جناح اسپتال کراچی سمیت چار اسپتالوں کا انتظام سنبھالنے کیلئے وفاق کا اہم قدم

وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز ضوابط اور کوآرڈینیشن نے ایک نوٹی فکیشن جاری کیا ہے جس کے تحت کراچی کی تین اور لاہور میں واقع ایک اسپتال سمیت صحت کی چار سہولیات کو فیڈرل میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹ آرڈیننس 2020 کے شیڈول میں شامل کیا گیا ہے۔
ان اداروں میں کراچی کا جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر(جے پی ایم سی)، قومی ادارہ برائے امراض قلب(این آئی سی وی ڈی) اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چلڈرن ہیلتھ (این آئی سی ایچ) ہیں اور لاہور کا شیخ زید پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ (ایس زیڈ پی ایم آئی) شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 7 جنوری 2021 کے نوٹی فکیشن میں محکمہ صحت سندھ کو مارک نہیں کیا گیا ہے جو ایک اہم اسٹیک ہولڈر ہے اور ایک دہائی سے کراچی کے اسپتالوں کا انتظامی کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے۔ جے پی ایم سی کے ایک سینئر ڈاکٹر نے کہا کہ جے پی ایم سی، این آئی سی ایچ اور این آئی سی وی ڈی کو سنبھالنے کےلیے وفاقی حکومت کا یہ پہلا قدم ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وفاقی حکومت نے ان اداروں کو پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین کے ذریعے چلانے کا ارادہ کیا ہے، انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہا کہ اس نوٹی فکیشن میں پمز بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین کو بھی مارک کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ جے پی ایم سی، این آئی سی ایچ اور این آئی سی وی ڈی کو 2011 سے انتظامی غیر یقینی صورت حال کا سامنا جہاں ان اداروں کے ملازمین نے 18 ویں آئینی ترمیم کے تحت اداروں کی صوبے میں ممکنہ منتقلی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے مداخلت کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ معاملہ 2016 میں اس وقت تک زیر التوا رہا جب عدالت نے حکم دیا کہ ان اسپتالوں کا کنٹرول وفاقی حکومت کے پاس رہے گا تاہم اس فیصلے کو اسی سال سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کی طرف سے دائر اپیل پر معطل کردیا تھا۔ جنوری 2019 میں سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کی اپیل مسترد کردی اور وفاقی حکومت کو کراچی میں جے پی ایم سی، این آئی سی ایچ نیز ایس زیڈ پی ایم آئی کو بھی کنٹرول کرنے کا حکم دیا، مزید یہ کہ عدالت نے منتقلی کے لیے 90 دن کی میعاد طے کردی۔ گزشتہ سال جے پی ایم سی اور این آئی سی وی ڈی ملازمین نے مذکورہ حکم پر عمل درآمد نہ کرنے پر وفاق کے خلاف سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی، وفاقی حکومت نے بالآخر چھ ہفتوں میں فیصلے پر عمل درآمد کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
