جنرل اسلم بیگ کا بھٹو اور بے نظیر کو غدار ماننے سے انکار

http://https://www.youtube.com/watch?v=AdOCCinFW7g
سینئر صحافی حامد میر نے اپنے دور کے متنازع آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ کی سوانح حیات بعنوان ‘اقتدار کی مجبوریاں’ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک فوج کے سابق سربراہ کے خیال میں نہ تو ذوالفقار علی بھٹو غدار تھے، نہ ہی محترمہ بے نظیر بھٹو سکیورٹی رسک تھیں اور جو کچھ نواز شریف کے ساتھ ہوا، وہ سب ایک سازش تھی۔ اسلم بیگ نے عمران خان کو پاکستانی پارلیمنٹ بے وقعت کرنے کا ذمہ دار بھی قرار دیا ہے۔
حامد میر کے مطابق اسلم بیگ کی سوانح عمری کا ٹائٹل بڑا دلچسپ ہے جس میں جنرل صاحب کی تصویر کے نیچے ایک خاکی روبوٹ نما انسان ایک کچے دھاگے پر چل رہا ہے اور اس کے پیچھے ایک قینچی نظر آ رہی ہے، جو کسی بھی وقت دھاگے کو کاٹ سکتی ہے۔ حامد میر کہتے ہیں کہ ٹائٹل حیرت سے بھرپور تھا لیکن جب کتاب کا مطالعہ مکمل کیا تو پتہ چلا کہ خلافِ توقع فوج کے ایک سابق سربراہ نے اپنی سوانح عمری میں کچھ ایسے اعترافات کیے ہیں جو میرے لیے تو نئے نہیں تھے لیکن جنرل بیگ کی زبانی ان سچائیوں کا سامنے آنا موجودہ گھٹن زدہ ماحول میں تازہ ہوا کا ایک جھونکا محسوس ہوا۔
ایک غیرملکی ویب سائٹ کے لیے اپنی تحریر میں حامد میر کہتے ہیں کہ حیرت میں جب خوشی شامل ہو جائے تو خوش گوار حیرت کہلاتی ہے۔ سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کی سوانح حیات کے نام نے مجھے ایسی ہی حیرت میں مبتلا کر دیا۔ جنرل صاحب کی زندگی کی یہ کہانی کرنل اشفاق حسین نے لکھی ہے۔ یہ وہی کرنل اشفاق حسین ہیں، جو ‘جنٹل مین بسم اللہ‘ اور ‘جنٹل مین استغفرللہ‘ جیسی مشہور کتابوں کے مصنف ہیں۔ بارہ اکتوبر 1999ء کو جنرل پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا تو ان کی پہلی تقریر انہی کرنل اشفاق حسین صاحب نے اس وقت کے کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل مظفر عثمانی کے ساتھ مل کر لکھی تھی۔
حامد میر کہتے ہیں کہ مشرف کی تقریر لکھنا ایک پیشہ ورانہ ذمہ داری تھی لیکن جنرل مرزا اسلم بیگ کی سوانح عمری لکھ کر کرنل اشفاق حسین نے ایک قومی ذمہ داری ادا کی ہے اور میں دعا کرتا ہوں کہ ان پر آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کے الزام میں کوئی مقدمہ درج نہ ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ میں سال ہا سال سے یہ سنتا آ رہا تھا کہ جنرل ضیاالحق کے طیارے کے حادثے میں جنرل مرزا اسلم بیگ ملوث تھے۔ ان پر اصغر خان کیس میں پیپلز پارٹی کے سیاسی مخالفین میں خفیہ طور پر الیکشن سے پہلے رقوم بانٹنے کا الزام بھی لگا۔ جنرل صاحب نے اپنی سوانح عمری میں ان تمام الزامات کا جواب دیا ہے۔ لیکن میرے لیے یہ زیادہ اہم ہے کہ جنرل مرزا اسلم بیگ نے یہ اعتراف کیا کہ 1964ء میں جنرل ایوب خان کے مقابلے میں محترمہ فاطمہ جناح کو زیادہ مقبولیت حاصل تھی لیکن انہیں دھاندلی کے ذریعے ہرا دیا گیا، جس سے مشرقی پاکستان کے عوام میں بددلی پھیلی۔
