جسٹس شوکت صدیقی کی بیٹی کے اغوا کی کوشش اور بیٹوں پر حملہ


آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید پر تنقید کرنے کی پاداش میں بطور جج فارغ کر دیے جانے والے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں اپنے اصولی موقف کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران نہ صرف یہ کہ یونیورسٹی میں پڑھنے والی ان کی بیٹی کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی بلکہ ان کے دونوں بیٹوں پر بھی حملہ کیا گیا۔ یہ انکشاف جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے معروف صحافی عمار مسعود کو ایک حالیہ انٹریو میں کیا۔ جسٹش شوکت عزیز صدیقی کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے خلاف پانامہ کیس کی سماعت کے دوران سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید میرے گھر آئے اور کہا ہم پتہ کرنا چاہتے ہیں کہ نواز شریف کے کیس کا کیا بنے گا۔ میں نے کہا کہ وہ اس کیس میں بری بھی ہوسکتے ہیں۔ اس پر فیض نے کہا کہ نہیں میاں صاحب کو سزا تو ضرور ہونی ہے لیکن وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اسکے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ میں آپ کیا کریں گے۔

بقول جسٹس شوکت عزیز صدیقی، جنرل فیض حمید نے مجھ سے پوچھا کہ اگر نواز شریف کا کیس آپکے پاس اپیل میں آتا ہے تو آپ کیا کریں گے۔ میں نے ان سے کہا کہ میں تو میرٹ پر فیصلہ کروں گا۔ اس پر انہوں نے یہ تاریخی جملہ کہا کہ اس طرح تو ہماری دو برس کی محنت ضائع ہوجائیگی۔ جسٹس شوکت صدیقی نے بتایا کہ میں نے جنرل فیض سے سوال کیا کہ آپ نے مجھے ڈویژن بنچ سے کیوں ہٹوایا تو انہوں نے کہا کہ ہم نے آپ کے بڑوں ثاقب نثار سے بات کرکے آپکو ہٹوایا ہے۔ اس موقع پر سابق جج نے بتایا کہ جونہی پانامہ سے منسلک کیسز کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں پٹیشنز آنا شروع ہوئیں تو مجھے اچانک ڈویژن بنچ سے ہٹا دیا گیا۔ شوکت صدیقی نے کہا کہ عام تاثر یہی ہے کہ مجھے فوج نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے نکلوایا اور عدلیہ کا کندھا استعمال کیا گیا۔ لیکن میرے کیس میں عدلیہ نے فوج کا کندھا استعمال کیا کیونکہ جسٹس ثاقب نثار اور آصف سعید کھوسہ میرے پیچھے پڑے ہوئے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ 26 نومبر 2018 کو میں نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ بن جانا تھا جبکہ ثاقب نثار کا ٹارگٹ اپنے شاگرد جسٹس عامر فاروق کوسینئر جج بنوانا تھا۔

نواز شریف کیخلاف پانامہ کیس میں دی گئی ججمنٹ کے بارے میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ پانامہ کیس کی ججمنٹ کو ایک نہ ایک دن تاریخ کے کوڑے دان میں ضرور پھینکا جائیگا کیونکہ ایسے فیصلے کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ انکا کہنا تھا کہ اس ججمنٹ میں نہ صرف نواز شریف کے ساتھ زیادتی کی گئی بلکہ قانون کی ایسی کی تیسی کر کے رکھ دی گئی ،انہوں نے کہا کہ مجرم نواز شریف نہیں ہیں بلکہ مجرم جسٹس منیر سے لیکر آج تک انکی باقیات مجرم ہیں ۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے انٹرویو میں بتایا کہ عدالتوں سے فیصلےجنرل فیض حمید بطور ڈی جی آئی ایس اکیلے نہیں کروا رہے تھے بلکہ اس میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس پی آر بھی انکے ساتھ تھے۔ انکا کہنا تھا کہ ہماری سپریم کورٹ فیصلے یا رومانس میں آکر کرتی ہے یا دبائو کے تحت کرتی ہے۔ سابق جج نے بتایا کہ جس سپریم جیوڈیشل کونسل نے مجھے نکالنے کی سفارش کی تھی اس میں شامل تین جج باری باری چیف جسٹس بند گئے جن میں ثاقب نثار، آصف کھوسہ اور گلزار احمد شامل تھے۔ شوکت صدیقی نے کہا کہ موجودہ چیف جسٹس عطا بندیال سے امید تھی کہ وہ میرے خلاف پرسنل نہیں ہونگے لیکن سب سے زیادہ مایوسی انہی سے ہوئی کیونکہ جب کیس کی صرف ایک سماعت باقی رہ گئی تو انہوں نےدو ججز کی ریٹائرمنٹ تک میرا کیس لٹکا دیا جسکی وجہ سے بینچ ہی ٹوٹ گیا۔

Back to top button