشربا دعویٰ بھی کیا ہے کہ عمران خان کو نااہلی سے بچانے اور جہانگیر ترین کو نااہل کرنے کا فیصلہ جنرل فیض حمید کی جانب سے مہیا کیے جانے والے دو سینئر وکلا نے لکھا تھا جو کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے پڑھ کر سنا دیا تھا۔ یاد رہے کہ تب میجر جنرل فیض حمید ڈی جی کاؤنٹر انٹیلی جنس تعینات تھے اور جنرل قمر باجوہ کی زیر قیادت پروجیکٹ عمران خان پر کام شروع کر چکے تھے۔ اس سے پہلے عمران خان نے جنرل قمر باجوہ سے ملاقات کرتے ہوئے درخواست کی تھی کہ انہیں اس کیس میں سپریم کورٹ کے ہاتھوں نااہل ہونے سے بچایا جائے۔
جاوید چوہدری نے بتایا ہے کہ عمران خان کی جنرل باجوہ سے ملاقات جہانگیر ترین نے کروائی تھی جس کے بعد باجوہ نے عمران کے حق میں فیصلہ کروانے کے لیے جنرل فیض حمید کی ڈیوٹی لگائی۔ جاوید چوہدری دعوی کرتے ہیں کہ اس کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار کو دو وکیل دیے گئے جنہوں نے عمران خان اور جہانگیر ترین کی قسمت کا فیصلہ لکھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ ثاقب نثار یار دونوں میں سے کسی ایک کو نااہل قرار دینا چاہتے تھے، چنانچہ فیض حمید کی جانب سے مہیا کردہ وکلا نے ایسا ہی فیصلہ لکھا جو ثاقب نثار نے صرف پڑھ کر سنایا اور جسٹس عمر عطا بندیال اور جستس فیصل نے ان کے ساتھ مل کر اس پر دستخط کر دیئے۔
یاد رہے کہ مسلم لیگی رہنما حنیف عباسی نے نومبر 2016 میں سپریم کورٹ میں عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف دو پٹیشنز دائر کیں۔ حنیف عباسی کا دعویٰ تھا کہ پی ٹی آئی کے چئیرمین عمران خان نے اپنی لندن والی آف شور کمپنی نیازی سروسز لمیٹڈ اور بنی گالا کی تین سو کنال اراضی کی منی ٹریل چھپائی۔ ان کا دوسرا الزام یہ تھا کہ پارٹی کے سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین نے بھی اپنی آف شور کمپنیاں، بیرون ممالک اثاثے اور ساڑھے اٹھارہ ہزار ایکڑ اراضی چھپائی، لہٰذا یہ دونوں حضرات آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت صادق اور امین نہیں رہے اور انہیں نااہل قرار دیا جانا چاہئے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اصولا تو عمران خان اور جہانگیر دونوں پر یہ الزام ثابت ہوگیا تھا کہ انہوں نے الیکشن کمیشن کے سامنے اپنے اثاثے ظاہر نہیں کیے تھے لہٰذا دونوں کی نااہل بنتی تھی لیکن منصوبے کے تحت عمران کو بچانے اور ترین کو بھجوانے کافیصلہ کیا گیا۔
15 دسمبر 2017 کو فیصلہ سنایا جانا تھا لیکن اس میں کئی گھنٹے کی تاخیر ہوگئی چونکہ تین رکنی بینچ نے لکھا لکھایا 250 صفحات پر محیط آرڈر پڑھنا تھا جس کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔ بالآخر عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کے الزامات کا تعین الیکشن کمیشن کرے گا جبکہ انہیں نااہل قرار دینے کی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔ لیکن دوسری جانب عمران خان کی طرح اثاثے چھپانے کے الزام کا سامنا کرنے والے جہانگیر ترین کو نااہل قرار دے دیا گیا۔ فیصلہ سنانے کا وقت دو بجے مقرر کیا گیا تھا، لیکن بینچ نے فیصلہ تقریباً دو گھنٹے کی تاخیر سے 4 بجے سنایا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ابتدائی کلمات میں تاخیر پر کورٹ روم پہنچنے پر معذرت کی اور کہا کہ فیصلے کے ایک صفحے پر غلطی تھی جس کی وجہ سے 250 صفحے پڑھنے پڑے۔
میاں ثاقب نثار نے کہا کہ تمام شواہد کا جائزہ لیا گیا۔ پی ٹی آئی پر غیرملکی فنڈنگ کا الزام لگایا گیا۔ درخواست گزار غیر ملکی فنڈنگ پر متاثرہ فریق نہیں۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان ‘نیازی سروسز’ کے نہ تو شئیر ہولڈر تھے اور نہ ہی ڈائریکٹر۔ انہوں نے اپنا لندن فلیٹ حکومت کی ایمنسٹی اسکیم میں ظاہر کر دیا تھا۔ فیصلے کے مطابق عمران کو بنی گالہ اراضی کے لیے رقم جمائما نے دی۔ جمائما نے عمران کو 4 لاکھ 17 ہزار 901 پاونڈ فراہم کیے۔ بنی گالہ کی یہ اراضی عمران کو جمائما کی طرف سے تحفے میں ملی تھی۔ طلاق سے پہلے عمران نے یہ اراضی بیوی اور بچوں کے لیے لی۔ ثاقب نثار نے قرار دیا کہ عمران نے اثاثے نہیں چھپائے اور وہ بے ایمانی کے مرتکب نہیں ہوئے۔
دوسری جانب حنیف عباسی کی جہانگیر ترین کے خلاف درخواست کے فیصلے میں عدالت نے کہا کہ لندن کی ہائیڈ ہاؤس پراپرٹی کے اصل مالک جہانگیر ترین ہیں لہٰذا ثابت ہوا کہ انہوں نے اثاثے چھپائے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ ترین نے 50 کروڑ روپے بیرونِ ملک منتقل کیے۔ اسکے علاوہ آف شور کمپنی بھی جہانگیر ترین کی ملکیت ہے لہٰذا ان پر آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق ہوتا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جہانگیر ترین کا جواب واضح نہیں تھا لہٰذا وہ صادق اور امین نہیں رہے۔عدالت نے فیصلے میں الیکشن کمیشن کو جہانگیر ترین کی نااہلی کا نوٹیفیکشن جاری کرنے کی ہدایت کی کیونکہ وہ عدالت کے سامنے غلط بیانی کے مرتکب ثابت ہوئے۔سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران عمران کی آمدن، رقوم کی منتقلی، لندن فلیٹ کی خریداری پر بحث حاوی رہی۔
عمران خان نے بارہا عدالت میں اپنی مکمل منی ٹریل دینے کا دعوٰی کیا تاہم حنیف عباسی کے وکلا نے عمران پر بار بار مؤقف بدلنے کا الزام لگایا۔ اس کیس پر وکلا نے 100 گھنٹے سے زائد دلائل اور 73 مقدمات کے حوالے دیے جبکہ اس دوران درجن بھر ممالک کی اعلٰی عدلیہ کے تقریباً تین درجن فیصلوں کے اقتباسات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔ سپریم کورٹ نے اس کیس کی 50 سماعتیں کیں اور اسے ایک سال تک سنا لیکن اب یہ بھید کھلا ہے کہ فیصلہ نہ تو ثاقب نثار نے لکھا اور نہ ہی جسٹس عمر عطا بندیال نے، بلکہ اسے فیض حمید کے فراہم کردہ دو وکلاء نے تحریر کیا تھا۔
