جسٹس ثاقب نثار پر الزامات کا کیس گھمبیر کیوں ہو گیا؟

گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم کی جانب سے سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار پر لگائے گئے الزامات کا معاملہ تب ایک گھمبیر صورت اختیار کرگیا جب رانا شمیم نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا کہ انہوں نے اخبار میں شائع ہونے والا اپنا بیان حلفی ابھی دیکھا ہی نہیں۔ اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ’جس شخص نے بیان حلفی دیا ہے اسے یہ بھی یاد نہیں کہ بیان حلفی میں کیا لکھا ہے۔‘ خالد جاوید کا کہنا تھا کہ اگر رانا شمیم کو نہیں معلوم تو پھر جو بیان حلفی اخبار میں شائع ہوا ہے، اسے کس نے تیار کرایا ہے؟ انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ یہ بات ریکارڈ پر لائیں کہ رانا شمیم نے جو بیان حلفی میں کہا ہے انھیں اس بارے میں معلوم ہی نہیں ہے۔
یہ باتیں 30 نومبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران ہوئیں۔ اس مواقع پر ’دی نیوز‘ میں شائع ہونے والی تہلکہ خیز رپورٹ لکھنے والے صحافی انصار عباسی اور جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن بھی موجود تھے۔
اس موقع پر سابق چیف جج رانا شمیم نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا کہ ثاقب نثار کی طرف سے نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کی مبینہ طور پر ضمانت نہ لینے کے بارے میں احکامات سے متعلق جو بیان حلفی انھوں نے دی نیوز‘ کو دیا تھا وہ اشاعت کے لیے نہیں تھا۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کے نواز شریف اور مریم نواز کی ضمانت کیس پر اثرانداز ہونے کے دعوے کا نوٹس لیتے ہوئے سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم سمیت صحافی انصار عباسی اور میر شکیل کے خلاف توہین عدالت کی باقاعدہ کارروئی شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ’دی نیوز‘ اخبار میں گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم کی طرف سے شائع کیے گئے بیان حلفی پر توہین عدالت سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی۔
عدالت نے گلگت بلتستان کے سابق چیف جج کو روسٹرم پر طلب کیا اور ان استفسار کیا کہ انھوں نے تین سال بعد ایک بیان حلفی کیوں دیا اور پھر اسے اخبار کے ذریعے عوام تک کیوں پہنچایا۔ اس پر رانا شمیم نے عدالت کو بتایا کہ بیان حلفی شائع ہونے کے بعد ان سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے رپورٹر کو تصدیق کی کہ یہ بیان حلفی انہی کا ہے۔
رانا شمیم نے کہا کہ ان کا بیان حلفی سر بمہر تھا اور انھیں نہیں معلوم کہ وہ کس طرح لیک ہوا، جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا انھوں نے اپنا بیان حلفی مقامی اخبار کو نہیں دیا؟
سابق جج نے اس پر عدالت کو بتایا کہ انھوں نے اپنا بیان حلفی اشاعت کے لیے نہیں دیا تھا۔ جب عدالت نے سوال کیا کہ انھوں نے لندن میں بیان حلفی کسی مقصد کے لیے دیا تو رانا شمیم اپنے جواب سے عدالت کو مطمئن نہ کر سکے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سابق چیف جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اس بیان حلفی کے ذریعے عوام کا عدالت سے اعتماد اٹھانے کی کوشش کی۔
اٹارنی جنرل خالد جاوید نے عدالت سے استدعا کی کہ رانا شمیم سے اس بات کا جواب بھی مانگا جائے کہ انھوں نے یہ بیان حلفی لندن میں کیوں ریکارڈ کرایا۔ جسٹس اطہر نے رانا شمیم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت آپ کو پانچ روز کا وقت دے رہی ہے، اس دوران آپ اپنا تحریری جواب عدالت میں جمع کروائیں۔ اس پر سابق چیف جج نے کہا کہ انھیں نہیں معلوم کہ جو بیان حلفی رپورٹ ہوا وہ کون سا ہے اور خواہش ظاہر کی کہ وہ پہلے رپورٹ کیا جانے والا بیان حلفی دیکھنا چاہتے ہیں۔
رانا شمیم نے کہا کہ ویسے بھی میرے خاندان میں ایک حادثہ ہوا ہے، لہذا سماعت 12 دسمبر کے بعد مقرر کرلیں، تاہم عدالت نے ہدایت کی کہ یہ ایک بہت سنجیدہ معاملہ ہے، لہزا آپ اپنے آپ کو جسٹیفائی کریں۔ اٹارنی جنرل جالد جاوید نے کہا کہ سابق چیف جج سے اصل بیان حلفی عدالت میں پیش کروایا جائے، شاید ان کے بیٹے نے بیان حلفی لیک کردیا ہو۔
اس پر رانا شمیم نے کہا کہ میرا ایک ہی بیٹا ہے اور وہ یہیں پاکستان میں ہوتا ہے، میں نے ابھی تک بیان حلفی دیکھا ہی نہیں۔ جج نے رانا شمیم کو ہدایت کی کہ آپ اپنا اصل بیان حلفی عدالت میں جمع کرائیں، جس پر رانا شمیم نے کہا کہ اس کے لیے آپ مجھے وقت دیں۔
اٹارنی جنرل نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ 10 سال پرانا کاغذ نہیں، 10 نومبر کا کاغذ ہے، اس کیس میں آرٹیکل 19 اور 19 اے کا معاملہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کے آخری سکول میں
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ میڈیا کا کردار دوسرے نمبر پر ہے، ذمہ داری رانا شمیم پر آتی ہے، استدعا ہے کہ عدالت رانا شمیم سے اصلی حلف نامہ منگوائے۔ اس پر رانا شمیم کا کہنا تھا کہ میں نے ابھی کچھ بھی نہیں دیکھا، میں گاؤں میں تھا، اخبار میں بیانِ حلفی کا پڑھا۔ لیکن اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ دس سال پرانا دستاویز نہیں، ان کو 10 نومبر کا یاد نہیں؟ انہوں نے نہیں لکھا تو کس نے لکھا؟ اس سوال کا جواب اب کیس کی اگلی سماعت کے دوران ملنے کا امکان ہے جو سات دسمبر کو ہوگی۔
