کپتان کا خارجہ پالیسی کی آڑ میں تلور کے شکار پر یوٹرن


ماضی میں خلیجی ریاستوں کے شاہی خاندانوں کی جانب سے پاکستان میں تلور کا شکار کرنے کی مخالفت کرنے والے عمران خان کے دور اقتدار میں عرب شیوخ چوتھی مرتبہ اس نایاب پرندے کے شکار کے مزے لوٹ رہے ہیں لیکن اب اس معاملے پر یو ٹرن لے کر کہا جا رہا یے کہ ایسا کرنے کی اجازت دینا اب پاکستان کی خارجہ پالیسی کا لازمی جزو بن چکا ہے۔ تاہم تلور کے شکار کی اجازت پر حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے کیونکہ اس عمل سے نہ صرف تلور کی نسل ختم ہو رہی ہے بلکہ سفارتی سطح پر بھی پاکستان اس کا خاطر خواہ فائدہ اٹھانے میں تاحال ناکام رہا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں تلور کے شکار کو مشرق وسطیٰ کے شاہی خاندان ایک کھیل اور شوق کے طور پر لیتے ہیں۔ پاکستان خلیجی ریاستوں کے شاہی خاندانوں کے اس شوق کو جاری رکھنے کے لیے ہر سال شکار کے پرمِٹ جاری کرتا ہے جس کے بعد قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین سے عرب شیخ پاکستان پہنچتے ہیں اور حکومت پاکستان کا موقف ہے کہ یہ معاملہ اب تلور ڈپلومیسی کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
خیال رہے کہ ماضی میں وزیرِ اعظم عمران خان تلور کے شکار پر پاکستان آنے والے عرب شیخ اور حکمران خاندانوں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ 2016 میں تلور کے شکار پر پابندی اٹھائے جانے کے بعد انھوں نے ٹوئٹر پر جاری ایک پیغام میں کہا تھا کہ ’مجھے یقین نہیں آرہا کہ تلور کا شکار ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ستون بن گیا ہے۔ واضح رہے کہ انڈیا اس کی اجازت نہیں دیتا۔ لیکن اب انھی کے دورِ حکومت میں خلیجی ممالک کے رکن کا یہ چوتھا دورہ ہے۔ نومبر 2020 میں بھی وزیرِ اعظم نے ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو کے دوران بتایا کہ ’بحرین اور متحدہ عرب امارات کی طرف سے پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کروانے کے لیے زور دیا جا رہا ہے۔‘ تاہم انھوں نے بعد میں کئی بیانات میں اپنے اس بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان اسرائیل کو اس وقت تک تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطین کے معاملے کا منصفانہ حل نہیں نکل جاتا۔‘ اسی سلسلے میں رواں سال فروری میں جب متحدہ عرب امارات اور ابوظہبی سے شاہی خاندان کے فرد شکار کے لیے پاکستان پہنچے تو پاکستان میں یہی چرچا رہا کہ شکار پر آئے شاہی خاندان کہ رکن پاکستان کو اسرائیل کو تسلیم کروانے کے بارے میں ضرور بات کریں گے لیکن ایسی کوئی بات منظرِ عام پر نہیں آئی۔ حال ہی میں عرب مہمانوں کو سندھ میں شکار سے روکنے پر رکن سندھ اسمبلی کے ڈیرے پر مقامی نوجوان ناظم جوکھیو کے بہیمانہ انداز میں قتل کے بعد اب جہاں تمام نظریں شکار کے اس پورے نظام پر جمی ہوئی ہیں اور لوگوں کے احتجاج میں اضافہ ہو رہا ہے، وہیں ناظم کے بھائی افضل جوکھیو کا کہنا ہے کہ ان پر زور ہے کہ وہ اس معاملے پر سمجھوتہ کر کے بات ختم کر دیں۔ تاہم اب یہ معاملہ تلور کے شکار سے بڑھ کر عام لوگوں کی زندگیوں تک پہنچ چکا ہے۔
ناظم جوکھیو کے قتل کے بعد حکومت پاکستان کی تلور ڈپلومیسی ایک بار پھر زیرِ بحث ہے۔ اسی اور نوے کی دہائی میں بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں تلور کے شکار کے لیے آئے عرب شاہی خاندان کے قافلوں پر بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کی جانب سے حملے کیے گئے، لیکن ایسا پہلی بار ہے کہ سندھ کے مختلف علاقوں میں عوام کی ایک بڑی تعداد نے شدید احتجاج کرتے ہوئے تلور کے شکار پر مکمل پابندی عائد کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