جنرل مرزا اسلم بیگ نے 1950ء میں پاکستانی آرمی میں کمیشن حاصل کیا۔ وہ پہلے آرمی چیف تھے، جو پاکستان ملٹری اکیڈمی سے تربیت یافتہ تھے۔ جنرل ایوب خان اور جنرل ضیاء الحق کی طرح برطانوی فوج کے تربیت یافتہ نہیں تھے۔ انہوں نے مشرقی پاکستان میں نہ صرف خدمات انجام دیں بلکہ بھارتی فوج کے خلاف ایکشن میں بھی شامل رہے۔ حامد میر کے مطابق اسلم بیگ اپنی سوانح عمری میں فرماتے ہیں کہ جولائی 1971ء تک فوج نے مشرقی پاکستان میں حالات کنٹرول کر لیے تھے، جس کے بعد لیفٹیننٹ کرنل مرزا اسلم بیگ نے تحریری طور پر لیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ نیازی کو کہا کہ اب اقتدار سول انتظامیہ کے سپرد کر کے سیاسی عمل شروع کیا جائے۔ یہ بات جنرل نیازی کو پسند نہ آئی کیوں کہ وہ طاقت کے نشے میں چور تھے۔ انہوں نے ایسے ریمارکس پاس کیے، جو ہمارے جنرل آفیسر کمانڈنگ کو پسند نہ آئے اور تلخ کلامی ہو گئی۔ تین دن کے اندر اندر کمانڈ تبدیل ہو گئی اور مرزا اسلم بیگ زیرعتاب آ گئے۔ انہیں واپس راولپنڈی بھیج دیا گیا۔ انہوں نے ایڈمرل احسن اور جنرل صاحب زادہ یعقوب علی خان کا بھی ذکر کیا ہے، جو سیاسی عمل بحال کرنے کے حامی تھے۔ جب ان کی بات نہ سنی گئی تو انہوں استعفیٰ دے دیا۔ حامد میر کہتے ہیں کہ یہی موقف فیض احمد فیض، حبیب جالب اور میرے والد پروفیسر وارث میر سمیت بہت سے سویلینز کا بھی تھا، جو مشرقی پاکستان میں عوام مخالف ملٹری ایکشن کے خلاف تھے، لیکن ان سب کو غدار قرار دیا گیا، جب کہ مرزا اسلم بیگ بعد ازاں آرمی چیف بن گئے۔
اپنی سوانح عمری میں جنرل صاحب نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ 1979 میں جب وہ میجر جنرل تھے، تو جنرل ضیاء نے اپنے افسروں کی رائے معلوم کی کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی جائے یا نہیں۔ جنرل اسلم بیگ کا دعوی ہے کہ انہوں نے بھٹو کی پھانسی کی مخالفت کی اور موقف اپنایا کہ اس سے پنجاب اور سندھ میں نفرت مذید بڑھے گی۔ انہوں نے یہ ذکر بھی کیا ہے کہ جنرل ضیاء نے مسجد الحرام میں شاہ خالد سے وعدہ کیا تھا کہ وہ بھٹو کو پھانسی نہیں دیں گے، لیکن انہوں نے اپنے وعدے کا پاس نہیں کیا۔ لیکن یہ بھی یاد رہے کہ بھٹو کی پھانسی کے بعد ضیا نے جنرل بیگ کو چیف آف جنرل اسٹاف بنا دیا تھا۔
حامد میر کہتے ہیں کہ جنرل صاحب کا دعویٰ ہے کہ 1985ء میں انہوں نےجنرل حمید گل کے ساتھ مل کر ایک رپورٹ لکھی اور جنرل ضیاء کو سفارش کی کہ صاف ستھرے الیکشن کروا کر اقتدار منتخب نمائندوں کے سپرد کر دیا جائے، جس پر جنرل ضیاء نے کہا، ”تم چاہتے ہو کہ پھانسی کا پھندہ میرے گلے میں ہو۔‘‘ بعد ازاں جنرل ضیاء نے غیر جماعتی انتخابات کروائے اور محمد خان جونیجو وزیراعظم بن گئے۔ 1987ء میں جنرل ضیا نے جنرل زاہد علی اکبر کو وائس چیف آف دی آرمی اسٹاف بنانے کا فیصلہ کیا لیکن وزیراعظم جونیجو نے جنرل مرزا اسلم بیگ کا نام تجویز کیا، جسے جنرل ضیا نے قبول کر لیا۔ جنرل مرزا اسلم بیگ نے اپنی سوانح عمری میں مختلف دلائل اور شواہد کی بنیاد پر دعویٰ کیا ہے کہ جنرل ضیاء کے طیارے کا حادثہ کوئی سازش نہیں تھی بلکہ یہ تکنیکی خرابی کے باعث پیش آنے والا ایک افسوس ناک واقعہ تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ واقعہ ان کی سازش ہوتی تو وہ اقتدار پر خود قبضہ کر لیتے لیکن انہوں نے حادثے کے تین گھنٹے کے اندر اقتدار تب کے چیئرمین سینیٹ غلام اسحاق خان کے حوالے کر دیا۔
