جنرل باجوہ کو 2 سال کی ایکسٹینشن کیسے مل سکتی ہے؟


2019 میں بطور وفاقی وزیر قانون جنرل قمر جاوید باجوہ کو آرمی چیف کے عہدے پر تین سال کی ایکسٹینشن دلوانے میں کلیدی کردار ادا کرنے والے سینیٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ جنرل باجوہ کو اب بھی دو سال کی توسیع مل سکتی ہے، کیونکہ آرمی ایکٹ میں عمر کی حد 64 برس ہے جب کہ جنرل باجوہ نومبر میں 62 سال کے ہونگے لہذا وہ توسیع کے اہل ہیں۔ فروغ نسیم نے کہا کہ وزیر اعظم کی ایڈوائس پر صدر مملکت جنرل قمر جاوید باجوہ کو توسیع دے سکتے ہیں، جس کیلئے سمری طے شدہ آئینی طریقہ کار کے تحت تیار کی جائے گی، لیکن انہوں نے کہا کہ پہلے یہ چیک کرنا ضروری ہے کہ آیا جنرل باجوہ مزید توسیع لینے کی خواہش رکھتے بھی ہیں یا نہیں کیوں کہ 2019 میں بھی وہ ایکسٹینشن نہیں لینا چاہتے تھے لیکن وزیر اعظم عمران خان اور صدر عارف علوی نے انہیں یہ ذمہ داری سونپ دی اور ان سے درخواست کی کہ ملکی حالات کے پیش نظر آپ اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں، فروغ نسیم نے یاد دلایا کہ تب نون لیگ اور پیپلز پارٹی سمیت تمام جماعتوں کی رائےتھی کہ جنرل قمر باجوہ کو تین برس کی توسیع دینے کے لیے آرمی ایکٹ میں ترامیم کر لی جائیں لہذا ان ترامیم کو بھی اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا۔

عمران خان کی جانب سے جنرل باجوہ کو اگلے انتخابات تک اپنے عہدے پر برقرار رکھنے کی تجویز بارے اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر فروغ نسیم نے کہا کہ ان کی مدت ملازمت 29 نومبر 2023 کو ختم ہو رہی ہے۔ ایسے میں پاکستان آرمی ایکٹ کے مطابق انہیں دو سال تک توسیع مزید مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نومبر اور دسمبر میں جنرل باجوہ کی عمر 62 سال ہو جائیگی جب کہ آرمی ایکٹ میں لکھا ہے کہ (up to three years)، یعنی مزید تین سال تک کسی بھی آرمی چیف کی توسیع ہو سکتی ہے، انہوں نے بتایا کہ پاکستان آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2020 کے نام سے کی جانے والی قانون سازی کے مطابق تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور چیئرمین آف جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کی ریٹائرمنٹ کی زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 64 برس مقرر کی گئی تھی۔

فروغ نسیم نے کہا کہ آرمی چیف کی توسیع کے لئے طریقہ کار یہ ہوگا کہ سب سے پہلے سیکرٹری دفاع اور وزارت دفاع سمری بنائے گی جو وزیر دفاع کے پاس جائے گی، جو یہ سمری وزیر اعظم کو بھیجیں گے۔ پھر وزیر اعظم صدر مملکت کو ایڈوائس جاری کرینگے جس کے بعد صدر توسیع کی سمری پر دستخط کر ینگے۔ پھر یہ سمری واپس سیکرٹری دفاع کے پاس آئیگی جس کے بعد وہ باقاعدہ مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کریں گے۔ فروغ نسیم کے مطابق یہ کہنا کہ آرمی چیف کے عہدے میں توسیع کے لیے نئی سمری کی ضرورت نہیں، غلط موقف ہے۔

یاد رہے کہ عمران خان نے نئے آرمی چیف کی تعیناتی نئی حکومت کے قیام تک موخر کرنے اور تب تک جنرل قمر باجوہ کو توسیع دینے کی تجویز پیش کر کے بحران زدہ سیاست میں ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ شہباز حکومت نئے آرمی چیف کے تقرر کی اہلیت نہیں رکھتی کیونکہ نواز شریف اور آصف زرداری ایسا کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ تاہم انکا کہنا تھا کہ اگر یہ دونوں اگلا الیکشن جیت جاتے ہیں تو پھر سپہ سالار کا انتخاب کر لیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جنرل باجوہ اس سال کے آخر تک ریٹائر ہونے والے ہیں اور حکومتوں کے بنانے یا بگاڑنے میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے کردار کے باعث حکمران جماعتوں اور پی ٹی آئی دونوں کی شدید خواہش ہے کہ نیا آرمی چیف تعینات کرنے کا موقع انہیں ملے۔

یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی کیلئے طے شدہ قانونی طریقہ کار موجود ہے۔ اس کے تحت ملک کے وزیر اعظم کو چند نام پیش کئے جاتے ہیں جن میں سے ایک کا انتخاب وزیر اعظم کا آئینی اختیار ہے۔ عمران خان نے جنرل باجوہ کو توسیع دینے کیلئے یہی اختیار اگست 2019ء میں استعمال کیا تھا مگر اب موجودہ وزیر اعظم کو نیا آرمی چیف مقرر کرنے کا حق دینے کیلئے تیار نہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے قانون میں گنجائش نکالنے کی بھی بات کی اور کہا ہے کہ وکلا نے مجھے بتایا میری تجویز کو قابل عمل بنانے کیلئے کوئی شق تلاش کی جا سکتی ہے ۔ آرمی رولز میں چیف کے تقرر کیلئے واضح قواعد و ضوابط ہونے کے باوجود اس طرح کی تجویز فوج کے سربراہ کی تعیناتی کو متنازع بنانے کے مترادف ہے۔

اگرچہ عمران نے وضاحت کی ہے کہ وہ آرمی چیف کا تقرر میرٹ پر چاہتے ہیں لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ خان صاحب اپنی پسند کو ہی میرٹ سمجھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ حکومت میں ہوں یا نہ ہوں انتظامیہ، عدلیہ، الیکشن کمیشن، فوج اور تمام ریاستی ادارے ان کی مرضی کے تابع ہوں کیونکہ ’’پوری قوم‘‘ ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ ایسے میں حکومت جو بھی آرمی چیف لگائے گی عمران اسے یقینی طور پر متنازعہ بنانے کی کوشش کریں گے۔

Back to top button