پاکستان میں آن لائن فراڈ سے بچائو کیسے ممکن ہے؟

پاکستانی آئی ٹی سیکٹر میں ہونے والی ترقی کے ساتھ اس سے منسلک نوسر باز سادہ لوح عوام کو لوٹنے کے نت نئے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے نظر آتے تھے، یہ لوگ کبھی انعامی سکیموں کے ذریعے تو کبھی آن لائن بینکنگ کا سہارا لے کر آئے روز غریبوں کے ساتھ وارداتیں ڈال رہے ہیں۔ایسی ہی ایک جعلی کال کا شکار بننے والے صحافی نے بتایا کہ میں دفتر کے کام سے ابھی باہر نکلا ہی تھا کہ فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف میرے والد صاحب تھے جنہوں نے سلام دعا کے فوراً بعد پوچھا کہ میں کہاں ہوں؟

میں نے بتایا کہ ابھی دفتر کے باہر ہی موجود ہوں جس پر انہوں نے ٹھنڈی سانس بھری۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ انہیں کچھ دیر پہلے تھانہ صدر راولپنڈی سے کسی ’اے ایس آئی‘ امجد کی کال موصول ہوئی جس نے ’’مجھے‘‘ گرفتار کرنے کے بارے میں آگاہ کیا۔گرفتاری کے بعد وہ ایف آئی آر کاٹنے کی بجائے رشوت لے کر مجھے چھوڑ دینا چاہتا تھا حالانکہ میں تو گرفتار ہوا ہی نہیں تھا۔ اس پر میرے والد نے حیرت سے اُس مشکوک اے ایس آئی سے گرفتاری کی جگہ پوچھی۔ پولیس والے نے پہلے راولپنڈی میں صدر کا علاقہ بتایا۔ جب والد نے کہا کہ میرا بیٹا تو اس وقت اسلام آباد میں ہے تو ’اے ایس آئی‘ گڑبڑا گیا۔ مگر اس کے باجود اُس نے مزید ناٹک کرتے ہوئے فون پر میری بات کرانے کا دعوٰی بھی کیا اور فون کسی قریب موجود شخص کو پکڑا دیا جس نے انتہائی گھبراہٹ والی آواز نکال کر مدد کے لیے کہا اور پھر فون بند ہو گیا لیکن جب اسکے فوراً بعد میرے والد نے مجھے کال کر کے صورت حال پتہ کی تو تو معاملہ واضح ہو گیا کہ کوئی دو نمبر شخص ان سے فراڈ کر کے پیسے کمانے کی کوشش کر رہا تھا۔

کچھ عرصہ پہلے تک پاکستان میں ایک موبائل میسج بہت مقبول تھا جس میں پیغام درج ہوتا تھا کہ بھیجنے والا یا والی ہسپتال میں ہے اور اسے کال کرنے کے لیے بیلنس کی ضرورت ہے اگر وہ پیغام ایک ہزار لوگوں کو بھیجا جائے تو ان میں سے ضرور چند لوگ ایسے آ جاتے تھے جو اسے سچ سمجھ کر اپنی رقم گنوا بیٹھتے تھے۔ ڈیفنس لاہور کے رہائشی خواجہ نوید نے ایسا ہی ایک واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل مجھے صبح سویرے ایک کال موصول ہوئی۔ کال کرنے والے نے انتہائی مظلومیت بھری آواز نکال کر بتایا کہ وہ اپنے کسی قریبی کو ہسپتال میں رقم بھیجنا چاہ رہا تھا مگر یہ رقم غلطی سے آپ کے اکاؤنٹ میں چلی گئی ہے۔ خواجہ نوید بتاتے ہیں کہ جب میں نے اپنا موبائل چیک کیا کھولا تو دیکھا کہ ایک میسج تو آیا ہوا ہے، جس کے مطابق میرے اکاؤنٹ میں 8 ہزار روپے موصول ہوئے تھے۔ اس معاملے میں دھوکا یہ دیا جاتا ہے کہ کسی اور نمبر سے رقم کی وصولی کا تقریباً ویسا ہی پیغام بھیجا جاتا ہے۔

نیند سے اٹھنے والا یا پھر کسی کام میں مشغول کوئی نہ کوئی فرد ان کا نشانہ بن ہی جاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ فراڈ کرنے والوں کو کیسے معلوم ہوتا ہے کہ اس صارف کے اکاؤنٹ میں اتنی رقم موجود ہے۔

اسی طرح اسلام آباد کے رہائشی نعمان خان کو کچھ روز قبل ایک امریکی خاتون کے نام سے بنے فیک اکاؤنٹ سے پیغام موصول ہوا کہ وہ ایک امریکی بینک سے وابستہ ہیں۔ جہاں آڈٹ کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ ان کے بینک میں ایک ایسے پاکستانی کی بڑی رقم بھی موجود ہے جو 2010 میں ہیٹی کے زلزلے میں اپنے خاندان سمیت مارے گئے۔ اب اگر یہ ان کے وارث بن کر بینک سے رابطہ کریں تو وہ یہ رقم دلوانے میں ان کی مدد کر سکتی ہیں۔ اس کے بعد آدھی رقم انہیں دینا ہوگی۔ نعمان نے مزید تفصیل سے قبل انٹرنیٹ پر تحقیق کی تو انہیں پتا چلا کہ یہ واقعہ میڈیا میں رپورٹ ہوچکا ہے جس میں انہیں ناموں کو استعمال کرتے ہوئے فراڈ کی کوشش کی گئی۔

اسی طرح لوگوں کے جعلی فیس بک اکاؤنٹ بنا کر ان کے دوستوں کو مدد کے پیغامات بھیجنا بھی اب عام ہے، بے روزگاری اور دیگر معاشی مسائل کے باعث آئے روز ایسے پیغامات دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں گھر بیٹھے بڑی رقم کمانے کا جھانسہ دیا جاتا ہے۔

آن لائن پلیٹ فارمز کو استعمال کرتے ہوئے یا پھر ٹیلی فون کالز پر لوگوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں چند خصوصیات مشترکہ ہیں۔ ملزمان یا تو لالچ کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں، یا پھر طریقہ واردات اگر مختلف ہو جلد بازی دکھاتے ہیں۔ اس تیزی کے باعث سادہ لوح افراد کو موقع ہی نہیں ملتا کہ وہ اس معاملے میں کچھ تحقیق کر سکیں۔

مختلف فلمی کہانیوں کے زیر اثر معاشی مسائل میں گھِرے ہوئے لوگ راتوں رات امیر ہونے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں دھوکہ باز لالچ کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے انہیں پہلے سے دستیاب رقوم سے بھی محروم کر دیتے ہیں۔

Back to top button