جنرل باجوہ کے جانے سے عمران کے سر کا سایہ کیسے اٹھ گیا؟

معروف اینکر اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے رخصت ہونے کے بعد عمران خان کو جلد احساس ہوگا کہ باجوہ صاحب تمام تر شکوئوں کے باوجود ان کے سر کا سایہ تھے جس نے انہیں برسوں دھوپ کی تمازت سے بچائے رکھا۔ عمران خان کا کھیل ابھی ختم نہیں ہوا۔ جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد ان کے ساتھ ایک نیا کھیل شروع ہونے والا ہے اور باجوہ صاحب سے اثاثوں کا حساب مانگنے والوں کو اب اپنا حساب دینا ہوگا اور اگلے الیکشن بھی یہ حساب کتاب مکمل ہونے کے بعد ہی ہوں گے۔ ایسے میں شاید ہم خان صاحب کے ’’فیض‘‘ سے محروم ہی رہیں گے۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ عمران خان بڑے دھوم دھڑکے سے جنگی ترانے بجاتے ہوئے شہباز شریف کی حکومت گرانے پنڈی آئے تھے۔

خیال تھا کہ 26 نومبر کو وہ لاکھوں کے مجمعے کے ساتھ اسلام آباد پر چڑھ دوڑیں گے لیکن موصوف شہباز شریف کی حکومت گرانے کی بجائے اپنی دو صوبائی حکومتیں گرانے کا اعلان کر کے واپس چلے گئے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیاخان صاحب کا کھیل ختم ہو چکا؟ حامد میر کے بقول یہ کھیل تب شروع ہوا جب عمران خان نے ایک سال قبل بطور وزیر اعظم اپنی مرضی کا آرمی چیف مقرر کرنے کی منصوبہ بندی شروع کی جس کی کئی وجوہات تھیں۔ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ خان صاحب فوج کو اپنے سیاسی مخالفین اور ناقد صحافیوں کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اس دوران کبھی ان کی فرمائش پوری کر دی جاتی تو کبھی ان سے معذرت کر لی جاتی۔ اس ناچیز کو ان فرمائشوں کا پتہ تب چلا جب 2019 میں مجھے آصف علی زرداری کا ایک انٹرویو کرنے کا موقع ملا جسے جیو نیوز پر نشر ہونے سے رکوا دیا گیا۔پیمرا نے یہ انٹرویو رکوانے کے لئے کوئی حکم جاری نہیں کیا تھا۔ میں نے پتہ کیا تو بتایا گیا کہ یہ پابندی دراصل خان صاحب کے ’’فیض‘‘ کی بدولت لگائی گئی۔ خان صاحب کا یہ ’’فیض ‘‘ بعد میں بھی جاری و ساری رہا۔

 

حامد میر بتاتے ہیں کہ گزشتہ سال جیو ٹی وی پر میرا پروگرام نو ماہ تک پابندی کا شکار رہا۔ مجھے ٹی وی سکرین سے لاپتہ کرنے کے علاوہ میرا کالم بھی بند کروا دیا گیا اور مجھے براہ راست بتایا گیا کہ یہ سب خان صاحب کے "فیض” کی وجہ سے ہو رہا تھا۔خان صاحب اپنے اکثر سیاسی و صحافتی ناقدین کو فیض والے سُوئے دار پہنچانا چاہتے تھے اور اس سلسلے میں انہوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھرپور فرمائشیں شروع کر دیں۔ اس دوران باجوہ صاحب کو بھی سمجھ آ چکی تھی کہ خان صاحب اپنے ناقدین کو فوج کے ہاتھوں رسوا کرکے ان کے ادارے کو بدنام کرائیں گے اور خود ہاتھ میں تسبیح پکڑ کر پارسا بنے رہیں گے۔ خود مجھے بھی خان صاحب کی کابینہ کے وزرا سرگوشیوں میں یہی کہتے کہ آپ پر پابندی تو باجوہ صاحب نے لگوائی ہے لیکن باجوہ صاحب بند کمروں میں ان باتوں کی تردید کرتے۔ پھر ایک دن میرے چودہ طبق روشن کردیئے گئے۔ مجھے سامنے بٹھا کر کہا گیا کہ خان صاحب کے ’’فیض‘‘ سے پاکستان میں سب کچھ بدلنے والا ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ اپریل 2022ء سے پہلے نیا آرمی چیف آ جائے گا، پھر قبل از وقت انتخابات ہوں گے، جن میں خان صاحب کو دو تہائی اکثریت ملے گی اور پارلیمینٹ سے آئینی ترامیم کے ذریعے پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں تبدیل کر دیا جائے گا۔

 

