جنرل فیض حمید کی وقت سے پہلے چھٹی کیوں ہوئی؟

جنرل عاصم منیر اور جنرل ساحر شمشاد کی آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے عہدوں پر تعیناتی کے بعد پاکستانی سیاسی تاریخ کے متنازعہ ترین جرنیل قرار دیے جانے والے کور کمانڈر بہاولپور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ لینے کا قوی امکان پیدا ہو گیا ہے۔ فیض حمید چکوالی نے اپریل 2023 میں ریٹائر ہونا ہے، لیکن جنرل قمر باجوہ کے جانے کے بعد اب فیض حمید کا بطور کور کمانڈر بہاولپور برقرار رہنا ممکن نظر نہیں آتا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کمان کی تبدیلی کے بعد نہ صرف فیض حمید کو بہاولپور کور سے ہٹانے کا امکان ہے بلکہ ان کے خلاف انضباطی کارروائی کا آغاز بھی کیا جا سکتا ہے لہٰذا غالب امکان یہی ہے کہ فیض ایسی کسی بھئ کارروائی سے بچنے کے کیے خود ہی ووت سے پہلے ریٹائرمنٹ لینے کا فیصلہ کر لیں گے۔
یاد رہے کہ فیض حمید کو فوجی اسٹیبلشمینٹ کے اس پرو عمران خان دھڑے کا رنگ لیڈر قرار دیا جاتا ہے جس نے آخری لمحے تک عاصم منیر کو آرمی چیف بننے سے روکنے کے لیے کوششیں کیں اور تمام تر منفی ہتھکنڈے استعمال کیے۔ فیض حمید پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ وہ بطور کور کمانڈر پشاور ہٹائے جانے کے باوجود پی ڈی ایم حکومت کےخلاف سازشی کارروائیوں سے باز نہیں آئے اور مسلسل عمران خان کو برسرا اقتدار لانے کے منصوبے میں انکی مدد کرتے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ فیض حمید پچھلے چار برس سے جنرل باجوہ کی جگہ نیا آرمی چیف بننے کی تیاریوں میں مصروف تھے لیکن ان کا یہ خواب عمران خان کی اقتدار سے رخصتی کے باعث شرمندہ تعبیر نہ ہو پایا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جنرل باجوہ کی جگہ نیا آرمی چیف بننے والے جنرل عاصم منیر کو عمران خان نے 2018 میں وزیراعظم بننے کے بعد بطور آئی ایس آئی چیف ہٹا کر فیض حمید کو طاقتور ترین خفیہ ایجنسی کی سربراہی سونپی تھی۔ بعد ازاں فیض حمید نے چار برس تک عمران حکومت چلانے اور بچانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ چکوال سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا حال ہی میں نیا چیئرمین جائنٹ چیف آف سٹاف مقرر ہونے والے جنرل ساحر شمشاد مرزا کے ساتھ بھی گہرا تعلق ہے۔ یہ دونوں پرانے دوست ہیں اور فوج کے اس دھڑے سے منسلک سمجھے جاتے ہیں جو عمران خان کو دوبارہ اقتدار میں لانا چاہتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس دھڑے کی سربراہی سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ احمد شجاع پاشا کر رہے ہیں جبکہ ایک اور سابق آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ظہیر الاسلام ان کے نائب ہیں۔
ان دونوں جرنیلوں کو فیض حمید کا استاد بھی قرار دیا جاتا ہے۔ فیض کا نام سب سے پہلے تب خبروں کی زینت بننا شروع ہوا تھا جب وہ آئی ایس آئی میں ڈائریکٹر جنرل کاؤنٹر انٹیلی جنس تعینات ہوئے تھے۔ اسی دوران 2017 میں تحریک لبیک نے نواز شریف حکومت کے خلاف فیض آباد چوک راولپنڈی میں دھرنا دیا جسے ختم کروانے کے لیے ہونے والے معاہدے پر بھی فیض حمید نے بطور ضامن دستخط کیے تھے۔ بعد ازاں 2018 کے انتخابات میں بھی آر ٹی ایس سسٹم بٹھانے اور عمران خان کو دھاندلی سے جتوانے کا الزام بھی فیض حمید پر عائد ہوا تھا۔ جب نواز شریف کو بطور وزیراعظم سپریم کورٹ نے نا اہل کردیا تو انکی اپیل مسترد کروانے کے لیے بھی فیض نے ججوں پر دباؤ ڈالا۔ اس دوران جب اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے فیض کے اپنے گھر آنے اور نواز شریف کی اپیل مسترد کروانے کے لئے دباؤ ڈالنے کا انکشاف کیا تو فیض نے جسٹس ثاقب نثار کے ذریعے انکی بطور جج چھٹی کروا دی۔
