جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استعفیٰ دینے کا کیوں سوچا؟

وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دینے کے کیس میں جسٹس فائز عیسی نے اپنے اختلافی نوٹ میں انکشاف کیا ہے کہ چیف جسٹس گلزار احمد کی جانب سے اپنی ساکھ پر سوال اٹھائے جانے کے بعد انہوں نے استعفی دینے کا بھی سوچا کیوں کہ یہ کیس شروع تو ہوا تھا وزیر اعظم کے خلاف لیکن اسکا اختتام ایک جج کی تضحیک اور پابندی لگائے جانے پر ہوا۔ چنانچہ میں نے سوچا کہ میں استعفیٰ دے دوں، لیکن پھر خیال آیا کہ یہ معاملہ صرف ایک جج کے ساتھ بد سلوکی کا ہی نہیں، بلکہ یہ آئین پاکستان، عوام اور ان کے پیسے کا بھی معاملہ بھی ہے جسکی حفاظت کرنا میرا فرض ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ چیف جسٹس گلزار احمد نے ٹھوس وجوہات کے بغیر ان پر جانبداری کا الزام لگایا، حالانکہ آئین پاکستان کسی فاضل جج کو دوسرے جج کے دل میں جھانک کر جانبداری کا جائزہ لینے کی اجازت نہیں دیتا۔ فائز عیسی نے لکھا یے کہ سپریم کورٹ کسی جج کو کوئی مقدمہ سننے سے نہیں روک سکتی۔ انکے اختلافی نوٹ کے مطابق وزیر اعظم کی جانب سے اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دینے کے کیس میں عجلتی فیصلے سے چیف جسٹس کی ساکھ پر سوالات اٹھ رہے ہیں،
انہوں نے لکھا کہ وزیراعظم کی جانب سے سینیٹ الیکشن سے پہلے حکومتی اراکین اسمبلی میں ترقیاتی فنڈز کی تقسیم کا عمل آئین کے خلاف تھا لیکن پھر بھی مقدمے کو ختم کر دیا جانا حیران کن تھا۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے خود پر چیف جسٹس کی جانب سے وزیر اعظم کے خلاف کیس سننے پر پابندی لگانے پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ جب میں عمران خان کو ذاتی طور جاتنا ہی نہیں تو پھر جانبدار کیسے ہوسکتا ہوں، انہوان نے لکھا کہ ویسے بھی مجھ پر جانبداری کا الزام صرف عمران خان بذات خود لگا سکتے تھے، اٹارنی جنرل ان کے ذاتی وکیل نہیں اس لئے ان کی جانب سے یہ الزام نہیں لگ سکتا تھا۔ جسٹس فائز عیسیٰ کے مطابق فیصلے پر تمام ججز کے دستخط نہ ہونے کی وجہ سے وزیر اعظم کے خلاف ترقیاتی فنڈ والا مقدمہ ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ زیر التوا یے۔
فائز عیسیٰ کہتے ہیں کہ معزز چیف جسٹس نے خود ہی بینچ کی تشکیل کی اور پھر خود ہی موقع سے فائدہ اُٹھا کر بینچ کے ہی ایک رُکن جج کے تعصب اور جانبداری کا بھی خود ہی طے کر کے اُسکو کیس سُننے سے منع بھی کردیا۔ اپنے اختلافی نوٹ میں جسٹس عیسیٰ اپنے خلاف حُکمنامہ تحریر کرنے والے چیف جسٹس گلزار احمد اور اُنکے ساتھی تین ججز جسٹس مُشیر عالم، جسٹس عُمر عطا بندیال اور جسٹس اعجازالاحسن کو بتاتے ہیں کہ جناب میں نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف ذاتی حیثیت میں کویی پیٹیشن دائر نہیں دائر کر رکھی اور جِس پیٹیشن کی آپ بات کررہے ہیں وہ وزیراعظم کے خلاف نہیں ہے بلکہ میں نے اپنے خلاف صدارتی ریفرنس کو چیلنج کررکھا ہے جِس میں وزیراعظم سمیت تیرہ لوگ فریق ہیں۔
جسٹس فائز عیسیٰ چیف جسٹس کی جانب سے خود کو وزیر اعظم کے خلاف مُقدمات کی سماعت سے روکنے کی توجیہات کو نشانہ بناتے ہوئے لِکھتے ہیں کہ وزیراعظم کو ذاتی حیثیت میں پیٹیشن میں فریق نہیں بنایا گیا بلکہ اُنکو بطور وزیرِ اعظم فریق بنایا گیا ہے کیونکہ اُنکی ہدایت پر میرے خلاف صدر نے نااہلی کا ریفرنس سُپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا جو میں نے سُپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
