جوتے کھانے کے بعد جام کمال کی مورل اتھارٹی ختم ہو گئی

18 جون کو بلوچستان اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے موقع پر اسمبلی کے اندر اور باہر ہونے والی شدید ہنگامہ آرائی اور پولیس ایکشن نے ہر گزرتے دن کے ساتھ اور بھی زیادہ متنازعہ ہونے والے وزیر اعلی جام کمال کو سیاسی طور پر اور بھی کمزور کیا ہے، خصوصا اپوزیشن کی جانب سے جوتے کھانے اور اسمبلی احاطے میں داخل ہونے کے لیے بکتر بند گاڑی سے گیٹ تڑوانے کی وجہ سے جس کو اپوزیشن نے تالہ لگا کر بند کر دیا تھا۔ اسمبلی کا گیٹ ٹوٹنے کے باعث ایک خاتون سمیت تین اراکین اسمبلی زخمی ہوگئے۔ تاہم جیسے ہی وزیر اعلیٰ جام کمال گیٹ تڑوا کر اسمبلی کے احاطے میں داخل ہوئے، ان کا جوتوں سے استقبال کیا گیا اور وہ سرمناک مناظر دیکھنے میں آئے جن سے جام کمال کی اتھارٹی صفر ہو کر رہے ہیں۔
بلوچستان میں حزب اختلاف کی جماعت جمعیت علماءاسلام کے امیر مولانا عبدالواسع نے حکومت کو اس صورتحال کے لیے مورد الزام ٹھہرایا جبکہ وزیر اعلیٰ جام کمال خان نے حزب اختلاف پر تمام تر ذمہ داری عائد کی۔
احتجاج کی وجہ بیان کرتے ہوئے بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ملک اسکندر ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ان کے حلقوں کو نظر انداز کیا گیا اور حکومت اپوزیشن والوں کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنارہی ہے۔ حزب اختلاف کے اراکین نے پہلے حکومت کو اپنے حلقوں کے مسائل سے آگاہ کرنے کے لیے اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کیا لیکن اس میں دو اراکین کے سوا باقی حکومتی اراکین شریک نہیں ہوئے اور شریک ہونے والے دو اراکین اس وقت آئے جب اجلاس ختم ہو رہا تھا۔ اس اجلاس کے بعد حزب اختلاف کے اراکین نے اپنی بات منوانے کے لیے اسمبلی کے باہر احتجاجی کیمپ لگا کر دھرنا شروع کیا ۔قائد حزب اختلاف ملک اسکندر ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ چونکہ حکومت ان کی بات ماننے کے لیے تیار نہیں تھی اور ان کے حلقے نظر انداز ہورہے تھے اس لیے انھوں نے اسمبلی کے گیٹوں کو تالے لگا کر بند کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ بجٹ اجلاس روکا جا سکے۔ انھوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ حکومت کو اس وقت تک بجٹ پیش نہیں کرنے دیا جائے گا جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیئے جاتے۔
حزب اختلاف کے اراکین کے اس اعلان کے باعث ان کے جماعتوں کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد کی جمع ہونے کا امکان تھا جس کے باعث انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے اسمبلی جانے والے تمام راستوں کو سیل کرنے کے علاوہ گرد و نواح کے علاقوں کو بھی سیل کیا گیا۔ تاہم اس کے باوجود حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے جماعتوں کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد اسمبلی کے باہر احتجاجی کیمپ میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئی۔ پہلے حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی نے بلوچستان اسمبلی کے گیٹوں کو زنجیروں سے باندھ کر ان پر تالا لگا دیا جو پہلے کبھی نہیں ہوا۔ اس کے بعد وہ اسمبلی کے اندر کی طرف گیٹوں کے سامنے کرسیاں لگا کر بیٹھ گئے تاکہ کوئی باہر سے اندر داخل نہیں ہوسکے۔آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کے لیے اسمبلی کے اجلاس کا وقت چار بجے مقرر کیا گیا تھا۔