اس تنازعے کے دوران اٹھنے والا اہم ترین سوال یہ ہے کہ آخر پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں تلور کے شکار کو اتنی اہمیت کیوں دیتا ہے؟ بی بی سی کو اس سوال کا جواب دیتے ہوئے متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سابق سفیر نے بتایا کہ پاکستان اس کھیل کو بطور ڈپلومیسی پروموٹ کرتا ہے کیونکہ انڈیا کی طرح ہمارے پاس نائٹ کلب نہیں جہاں ہم خلیجی ممالک سے آئے شاہی خاندان کے ارکان کو لے جائیں۔ اس لیے تلور کے شکار کو پروموٹ کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے۔ یہ عرب ثقافت کا حصہ ہے اور پاکستان اور ان ممالک کے درمیان تعلقات بہتر رکھنے کا ایک طریقہ بھی ہے۔‘ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس سابق سفیر نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان میں شکار کی جگہوں کو الاٹ کرنا ہمیشہ سے مسئلہ رہا ہے۔ بہت سوچ سمجھ کر اس کا تعین کرنا پڑتا ہے اور پاکستان کی کوشش رہی ہے کہ اپنے مہمانوں کے لیے بہتر سے بہتر انتظامات کیے جائیں۔ کپتان حکومت بھی اب یہی موقف اپناتی ہے کہ تلور کا شکار دراصل خلیجی ممالک کے ساتھ ڈپلومیٹک تعلقات بہتر بنانے کا ایک موثر ذریعہ بن چکا ہے۔
بظاہر معصوم سا لگنے والا تلور خلیجی ممالک سے آنے والے عرب شیخوں کے لیے خاصی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کے شکار کو جہاں مشرق وسطیٰ کے شاہی خاندان ایک کھیل اور شوق کے طور پر دیکھتے ہیں، وہیں یہ تاثر بھی عام ہے کہ اس کا گوشت شہوت انگیز ہوتا ہے حالانکہ اس تاثر کا کسی سائنسی تحقیق سے تعلق نہیں۔
پاکستان عرب شیخوں کے اس شوق کو جاری رکھنے کے لیے ہر سال پرمِٹ جاری کرتا ہے۔ رواں سال اکتوبر میں بھی وزارتِ خارجہ کی طرف سے ابوظہبی سے شاہی خاندان کے 11 ارکان کو پاکستان کے سندھ، پنجاب اور بلوچستان صوبوں میں شکار کے لیے پرمٹ جاری کیے گئے۔ شاہی خاندان کے یہ لوگ نومبر سے فروری کے دوران پاکستان میں تلور کے شکار کے لیے آئیں گے جیسا وہ ہر سال کرتے ہیں۔ اس وقت دو طریقوں سے پاکستان میں تلور کے شکار پر شاہی خاندان کے رکن آتے ہیں۔ ایک حکومت کے ذریعے دیے جانے والے دعوت ناموں پر اور دوسرا ذاتی طریقے سے وڈیروں اور دوستوں کے ساتھ روابط ہونے کی بنیاد پر۔اگر تاریخ دیکھیں تو زیادہ تر محققین پاکستان میں تلور کے شکار کی باقاعدہ شروعات 1973 سے گنتے ہیں۔ 1970 کی دہائی سے باقاعدہ طور پر تلور کے شکار کے لیے خلیجی ممالک سے عرب شیخ اور حکمران خاندانوں کو بلانا شروع کر دیا تھا۔ ان دوروں کو نجی دورے کا نام دیا گیا، جسے پاکستان نے ان ممالک سے اپنے سفارتی تعلقات استوار کرنے کے لیے استعمال کیا۔
اسی دہائی میں خلیجی ممالک میں تیل کی پیداوار کے نتیجے میں دولت آئی تھی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے عرب شیخ نجی دوروں کے لیے پاکستان آنے لگے۔ خارجہ پالیسی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان ان دوروں کا صحیح طریقے سے فائدہ نہیں اٹھا پا رہا جس کا واضح ثبوت پاکستان کے خلیجی ممالک کے ساتھ خراب ہوتے تعلقات ہیں جبکہ دوسری جانب یہ ممالک بھارت کے قریب تر ہوتے جا رہے ہیں۔
اس معاملے پر بورڈ آف انویسٹمنٹ کے سابق سربراہ ہارون شریف نے کہا کہ ‘شکار کرنے والے پاکستان کے سب سے پسماندہ علاقوں میں جاتے ہیں۔ چاہے وہ سندھ ہو، پنجاب یا بلوچستان۔ لہذا عرب شیخوں کے اثر و رسوخ کو ان علاقوں کی ترقی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو کہ پاکستان نہیں کر پا رہا ہے۔ اس کی ایک مثال رحیم یار خان میں شیخ زید ائیرپورٹ کی ہے جو وہاں کے لوگوں کے لیے شیخ زید نے تعمیر کروایا۔ لیکن اس واضح مثال کے علاوہ دیگر صوبوں میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی جس کے بارے میں کہا جا سکے کہ شکار کی یہ اجازت اس علاقے کی فلاح و بہود کے کام آ رہی ہے، لیکن دوسری طرف بلوچستان اور سندھ میں پوچھنے پر بھی کوئی ایسی مثال نہیں ملتی جہاں عوام کے لیے کوئی پانی کا پمپ، کوئی سڑک یا ہسپتال یا کلینک تعمیر کرایا گیا ہو۔

Back to top button