فیض حمید کی اپریل 2019 میں بطور لیفٹیننٹ جنرل ترقی ہوئی جبکہ اسی سال جون میں انہیں آئی ایس آئی کا سربراہ مقرر کیلئے دیا گیا۔ ڈی جی آئی ایس آئی تعیناتی سے قبل وہ جی ایچ کیو میں ایڈجوٹنٹ جنرل کے عہدے پر بھی فائز رہے، جبکہ اس سے قبل راولپنڈی میں ٹین کور کے چیف آف سٹاف، فیض حمید پنوں عاقل میں جنرل آفیسر کمانڈنگ کے طور پر بھی فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔اکتوبر 2021 میں انکی بطور کور کمانڈر پشاور تعیناتی ہوئی، جس کا چارج انہوں نے نومبر میں سنبھالا، لیکن انکی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے انہیں دس ماہ کے مختصر عرصے میں ہی پشاور سے بہاولپور بحیثیت کور کمانڈر ٹرانسفر کر دیا گیا۔ تاہم اب امکان ہے کہ فیض حمید اپریل میں ریٹائرمنٹ کا انتظار کیے بغیر ہی قبل از وقت ریٹائرمنٹ حاصل کرنے جا رہے ہیں حالانکہ وہ سپر سیڈ بھی نہیں ہوئے۔
یاد رہے کی فوج میں روایت ہے کہ کوئی بھی افسر اپنے جونیئر کے ماتحت کام نہیں کرتا۔ یعنی اگر جونیئر کی ترقی ہوگئی اور سینئر افسر اس کے ماتحت ہوگیا تو سینئر افسر ملازمت جاری نہیں رکھے گا بلکہ فوری طور پر مستعفی ہو کرگھر چلا جائے گا۔ اسی اصول کی بنا پر جب بھی سینارٹی لسٹ میں چوتھے یا پانچویں نمبر پرموجود جرنیل کو آرمی چیف بنایا گیا تو پہلے نمبر سے تیسرے یا چوتھے نمبر تک کے تمام جرنیل گھر چلے گے تاہم اس مرتبہ وزیراعظم شہباز شریف نے سنیارٹی لسٹ میں موجود پہلے دو جرنیلوں عاصم منیر اور ساحر شمشاد کو اعلیٰ ترین پوزیشنوں پر لگایا ہے۔ لہذا سینارٹی لسٹ میں موجود دیگر جرنیلوں پر کوئی اثر نہیں پڑا اور وہ اپنی مدت پوری ہونے تک کام کر سکتے ہیں۔
پاک فوج میں لیفٹننٹ جنرل بننے والا ہر جنرل 3 برس کے لیے کام کرتا ہے اور اس مدت کے اختتام پر اگر اسے فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی نہ دی جائے تو وہ ریٹائر ہوکر گھر چلا جاتا ہے۔ فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی ملنے کی صورت میں وہ مزید 3 برس تک کام کرتا ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ، جنرل اشفاق کیانی سمیت جن جرنیلوں نے 3 برس سے زیادہ عرصہ خدمات انجام دیں۔ انکی مدت ملازمت میں حکومت نے توسیع کی تھی۔
لیفٹننٹ جنرل اظہر عباس، لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے ترقی پانے کے بعد اپریل 2019 میں لیفٹننٹ جنرل کا رینک لگایا تھا۔ وہ اپریل 2023 میں ریٹائر ہو جائیں گے۔ ان تینوں جرنیلوں کے پاس اب 6 ماہ ہیں۔ اس دوران ان کا فوج کے اندر ہی مختلف پوزیشنوں پر تبادلہ بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن بتایا جا رہا ہے کہ جی ایچ کیو میں بطور چیف آف اسٹاف تعینات اظہر عباس نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ جنرل اظہر عباس، جنرل نعمان محمود اور جنرل فیض حمید تینوں اپریل 2023 میں ریٹائر ہونے والے ہیں جب کہ لیفٹینینٹ جنرل محمد عامر ستمبر 2023 میں ریٹائر ہوں گے۔
