جنرل باجوہ نے ڈان لیکس کا حرام ایجنڈا حلال کیسے کر لیا؟

دیر آئے درست آئے کے مصداق بالآخر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی اس حقیقت کا اعتراف کر لیا ہے کہ جب تک ہم اپنے گھر کو ٹھیک نہیں کرتے ہم باہر والوں سے کوئی توقعات نہیں رکھ سکتے اور یہ کہ انڈیا اور پاکستان کو خطے میں امن کی خاطر اپنے ماضی کو دفن کر کے آگے بڑھنا چاہیے۔
اس حوالے سے سوشل میڈیا پر اکثر صارفین یہ سوال پوچھتے نظر آ رہے ہیں کہ جب یہی باتیں نواز شریف اور ان کی حکومت کے دیگر عہدیدار کیا کرتے تھے تو انھیں ’مودی کا یار‘ اور ڈان لیکس والے غدار جیسے خطابات سے نوازا جاتا تھا۔ لہذا اب ایسی کیا تبدیلی آ گئی ہے کہ 2016 میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سےحرام قرار دیا جانے والا ڈان لیکس کا ایجنڈا آج حلال قرار پایا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے یہ باتیں 18 مارچ کو اسلام آباد سکیورٹی ڈائیلاگ 2021 کی تقریب میں تقریر کے دوران کیں جس کے بعد جہاں کئی لوگ انکے بیان کو سراہتے نظر آئے وہیں سوشل میڈیا پر صارفین سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے ’بیانیے‘ اور ’ڈان لیکس‘ کا ذکر کرتے بھی نظر آئے جس کی بنیاد اور فوجی اسٹیبلشمنٹ نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو غدار وطن اور مودی کا یار قرار دے دیا تھا اور پھر اقتدار سے بے دخل بھی کر دیا تھا۔
کشمیر پالیسی سے متعلق جنرل باجوہ کے بیان پر سیاسی تجزیہ نگار یہ سوال کر رہے ہیں کہ یہی پالیسی تو ماضی میں مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں نے اپنائی تھی لیکن تب اسی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ان کے راستے میں روڑے اٹکائے تھے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شاید اب فوجی اسٹیبلشمنٹ کو ایف اے ٹی ایف کے بین الاقوامی دباؤ کے تحت اپنی سابقہ پالیسی سے یوٹرن لینا پڑ گیا ہے اور اسی وجہ سے اب وہ ہمسایہ ممالک میں عدم مداخلت اور ان کے ساتھ بھائی چارہ ڈالنے کا ایجنڈا لے کر نکل پڑی ہے۔ اپنی 18 مارچ کی تقریر میں جنرل قمر باجوہ نے پہلی بات انڈیا پاکستان تعلقات اور کشمیر کے مسئلے کے تناظر میں کی اور کہا گیا کہ بامعنی مذاکرات سے قبل ہمارے پڑوسی ملک انڈیا کو خاص طور پر اپنے زیرانتظام کشمیر میں ماحول کو سازگار بنانے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔
تاہم دوسری بات خطے میں معاشی و اقتصادی استحکام کو یقینی بنانے والے چار نکات سے متعلق تھی۔ ان میں اندرونی و بیرونی امن کی بحالی، اپنے ہمسایوں اور خطے کے ممالک کے معاملات میں کسی قسم کی مداخلت سے گریز کرنا، خطے میں تجارت اور آمدورفت کی بہتری کو فروغ دینا، سرمایہ کاری اور اقتصادی مراکز کے قیام کے ذریعے پائیدار ترقی کو یقینی بنانا شامل ہیں۔