ء1988 کے انتخابات کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو وزیراعظم بن گئیں۔ اپنی سوانح عمری میں مرزا اسلم بیگ نے محترمہ کے ساتھ اپنے ذاتی اختلافات کو پس پشت ڈال کر اعتراف کیا ہے کہ 1990 کے اوائل میں بھارت نے ہماری ایٹمی تنصیبات تباہ کرنے کا منصوبہ بنایا تو محترمہ نے صاحب زادہ یعقوب علی خان کو دہلی بھیجا اور بھارت کو پیغام دیا کہ باز آ جاؤ ورنہ ہم تمہاری تنصیبات تباہ کر کے رکھ دیں گے۔ اسلم بیگ کے مطابق محترمہ بے نظیر بھٹو نے بڑی دانشمندی سے نیوکلیئر پالیسی آگے بڑھائی۔ اس دور میں محترمہ کی اجازت سے بھارت کے خلاف لائن آف کنٹرول پر ایک کامیاب سرجیکل اسٹرائیک کی گئی۔ بوسنیا میں مسلمانوں پر سرب فوج بڑا ظلم کر رہی تھی، محترمہ کی اجازت سے بوسنیا کو اینٹی ٹینک میزائل دیے گئے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو پہلی وزیراعظم تھیں، جو سیاچین کے بلند ترین محاذ کے دورے پر گئیں۔ حامد میر بتاتے ہیں کہ جنرل صاحب نے اپنی سوانح عمری میں محترمہ کے ساتھ پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کا بھی ذکر کیا ہے اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان کے اصل اختلافات صدر غلام اسحاق خان کے ساتھ تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ 1990 میں محترمہ کی حکومت گرانے کے فیصلے پر میری خاموشی کو محترمہ نے سازش سمجھا اور پھر 1994ء میں میرے خلاف اصغر خان کے ذریعے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی۔ لیکن اس تلخ واقعے کو نظر انداز کر کے جنرل مرزا اسلم بیگ نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں اہم کردار ادا کرنے والی پانچ قومی شخصیات کے ساتھ اس ملک میں بہت ظلم ہوا۔ جنرل صاحب نے ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں کہا ہے، ”انہیں عدالتی قتل سے ختم کیا گیا۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ چونکہ جنرل ضیاء نے ایٹمی پروگرام جاری رکھا اس لیے انہیں سازش کے تحت قتل کیا گیا۔ لیکن حامد میر کہتے ہیں کہ یاد رہے کہ اسی کتاب میں اس سے پہلے جنرل بیگ نے جنرل ضیاء کی موت کو ایک حادثہ قرار دیا ہے۔
اسلم بیگ کے مطابق ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھی بدترین تضحیک کا نشانہ بنائے گئے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے ہماری ایٹمی قوت میں منطق اور ٹھہراؤ کا عنصر شامل کیا لیکن وہ بھی دہشت گردی کا شکار ہو گئیں۔ نواز شریف کے بارے میں جنرل بیگ نے کہا ہے کہ انہوں نے ایٹمی دھماکے کر کے بھارت کو موثر جواب دیا لیکن بعد ازاں وہ نکالے گے اور آٹھ سال تک جلاوطن رہے۔ میان صاحب دوبارہ وزیراعظم بنے لیکن پھر سازش کے تحت انہیں اقتدار سے الگ کر دیا گیا۔
حامد میر کہتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل اور نواز شریف کے خلاف عدالتی فیصلے کو سازش قرار دے کر جنرل مرزا اسلم بیگ نے مجھ سمیت بہت سے پاکستانیوں کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کیا ہے۔ انہوں نے مرحوم کشمیری رہنما مقبول بٹ کا ذکر بھی بڑی محبت اور عقیدت سے کیا ہے اور بتایا ہے کہ مقبول بٹ بھارتی جیل توڑ کر واپس آئے تو جنرل ایوب خان کے حکم پر انہیں گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا کیوں کہ مقبول بٹ 1964ء میں محترمہ فاطمہ جناح کی انتخابی مہم کے انچارج کے ایچ خورشید کے ساتھی رہے تھے۔ جنرل صاحب نے عمران خان پر بھی کافی تنقید کی ہے۔ انہیں جلدباز اور پارلیمنٹ کو بے وقعت بنانے کی وجہ قرار دیا ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ پاکستانی فوج کے ایک سابق سربراہ کے خیال میں نہ تو ذوالفقار علی بھٹو غدار تھے، نہ ہی محترمہ بے نظیر بھٹو سکیورٹی ۔رسک تھیں اور جو کچھ نواز شریف کے ساتھ ہوا، وہ سب ایک سازش تھی
