جنوبی پنجاب کے انتخابی دنگل کا اصل فاتح کون ہو گا؟

تمام تر خدشات اور شکوک و شبہات کے باوجود8 فروری کو انتخابی دنگل کا انعقاد یقپنی نظر آتا ہے۔ الیکشن میں اپنی فتح کو یقینی بنانے کیلئے جہاں تمام سیاسی جماعتیں اپ نے سیاسی پتے سوچ سمجھ کر کھیل رہی ہیں وہیں دوسری طرف روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب میں مجموعی طور پر سخت مقابلے جنوبی پنجاب میں متوقع ہیں۔ جہاں سے شاہ محمود قریشی کی فیملی سمیت کچھ خاندانوں کے حق میں مثبت نتائج مشکل دکھائی دے رہے ہیں۔ تاہم کئی سیٹوں پر اپ سیٹ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ جبکہ الیکٹ ایبلز کی زیادہ تر نشستیں برقرار رہنے کا بھی امکان ہے۔
واضح رہے کہ صوبہ پنجاب میں جنوبی پنجاب کا علاقہ الیکٹ ایبلز میں سرفہرست ہے۔ جہاں اسمبلی کی آدھی مدت گزرنے کے بعد وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کی صورتحال زیادہ خراب ہے۔ جبکہ انہیں ٹکٹ دیئے جانے پر مقامی سطح پر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ خاندانی اختلاف رائے بھی سامنے آرہے ہیں۔ جسے ان امیدواروں اور جماعتوں کیلئے مثبت نتائج حاصل کرنے کا موجب قراردیا جارہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق مجموعی طور پر اس سے نون لیگ اور استحکام پاکستان پارٹی کو نقصان اور پیپلز پارٹی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ سیاسی حلقوں کے مطابق ملتان میں پیپلز پارٹی کے امیدوار سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی پوزیشن بہتر بتائی جارہی ہے۔ اس کی اہم وجہ بوسن برادری میں ٹکٹوں کی بنیاد پر تقسیم سے لیگی امیدوار کے بجائے پیپلز پارٹی کے امیدوار کے ساتھ کھڑا ہونا بتائی جاتی ہے۔ یہاں پی ٹی آئی کے بیرسٹر تیمور ملک آزاد امیدوار ہیں ۔ نون لیگ کے ساتھ سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کی وجہ سے آئی پی پی کے سربراہ جہانگیرترین الیکشن لڑ رہے ہیں اور ان کے مقابلے میں پی پی امیدوار رضوان بانس کمزور قرار دیئے جارہے ہیں۔ جبکہ پی ٹی آئی کے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے والے عامر ڈوگر مضبوط امیدوار سمجھے جارہے ہیں۔
مبصرین کے مطابق اس کے برعکس جہانگیر ترین کی پوزیشن ان کے اپنے ضلع اور پرانے حلقے لودھراں میں ملتان کی نسبت بہتر بیان کی جاتی ہے۔ جہاں ان کا مقابلہ نون لیگ کے امیدوار سے ہے۔ اس حلقے میں بنیادی مقابلہ بھی مسلم لیگ اور آئی پی پی میں ہے۔ جہاں آئی پی پی کے جہانگیر ترین کے حق میں پیپلز پارٹی کے ایک امید وار سید ارشد شاہ بخاری ان کے حق میں دستبردار ہو کر ان کی انتخابی مہم کا بھی حصہ ہیں۔ یہاں پر انہیں سیٹ ایڈ جسٹمنٹ میں عبدالرحمان کا نجو اور صدیق خان بلوچ کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جس کے پیش نظر نون لیگ کی قیادت نے سیٹ ایڈ جسٹمنٹ نہیں کی تھی۔ یوں یہاں یہی دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہیں اور ہلکے مارجن کے ساتھ صدیق خاں کے مقابلے میں جہانگیر ترین کی پوزیشن مستحکم بتائی جاتی ہے۔
ملتان سے شاہ محمود قریشی اہلیت نہ رکھنے کی بناہر آؤٹ ہو چکے ہیں اور ان کے بیٹے زین قریشی پی ٹی آئی کی طرف سے آزاد میدوار کے طور پر، جبکہ جاوید اختر انصاری نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے رانا محمود الحسن الیکشن لڑ رہے ہیں ۔ جو حال ہی میں ٹکٹوں کی تقسیم پر اختلاف رائے کے باعث نون لیگ سے پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔ اس نشست پر تینوں امیدواروں میں بھر پور مقابلہ متوقع ہے۔ اسی طرح شاہ محمود قریشی کی بیٹی مہر بانو قریشی کا مقابلہ یوسف رضا گیلانی کے بیٹے موسیٰ گیلانی اور نون لیگ کے امیدوار عبدالغفار ڈوگرسے ہے اور ان میں بھی سخت مقابلے کی توقع ہے۔ جبکہ عبد القادر گیلانی کا مقابلہ نون لیگ کے جاوید علی شاہ سے ہے۔ اس وقت ملتان میں نون لیگ کی سب سے بہتر پوزیشن والی نشست ایک سے زائد پارٹیاں تبدیل کرنے والے رانا قاسم کی بتائی جاتی ہے۔ جنہوں نے عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد میں پی ڈی ایم کی حمایت کی تھی۔ ان کے مقابلے میں پی ٹی آئی کے آزاد امیدوار قاسم خان لنگاہ اور ایک دوسرے آزاد امید وار دیوان عاشق بخاری ہیں۔ یہاں سے ماضی میں اہم سیاسی کردار کے حامل مخدوم جاوید ہاشمی دستبردار ہو کر پی ٹی آئی کے آزاد امیدوار کے حق میں دستبردار ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آٹھ فروری کے الیکشن میں ملتان سے پیپلز پارٹی اور نون لیگ دودو نشستیں حاصل کر سکتی ہیں۔ ان ذرائع کے مطابق ضلع رحیم یار خان میں پی پی کو واضح برتری حاصل ہے۔ تاہم بہاولپور، بہاولنگر اور وہاڑی میں پوزیشن کمزور ہے۔ البتہ ڈی جی خان مظفر گڑھ ، کوٹ ادو اور راجن پور میں نون لیگ پچپن اور پیپلز پارٹی پینتالیس فیصد کی شرح سے مقابلے پر ہیں لیکن لیہ، بھکر، میانوالی، خوشاب، خانیوال میں مسلم لیگ ن کی پوزیشن بہتر ہے۔