اجلاس شروع ہونے سے پہلے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے حزب اختلاف کے اراکین سے مذاکرات کیئے لیکن حزب اختلاف کے اراکین اسمبلی کے گیٹ کھولنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔مذاکرات کامیاب نہ ہونے کے بعد پہلے پولیس اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کے درمیان دھکم پیل ہوئی جو کہ بعد میں ہنگامہ آرائی میں بدل گئی۔
ان حالات میں وزیر اعلی جام کمال کے حکم پر ایم پی ایز ہاسٹل کی جانب کے اسمبلی گیٹ کو بکتر بند گاڑی سے ٹکر مار کر توڑ دیا گیا۔ پولیس کی جانب سے یہ ایک ایسی کارروائی تھی جس کا منظر پہلے کسی نے نہیں دیکھا۔ بکتر بند گاڑی کی ٹکر شدید ہونے کے ساتھ گیٹ کی دوسری جانب موجود اراکین اسمبلی سمیت متعدد افراد جھٹکا لگنے سے گر گئے جن میں رکن اسمبلی واحد صدیقی بھی شامل تھے۔ واحد نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ انکے علاوہ خاتون رکن اسمبلی شکیلہ نوید دہوار اور بابو رحیم زخمی ہوئے جبکہ حزب اختلاف کے رکن نصراللہ زیرے کو مارا گیا۔ شکیلہ نوید نے کہا کہ اراکین اسمبلی پر بکتر بند چڑھانے کی کوشش کی گئی جس کے باعث ان کے پیر زخمی ہوئے۔
اسمبلی کا گیٹ توڑنے کے بعد سخت سیکورٹی حصار میں وزیر اعلیٰ جام کمال، وزراء اور حکومتی اراکین کے ہمراہ اسمبلی احاطے میں داخل ہوئے تو ان پر جوتے پھینکے گئے۔ اس دوران وزیر اعلیٰ جام نے اپنا سر بچانے کے لیے اس پر ہاتھ رکھ دیے۔ اس موقع پر رکن بلوچستان اسمبلی احمد نواز کی یہ کوشش تھی کہ وزیر اعلیٰ کو اسمبلی کے اندر نہیں جانے دیا جائے، لیکن انھیں زور سے دھکا دے کر زمین پر گرا دیا گیا جس کے بعد ان کو پانی پلاکر اٹھانا پڑا۔ اس دوران حزب اختلاف کی جماعتوں کے کارکنوں نے اسمبلی کے اندر پھولوں کے گملے توڑ دیے اور ہنگامہ آرائی کے باعث دو گھنٹے تک بلوچستان اسمبلی کا اجلاس شروع نہیں ہوسکا۔ تاہم دو گھنٹے بعد اجلاس شروع ہوا جس میں وزیر خزانہ میر ظہور بلیدی نے آئندہ سال کا بجٹ پیش کیا۔ اس تمام صورتحال کے لیے حزب اختلاف کے اراکین نے حکومتی اراکین کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ حکومت نے طاقت کا استعمال کر کے حالات کو کشیدہ کیا۔
اجلاس کے بعد جمعیت العلماءاسلام کے امیر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ ہزاروں پولیس اہلکاروں کو حزب اختلاف کے اراکین پر تشدد کے لیے لایا گیا تھا۔مولانا واسع نے کہا کہ حزب اختلاف کے اراکین اپنے جائز مطالبے کے لیے احتجاج کررہے تھے لیکن ان کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا بلکہ خواتین اراکین کو بھی نہیں بخشا گیا۔ انھوں نے کہا کہ بکتر بند گاڑی کے ذریعے وہ حزب اختلاف کے اراکین کو جان سے مارنا چاہتے تھے جس پر وزیر اعلیٰ جام کمال خان کے خلاف مقدمہ درج کرایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیر اعلیٰ کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا گیا تو سیشن کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔ حزب اختلاف کے اراکین نے اس وقع پر بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ کا بھی اعلان کیا۔ اسمبلی کے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ جام کمال نے اپوزیشن اراکین کے رویے کو افسوسناک قرار دیا۔ تاہم ایک بات طے ہے کہ بجٹ اجلاس کے موقع پر اسمبلی کے اندر اور باہر ہونے والی تاریخی ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ اور جوتوں کی بارش نے وزیراعلی جام کمال کی اتھارٹی بالکل صفر کر کے رکھ دی ہے۔