ان نکات کا ذکر کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ’ہمیں احساس ہو گیا تھا کہ جب تک ہم اپنے گھر کو ٹھیک نہیں کرتے ہم باہر سے کوئی توقعات نہیں رکھ سکتے‘۔ سوشل میڈیا پر جنرل باجوہ کے اس بیان کے تناظر میں نواز شریف کے ذکر کی وجہ ماضی میں ان کی کشمیر پالیسی سے متعلق دیے گئے بیانات اور ’ڈان لیکس‘ کے معاملے میں فوجی افسران سے ہونے والی تکرار قرار دی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر اکثر صارفین یہ سوال پوچھتے نظر آ رہے ہیں کہ جب یہی باتیں نواز شریف کررے تھے تو انھیں ’مودی کا یار‘ کہا جاتا تھا اور ڈان لیکس جیسے تنازعات سامنے آتے تھے۔ لیکن اب جنرل باجوہ نے خود ڈان لیکس والا ایجنڈا اپنا لیا ہے۔ یاد ریے جنرل باحوہ سے ایک دن پہلے 17مارچ کو وزیراعظم عمران خان نے بھی اپنی ایک تقریر میں ایسی ہی باتیں کی اور بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بھی بڑھایا۔ چنانچہ سوشل میڈیا صارفین یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ اب بجائے کہ جنرل باجوہ وزیر اعظم عمران خان کو مودی کا یار قرار دیتے، انہوں نے انکے موقف کو دہراتے ہوئے بھارت اور دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستی کی باتیں شروع کردی ہیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز اسلام آباد میں اسی تقریب کے پہلے روز خطاب کرتے ہوئِے عمران خان نے کہا تھا کہ پاکستان سے تعلقات بحال کرنے کے لیے انڈیا کو پہلا قدم اٹھانا چاہیے۔ اس ضمن میں رواں برس فروری میں ہونے والی یہ پیش رفت بھی اہم ہے جس میں انڈیا اور پاکستان نے ایک دوسرے کے بنیادی معاملات اور تحفظات کو دور کرنے اور ایل او سی پر جنگ بندی پر سختی سے عمل کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اس دوران اس طرح کی اطلاعات بھی آئی تھی کہ پاکستان اور بھارت کے مابین بیک ڈور خفیہ ڈپلومیسی کا سلسلہ چل نکلا ہے۔ یعنی وہی اسٹیبلشمنٹ جو ایسا ہی ایجنڈا دینے پر 2016 میں نواز شریف کو غدار قرار دے رہی تھی اس نے اب کپتان حکومت کے ساتھ مل کر ڈان لیکس کے ایجنڈے پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ 6 اکتوبر 2016 کے روز انگریزی اخبار ڈان میں سیرل المیڈا نے وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے ایک اہم اجلاس سے مبینہ طور پر لیک ہونے والی معلومات پر مبنی ایک خبر دی تھی۔ اس خبر میں غیر ریاستی عناصر یا کالعدم تنظیموں کے معاملے پر فوج اور سول حکومت میں مبینہ اختلاف کا ذکر کیا گیا تھا اور حکومت کی جانب سے ان عناصر کے خلاف فوری کارروائی کرنے کے مطالبے اور بصورتِ دیگر بین الاقوامی منظر نامے میں تنہا رہ جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔
یہ خبر ایک سکینڈل کی شکل اختیار کر گئی جسے بعد میں ’ڈان لیکس‘ کا نام دیا گیا۔ اس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حکومت کی جانب سے فوجی افسران کو پٹھان کوٹ حملے کے حوالے سے تحقیقات میں معاونت کرنے اور عسکریت پسند تنظیم جیش محمد کے خلاف کارروائی کرنے کا کہا گیا تھا۔ حکومت اور فوج دونوں نے اس خبر کو من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیا تھا۔ یاد رہے کہ اس خبر کی بنیاد ملک کی سول اور فوجی قیادت کے مابین ہونے والی ایک ملاقات کا احوال تھا جس میں تب کہ وزیراعظم نواز شریف، پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف، آرمی چیف جنرل باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر نے شرکت کی تھی۔ تب اسٹیبلشمنٹ نے یہ الزام لگایا تھا کہ اس ملاقات کی خبر وزیر اطلاعات پرویز رشید نے سرل المیڈا کو لیک کی جس کے بعد پرویز رشید سے استعفیٰ لے لیا گیا تھا۔
