جمہوریت کے فروغ کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا

پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے ایک بار پھر مفاہمت کی بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوریت کے فروغ کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا ،  بلوچستان جغرافیہ کے حساب سے بڑا اور آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے، قائداعظم کے قول کے تحت ہمیں سب کو ساتھ لیکر چلنا ہوگا ، تمام صوبوں کے عوام کا احترام اورعوام تک وسائل پہنچانے ہوں گے۔

قبل ازیں میاں محمد شہباز شریف وفد کے ہمراہ سردار اختر مینگل کے گھر پہنچے اور مرحوم سردار عطا اللّہ مینگل کے لیے فاتحہ خوانی اور دُعائے مغفرت کی ، انہوں نے کہا کہ مرحوم سردار عطا اللّہ مینگل نے آئین کی شق اٹھاون ٹو بی کے خلاف بھرپور جدوجہد کی ، ان کی جمہوریت اور آئین کی پاسداری کے لئے خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی ، میاں نواز شریف اور عطا اللّہ مینگل کا اچھا تعلق رہا ہے، انہوں نے آئین میں شق 58 ٹوبی جس نے کئی جمہوری حکومتوں کو گھر بھیج تھا اس کے خلاف بڑھ چڑھ کر کام کیا۔

واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہبازشریف نے اس سے پہلے قومی حکومت بنانے کی تجویز دے دی ، انہوں نے کہا کہ بہت سارے مسائل اور چیلنجز کا سامنا ہے، قومی حکومت بناکر ہی مسائل اور چیلنجز سے نمٹا جاسکتا ہے، کوئی ایک جماعت تنہا ء موجودہ صورتحال کو نہیں سنبھال سکتی،میری رائے ہے الیکشن میں موقع ملے تو قومی حکومت بنائیں ، مجھ پر مفاہمت کا لیبل لگا ہوا ہے، مجھے بتائیں اگر مجھ پر مفاہمت کا لیبل درست ہے تو مجھے اس کا کیا فائدہ ہوا؟ 35 سالوں کی سیاست میں بہت ساری آفرز آئیں، ہم سے بھی غلطیاں ہوئیں۔

تاہم مریم نواز نے شہباز شریف کی قومی حکومت کی تجویز کی مخالفت کردی، انہوں نے کہا کہ شہبازشریف نے قومی حکومت کی نہیں قومی مفاہمت کی بات کی لیکن میں حکومت سے بات کرنے کے حق میں بھی نہیں ہوں ، حکومت سے مفاہمت کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا ، حکومت جو کچھ کررہی ہے سب قوم کے سامنے ہے ، حکومت کی 3 سالہ کارکردگی تباہی اور بربادی کی داستان ہے ، حکومتی نااہلی کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ہوا ، کیا کسی نے سنا کہ بجلی ستی ہوئی ،اشیا خورونوش کی قیمتیں کم ہوئی؟ حکومت کو اپنی کارکردگی کی پرواہ نہیں ، حکومت نےعوام دشمنی کی مثال قائم کردی ، ساڑھے 3 سالوں میں کسی نے خیر کی خبر سنی؟ حکومت کو پرواہ ہے تو بس اس بات کی کہ کیسے اپوزیشن کو تنگ کرنا ہے۔

Back to top button