حامد میر کہتے ہیں کہ یہ کم از کم دس سال تک حکومت کرنے کا منصوبہ تھا جس کے تحت صرف فوج نہیں بلکہ عدلیہ اور میڈیا پر بھی مکمل کنٹرول قائم کرنا تھا جس کی جھلک ہمیں پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مجوزہ بل میں نظر آگئی جس کے تحت میڈیا کورٹس سے صحافیوں کو دھڑا دھڑ سزائیں دی جانی تھیں۔جنرل باجوہ کو اپنے لاڈلے کے عزائم کا پتہ چلا تو وہ نیوٹرل ہوگئے لیکن پھر ان کے لاڈلے نے نیوٹرل کے لفظ کو ایک گالی بنا دیا۔ اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ جنرل باجوہ اگرنیوٹرل نہ ہوتے تو عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب نہ ہوتی لیکن پھر بھی خان صاحب بھول گئے کہ باجوہ ان کے محسن تھے۔ انہوں نے پہلے تو تحریک عدم اعتماد کو ایک غیر ملکی سازش قرار دیا اور پھر جنرل باجوہ کو میر جعفر اور جانور قرار دینا شروع کردیا۔ جب نئے آرمی چیف کی تقرری قریب آئی تو خان صاحب نے اس معاملے کو سیاسی جلسوں کا موضوع بنا دیا اور اعلان کیا کہ وہ چوروں کو نیا آرمی چیف تعینات کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ خان صاحب نے نئے آرمی چیف کی تقرری کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی یہاں تک کہ باجوہ صاحب کو چند ماہ کی مزید توسیع دینے پر بھی رضا مندی ظاہر کی لیکن ناکام ہوگئے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے فوج کےسینئر ترین جرنیل کو آرمی چیف بنا کر ایسا دھوبی پٹرا مارا کہ خان صاحب بھی ’’چوروں‘‘ کے مقرر کردہ آرمی چیف کو مبارک دینے پر مجبور ہو گئے۔ ایک طویل عرصے کے بعد سینئر ترین جرنیل کو آرمی چیف مقرر کرنے کی روایت قائم کی گئی ہے، جو آئندہ بھی قائم رہنی چاہیے۔ اسکے علاوہ فوجی سربراہوں کی مدت ملازمت میں توسیع پر پابندی عائد کرنے کے لئے باقاعدہ قانون سازی کی جانی چاہیے تاکہ آرمی چیف کے عہدے کو سیاست زدہ ہونے سے بچایا جائے۔

 

حامد میر کے بقول سب جانتے ہیں کہ خان صاحب نے جنرل عاصم منیر کی تقرری کو بادل نخواستہ قبول کیا ہے کیونکہ انہوں نے ایک سال قبل جس جرنیل کو اس عہدے سے فیض یاب کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اس کی تمام چالیں الٹی پڑ گئیں۔ خان صاحب نہ تو قبل از وقت انتخابات کرا سکے، نہ نئے آرمی چیف کی تقرری رکوا سکے اور نہ ہی اپنے لانگ مارچ کو کامیاب بنا سکے۔

ان کا اصل منصوبہ یہ تھا کہ آرمی چیف کی تقرری کو ملتوی کروا کر وہ 26 نومبر کو اسلام آباد پر چڑھائی کردیں گے لیکن نئے آرمی چیف کی تقرری کے بعد پوری تحریک انصاف صدمے میں چلی گئی۔ شاید اسی صدمے کے باعث 26 نومبر کو راولپنڈی میں کوئی بڑا مجمع اکٹھا نہ کیا جاسکا۔ لہٰذا خان صاحب نے اپنی ناکامی کو چھپانے کے لئے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیوں سے باہر آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن یہ ایک اچھی سیاسی چال ہے۔ خان صاحب کو احساس ہو رہا ہے کہ ان کے پاس ووٹ پاور تو موجود ہے لیکن سٹریٹ پاور نہیں ہے لہٰذا ملک میں نئے انتخابات کا ماحول بنانے کے لئے انہوں نے صوبائی اسمبلیوں سے باہر آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپنی طرف سے تو انہوں نے ایجی ٹیشن کا کھیل ختم کرکے سیاسی چالوں کا نیا کھیل شروع کیا ہے لیکن ایک غلطی ہو گئی۔ راولپنڈی میں خان صاحب کی تقریر سے قبل اعظم سواتی سے تقریر کرائی گئی۔ سواتی نے اس تقریر سے قبل سوشل میڈیا پر ایک حاضر سروس فوجی افسر کو گالی دی تھی اور جنرل باجوہ کے اثاثوں پر سوال اٹھایا تھا۔ جنرل باجوہ 29 نومبر کو رخصت ہو رہے ہیں لیکن 27 نومبر کو اعظم سواتی کو اسلام آباد سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اب اعظم سواتی کو اس ویڈیو کا ثبوت دینا پڑے گا جس کی وجہ سے ایک تنازع کھڑا ہوا۔ باجوہ صاحب کی رخصتی کے بعد خان صاحب کو جلد احساس ہوگا کہ باجوہ تمام تر شکوے شکایتوں کے باوجود ان کے لئے ایک سایہ تھے جس نے انہیں دھوپ کی تمازت سے بچائے رکھا۔ جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد ان کے ساتھ ایک نیا کھیل شروع ہوگا اور باجوہ صاحب سے اثاثوں کا حساب مانگنے والوں کو اب اپنا حساب دینا ہوگا۔

Back to top button