اِس کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ایک انتہائی اہم نُکتے کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر چیف جسٹس کے مطابق میں وزیراعظم کے متعلق کیس اس لیے نہیں سُن سکتا کہ میں نے انکے خلاف پیٹیشن کررکھی ہے تو پھر تو میں نے اپنی پیٹیشن میں سُپریم جوڈیشل کونسل کو بھی فریق بنا رکھا ہے جِس کے تین معزز ارکان موجودہ بینچ کا بھی حصہ تھے جِس نے میرے خلاف فیصلہ سُنایا۔ تو کیا پھر وہ ججز بھی میرے بارے میں تعصب رکھتے ہیں اور جانبدار ہیں اور اِس لیے اُنکو میرے خلاف حُکم جاری نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ میری پیٹیشن میں چھٹا فریق سُپریم جوڈیشل کونسل ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اختلافی نوٹ میں انکشاف کرتے ہیں کہ پانچ رُکنی بینچ کے رُکن جسٹس عُمر عطا بندیال نے 22 دسمبر 2016 کو سُپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں شِرکت بھی کی اور ایک ایسے وقت میں جبکہ اُنکی پیٹیشن ابھی زیرِ التوا ہے انہوں جسٹس عُمر عطا بندیال نے پیٹیشن سُننے والے بینچ کی سربراہی سے خود کو علیحدہ بھی نہیں کیا جبکہ میرے خلاف صدارتی ریفرنس دس رُکنی بینچ مُشترکہ طور پر خارج کرچُکا ہے۔
جسٹس فائز عیسیٰ خود پر چیف جسٹس کی جانب سے تعصب اور غیر جانبداری کے الزام کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب میں عمران خان کو ذاتی حیثیت میں نہیں جانتا تو پھر میں کیسے اُن کے بارے میں تعصب رکھ سکتا ہوں؟ اور اگر میں اپنی ذمہ داریاں غیر جانبداری سے ادا کرنے میں ناکام رہتا ہوں تو میں آئینی ذمہٰ داریوں اور اپنے حلف کی خلاف ورزی کا مُرتکب ہوں گا جِس کے لیے میں اپنے ضمیر اور خُدا کو جوابدہ ہوں۔ فائز عیسیٰ ایک خوبصورت جُملہ سے اِس پیراگراف کا اختتام کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نہ تو میرے ساتھی ججز کو میرے ضمیر کی نگہبانی کی ضرورت ہے اور نہ ہی مُجھے اُنکے ضمیر کی۔ فائز عیسیٰ کا مزید کہنا تھا کہ ویسے بھی جب کسی جج پر جانبدار یا غیر جانبدار ہونے کا الزام لگتا یے تو کیس سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ اُس نے خود کرنا ہوتا ہے۔ جسٹس عیسیٰ مذید کہتے ہیں کہ اگر جانبداری یا تعصب کا الزام لگانا تھا تو وہ عمران خان کو خود لگانا چاہیے تھا اور اٹارنی جنرل بھی وزیرِ اعظم عمران خان کے ایماء پر تعصب کا الزام نہیں لگا سکتے تھے کیونکہ اُن کا کردار آئین میں واضح ہے اور وہ وزیرِ اعظم کے وکیل کا کردار ادا نہیں کرسکتے اور نہ ہی چیف جسٹس گلزار احمد وزیراعظم عمران خان کو یہ تعاون فراہم کرسکتے ہیں کہ ایک جج کو اُن کے مُقدمات کی سماعت سے روک دیں۔ نہ ہی آئین پاکستان اور قانون ججز کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنے ساتھی جج کے دِل کا حال جانچنے کا دعویٰ کریں کہ کیا اُس میں وزیرِ اعظم کے خلاف تعصب یا غیر جانبداری کی کمی تو نہیں ہے؟ جسٹس عیسیٰ کا کہنا تھا کہ صرف اللہ کی ذات ہی ہر کسی کے دِل کا حال جانتی ہے۔
اپنے اختلافی نوٹ میں جسٹس قاضی عیسیٰ کا چیف جسٹس گُلزار احمد کے بارے میں کہنا ہے کہ اُنہوں نے ایک غیر مُتعلقہ معاملہ اُٹھایا اور بغیر کسی کو سُنے خود سے ہی یکطرفہ طور پر سوچ لیا کہ میں عمران خان کے بارے میں تعصب رکھتا ہوں۔ جسٹس عیسیٰ کہتے ہیں کہ یہ کیس تین مُختلف تاریخوں تین فروری، دس فروری اور گیارہ فروری کو چیف جسٹس کے سامنے آیا لیکن کسی بھی موقع پر میری غیر جانبداری کے خلاف کوئی درخواست نہیں آئی اور نہ ہی وزیراعظم نے اپنے دستخط شُدہ تحریری جواب میں مجھ پر جانبداری کا اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو حُکمنامہ چیف جسٹس کی جانب سے گیارہ فروری کو میرے خلاف جاری کیا گیا، اسکی نہ صرف پاکستان کی عدالتی تاریخ میں بلکہ پوری دُنیا میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس میں ججوں نے اپنے ساتھی جج کے خلاف فیصلہ دیا۔ جسٹس عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ایک غیر معمولی انداز میں بغیر کسی ثبوت کے اور بغیر کسی فریق کی درخواست کے ایک ایسا فیصلہ دے کر سُپریم کورٹ کے ایک جج کے تشخص کو داغدار کیا گیا جِس کے نتیجہ میں سُپریم کورٹ کی اپنی ساکھ اور خودمُختاری کو کمزور ہو گئی۔
