جھنگ میں پاک فضائیہ کا تربیتی طیارہ گر کر تباہ، پائلٹ محفوظ رہا

جھنگ میں پاک فضائیہ کا تربیتی طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ شورکوٹ کے قریب تربیتی طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے۔تربیتی طیارہ چک نمبر 496 کے قریب گرا. حادثے میں پائلٹ محفوظ رہا.
ابتدائی اطلاعات کے مطابق شورکوٹ کے نواحی علاقہ وریام والہ میں موٹر وے کے قریب پاک فضائیہ کے تربیتی طیارے کے زمین پر گرتے ہی اس میں آگ لگ گئی. تاہم طیارے میں سوار پائلٹ محفوظ رہا ۔ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موقع پر پہنچ گئی ہیں،حادثےمیں نقصان سے متعلق تاحال تفصیلات سامنے نہیں آئیں تاہم یہ بتایا گیا ہے کہ حادثے میں پائلٹ محفوظ رہا جبکہ حساس اداروں اور ریسکیو ٹیمیوں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ پائلٹ جہاز سے بحفاظت اترنے میں کامیاب رہا اور حادثے میں قسم کے جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق واقعہ کی وجوہات جاننے کے لیے ائیرہیڈ کوارٹرز نے اعلیٰ سطح کا بورڈ بنا دیا ہے۔
7جنوری2020ء کو بھی میانوالی ائیربیس کے قریب پاک فضائیہ کا تربیتی طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ جس کے نتیجے میں دو پائلٹ شہید ہو گئے تھے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل مارچ 2017ء میں بھی میانوالی کے قریب پاک فضائیہ کا طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ پولیس کے مطابق طیارہ حادثہ میں پائلٹ محفوظ رہا ۔اسی طرح میانوالی کے علاقے سبزہ زار کے قریب طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا۔ ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق اس واقعے میں تربیتی ایف7 طیارے کے پائلٹ ونگ کمانڈر محمد ذیشان شہید ہو گئے تھے،۔میانوالی کے علاقے سبزہ زار کے قریب گرنے والے پا ک فضائیہ کےتربیتی طیارے کے پائلٹ کا جسد خاکی ایک روز بعد ملا تھا فلائنگ آفیسر مریم مختیار چوبیس نومبر 2015 کو اپنے انسٹرکٹر، ثاقب عباسی کے ساتھ معمول کی تربیتی پرواز پر تھیں، جب میانوالی کے قریب ان کا طیارہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے گر کر تباہ ہوگیا تھا اور مریم مختیار حادثے میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جہان فانی سے کوچ کر گئیں تھیں اور انھیں پاکستان کی پہلی شہید خاتون پائلٹ کا اعزاز ملا۔