عدالت کی جانب سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد بھی نواز شریف کی جانب سے جنوری سنہ 2018 میں ایک بیان میں ’اپنا گھر ٹھیک کرنے‘ کے بارے میں بات کی گئی تھی۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’ہمیں خود فریبی کے چنگل میں نہیں پھسنا چاہیے اور یہ سمجھنا چاہیے کہ دنیا میں پاکستان کے حوالے سے منفی تاثرات کیوں پائے جاتے ہیں۔‘ اس کے بعد مئی 2018 میں ڈان اخبار میں نواز شریف کا سرل المیڈا کو دیا گیا ایک انٹرویو شائع ہوا تھا جس میں جب نواز شریف سے پوچھا گیا کہ انھیں عوامی عہدے سے ہٹانے کی کیا وجوہات ہوسکتی ہیں تو نواز شریف نے براہ راست جواب دینے کے بجائے اس کا رخ خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کی جانب موڑ دیا تھا۔ ڈان اخبار کے مطابق نواز شریف نے کہا تھا کہ ‘ہم نے خود کو تنہائی کا شکار کر لیا ہے۔ ہماری قربانیوں کے باوجود ہمارے موقف کو قبول نہیں کیا جاتا۔ افغانستان کے موقف کو قبول کیا جاتا ہے، لیکن ہمارے نہیں۔ ہمیں اس جانب توجہ دینا ہوگی۔’
ڈان میں شائع ہونے والے انٹرویو کے مطابق نواز شریف نے کہا تھا کہ ‘عسکری تنظیمیں فعال ہیں۔ انھیں غیرریاستی عناصر کہا جاتا ہے، کیا ہم انھیں اجازت دے سکتے ہیں کہ وہ سرحد پار جا کر ممبئی میں 150 لوگوں کا قتل کریں؟’ اس انٹرویو کے بعد انھیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور قومی سلامتی کونسل کا اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں اس بیان کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی گئی تھی۔ خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی جانب سے ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے اور کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں تیز ہونے پر اکثر ڈان لیکس کا تذکرہ کیا جاتا رہا ہے۔
آرمی چیف کی جانب سے اب ڈان لیکس کے عین مطابق دیے گئے بیان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صحافی طلعت حسین نے کہا کہ ’بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ دونوں اہداف موجودہ زہر آلودہ اور انتقام زدہ سیاسی ماحول میں ہو سکتے ہیں؟ کیا عناد، بغض اور انا کے ڈھیر ہٹائے بغیر کوئی بھی قومی مقصد حاصل ہو سکتا ہے؟‘ جنوبی ایشیا کے معاملات پر نظر رکھنے والے مائیکل کوگلمین کا کہنا ہے کہ ’میرے اندازے کے مطابق یہ پہلا عالمی ڈائیلاگ ہے جو پاکستان کی جانب سے منعقد کروایا گیا ہے اور اس کی میزبانی کرنے کا یہی صحیح وقت تھا۔ اس کے ذریعے انتہائی اہم پالیسی تقاریر سامنے آئی ہیں جن میں سب سے اہم جنرل باجوہ کی ہے۔‘ تاہم دیگر صارفین یہ پوچھتے دکھائی دیے کہ، ان کے مطابق، یہی باتیں کہنے پر نواز شریف ’غدار‘ کیوں قرار پائے تھے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’نواز شریف کہے تو غداری، باجوہ کہے تو وفاداری، کیا بات ہے۔‘ ایک اور صارف نے قدرِ تلخ الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ’باجوہ صاحب اپنا گھر ٹھیک کرنے کی ذمہ داری آپ کی نہیں بلکہ عوام اور عوام کے منتخب نمائندوں کی ہے۔ آپ کا کام گھر کی حفاظت کرنا ہے آپ برائے مہربانی اس کام پر توجہ دیں بجائے کہ سیاست کی ہانڈی میں ڈوئیاں مارتے پھریں۔