اِس موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سُپریم کورٹ کے مُتعدد کیسز کا حوالہ دیا جِس میں مُختلف ادوار میں پانچ سے زائد ججز کے لارجر بینچ نے مُختلف چیف جسٹسز کی سربراہی میں یہ طے کردیا تھا کہ کوئی بھی بینچ یا جج ساتھی جج کو نہ تو کسی کیس کی سماعت سے روک سکتا ہے، نہ ہدایت دے سکتا ہے، نہ دباؤ ڈال سکتا ہے اور نہ ہی حُکم دے سکتا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسلامی احکامات، احادیث اور قُرآنی آیات کی روشنی میں بھی اپنے خلاف دیے جانے والے فیصلے کو غلط ثابت کیا۔جسٹس عیسیٰ نے اِس عدالتی اصول کی بھی نشاندہی کی کہ ایک چھوٹا بینچ اپنے سے بڑے بینچ کے فیصلہ کے خلاف نہیں جاسکتا جبکہ چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رُکنی بینچ کے چار ججز نے اِس اصول سے بھی روگردانی کی۔ جسٹس عیسیٰ مزید لکھتے ہیں کہ اِس نوعیت کا حُکم جاری کرنا سُپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا اور نہ ہی فیصلے میں کسی بھی جگہ یہ حوالہ دیا گیا ہے کہ کِس اختیار کے تحت یہ فیصلہ جاری کیا گیا؟ جسٹس عیسیٰ ایک اور اہم نقطے کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کوئی بھی ہائیکورٹ یا سُپریم کورٹ خود سے اپنی حدود یا دائرہ کار میں اضافہ نہیں کرسکتے اگر پہلے سے قانون نے اُنکو وہ اختیار نہ دے رکھا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ جج کا حلف مُتقاضی ہے کہ وہ ہر طرح کے مُقدمات اپنی اہلیت کے مُطابق مُکمل ایمانداری سے آئین کے دائرہ میں رہ کر سُنے اور لوگوں کے ساتھ انصاف کرے اور جب لوگوں کی بات آتی ہے تو اُس میں عمران خان ذاتی حیثیت اور بطور وزیرِ اعظم شامل ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ایک جج کو اُس مخصوص مُقدمات سے روک کر آپ اُس کو دی جانے والی تنخواہ، الاونسز اور مراعات کو ضائع کررہے ہیں کیونکہ وہ اپنی ذمہ داری تو ادا نہیں کر رہا، جِس کے لیے اُس کو ٹیکس دہندگان تنخواہ ادا کررہے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم آئین سے وفادار رہیں اور میں پھر دہرا دیتا ہوں کہ اگر کسی ادارے کا سربراہ بھی آئین سے ہٹ کر کُچھ کرے تو ہمیں اُس کو یاد دلانا چاہیے کہ وہ آئین کے تابع ہے۔ جسٹس قاضی عیسیٰ نے اپنے خلاف حُکمنامہ میں بیس نقائص اور غیر قانونی باتوں کی نشاندہی کرنے کے بعد افسوس کا اظہار کیا کہ ایک عدالتی نوٹس جو ایک بدعنوان عمل اور رشوت کو روکنے کے لیے لیا گیا تھا اُس کا اختتام جج کو ڈانٹنے اور اس پر پابندی عائد کرنے پر ہوا۔ جسٹس فائز عیسیٰ اِس موقع پر اپنے دُکھ کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں وہ اِس تمام عمل سے اتنے دلبرداشتہ ہوئے کہ انہون نے استعفیٰ دینے کا سوچا لیکن پھر خیال آیا کہ یہ ایک جج کی ذات سے غیر مُنصفانہ سلوک کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اِس سے بہت اہم وہ آئینی ذمہ داری ہے جو مُجھے لوگوں کے حقوق اور مال کے تحفظ کے لیے ادا کرنی ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اپنے اختلافی نوٹ کے اختتام میں لکھتے ہیں کہ وہ اللہ کی مدد سے یہ ذمہ داری انشااللہ ادا کرتے رہیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button