جنرل قمر جاوید باجوہ مزید توسیع نہیں لیں گے، فیصلہ ہوگیا


آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کو ایک سال کی مزید توسیع دینے کی افواہیں خاتمے کی جانب گامزن ہیں چونکہ آرمی چیف نے اپنے ساتھیوں پر واضح کر دیا ہے کہ وہ عہدے میں مزید توسیع حاصل کرنے کے خواہش مند نہیں اور 28 نومبر 2022 کو ریٹائر ہو جائیں گے۔ 2016 میں تعینات ہونے والے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی تقرری تین سال کے لیے ہوتی ہے لیکن جنرل باجوہ کو 2019 میں تین سال کی توسیع دے دی گئی تھی جب اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے اگست میں ان کی مدت ملازمت میں توسیع کردی تھی
لیکن بعد میں سپریم کورٹ نے سروسز چیفس کے دوبارہ تقرر پر قانون سازی کا مطالبہ کیا تھا۔ پارلیمنٹ نے جنوری 2020 میں اس پر عمل کیا تھا اور وزیر اعظم کو اپنی صوابدید پر سروسز چیفس کی مدت میں توسیع کی اجازت دے دی تھی، تاہم قانون سازی میں 64 سال کی عمر کی حد مقرر کی گئی ہے جس عمر پر سروس چیف کا ریٹائر ہونا ضروری ہے۔ اس لحاظ سے 61 سالہ جنرل قمر جاوید باجوہ ایک اور مدت کے لیے اہل ہوسکتے ہیں، اس تکنیکی وجہ سے یہ قیاس آرائیاں بھی جاری تھیں کہ موجودہ فوجی سربراہ مدت میں ایک اور توسیع کے خواہاں یا اس میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
تاہم باخبر عسکری ذرائع کے مطابق جنرل باجوہ نے اپنے اردگرد موجود لوگوں کو بتا دیا ہے کہ وہ نومبر میں ریٹائر ہو جائیں گے اور ان کا مزید توسیع حاصل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
یاد رہے کہ چند ماہ پہلے فوجی ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے واضح طور پر بیان کہا تھا کہ جنرل قمر باجوہ مزید توسیع کے خواہشمند نہیں اور وہ نومبر 2022 میں اپنے عہدے کی معیاد پوری ہونے پر ریٹائر ہو جائیں گے۔ لیکن اس وضاحت کے باوجود اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں کہا جا رہا تھا کہ جنرل قمر باجوہ کو ایک سال کی توسیع دی جا سکتی ہے، اس دوران یہ افواہیں بھی اڑائیں گی کہ آرمی چیف نے توسیع کی خاطر لندن میں مذاکرات بھی کیے ییں لیکن اب حکومتی اور عسکری حلقوں دونوں کا کہنا ہے کہ جنرل باجوہ نومبر میں ریٹائر ہو جائیں گے اور نئے آرمی چیف کا انتخاب کیا جائے گا۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اگست کے آخر تک نئے آرمی چیف کی تقرری کے لیے بات چیت شروع کر سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر ستمبر میں حتمی فیصلہ کر سکتے ہیں۔
لیکن اتحادی حکومت کے سربراہ ہونے کے ناطے شہباز شریف کوئی حتمی فیصلہ لینے سے قبل اپنے اتحادیوں سے مشورہ کریں گے، آئین کے آرٹیکل 243 (3) کے مطابق صدر، وزیراعظم کی سفارش پر سروسز چیفس کا تقرر کرتا ہے۔ رولز آف بزنس کا شیڈول 5-اے وزیراعظم کو آرمی چیف کی منظوری کے لیے پیش کیے جانے والے کیسز کی وضاحت کرتا ہے جس کے مطابق فوج میں لیفٹیننٹ جنرل یا دفاعی سروسز میں اس سے مساوی عہدے پر تقرر وزیر اعظم، صدر سے مشاورت کے بعد کریں گے۔
البتہ اس بات کی قانون کی کتاب میں زیادہ تفصیل سے وضاحت نہیں کی گئی کہ یہ عمل کس طریقے سے کام کرتا ہے، نہ ہی کسی رینک کے افسر کی ترقی کے لیے اس مبہم شرط کے سوا کوئی خاص معیار مقرر کیا گیا ہے کہ فوج کی قیادت کے لیے منتخب جنرل ایک کور کی کمان کر چکا ہو۔ روایت یہ ہے کہ جنرل ہیڈکوارٹرز چار سے پانچ سینئر ترین لیفٹیننٹ جنرلز کی سنیارٹی لسٹ، ان کی ذاتی فائلوں کے ساتھ وزارت دفاع کو بھیجتا ہے، جو انہیں وزیرِ اعظم کے پاس بھیجتی ہے تاکہ وہ جس افسر کو اس عہدے کے لیے موزوں تصور کریں اسے منتخب کریں۔
قانونی طور پر وزارت دفاع، وزیراعظم کو نام پیش کرنے سے قبل ناموں کی جانچ کر سکتی ہے لیکن ایسا عام طور پر نہیں ہوتا اور وزارت محض ایک ڈاک خانے کے طور پر کام کرتی ہے۔ اس کے بعد جرنیلوں کی قابلیت پر وزیر اعظم کے دفتر یا کابینہ میں غور کیا جاتا ہے، اس کے بعد اس معاملے میں وزیر اعظم سبکدوش ہونے والے آرمی چیف کے ساتھ ’غیر رسمی مشاورت‘ کرتے ہیں، ان کے اپنے تاثرات بھی اہمیت رکھتے ہیں اور وہ اپنے قریبی مشیروں سے بھی اس حوالے سے بات چیت کرتے ہیں۔
معاملے پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین ایک ‘ادارہ جاتی سفارش’ کا بھی ذکر کرتے ہیں جو وزیراعظم کو کسی خاص امیدوار کے بارے میں دی جاتی ہے، تاہم دفاعی ذرائع نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فارغ ہونے والے آرمی چیف وزیرظم کے ساتھ اپنی ’غیر رسمی مشاورت‘ کے دوران صرف اپنی ذاتی رائے دیتے ہیں کہ ان کی جگہ کسے یہ عہدہ سنبھالنا چاہیے۔ 1972 سے اب تک ملک کے دس آرمی چیفس میں سے پانچ کا موجودہ وزیراعظم کے بڑے بھائی نواز شریف نے الگ الگ دور میں بطور وزیراعظم تقرر کیا، نواز شریف کو بارہا ایسے افسران کے تقرر پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا جنہیں وہ ’اپنا بندہ‘ کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ ان میں سے کسی کا بھی تقرر ان کے لیے اچھا نہیں رہا۔
اس تجربے کے سبب شریف برداران یہ سمجھنے لگے ہیں کہ شاید وہ یہ سب کبھی بھی ٹھیک نہیں کر پائیں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے کچھ رہنماؤں نے پس پردہ کیے گئے انٹرویوز میں کہا کہ انہوں نے کم و بیش یہ فیصلہ کیا ہے کہ کسی ‘مثالی’ امیدوار کی تلاش کے لالچ کا شکار ہونے کے بجائے وہ صرف سنیارٹی کی بنیاد پر تقرری کریں گے، پارٹی کے ایک رہنما نے کہا کہ پھر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ معاملات کیا کروٹ لیتے ہیں، ہم کم از کم اس بات پر مطمئن ہوں گے کہ کوئی ذاتی انتخاب نہیں تھا۔
تاہم نواز لیگ کے اندر ایک اور گروپ کا قیاس ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف محض موجودہ سربراہ کے مشورے کے ساتھ چل سکتے ہیں۔

Back to top button