حج کے حوالے سے فیصلے کیلئے سعودی عرب پر دباؤ بڑھنے لگا

عالمی وبا کورونا وائرس کے پیشِ نظر سعودی عرب رواں سال حج محدود کرنے یا اسے منسوخ کرنے کا اعلان کرسکتا ہے جو جدید دور میں پہلی مرتبہ ہوگا۔
دوسری جانب مسلمان ممالک ریاض کی جانب سے تاحال کوئی فیصلہ سامنے نہ آنے پر دباؤ ڈال رہے کہ بتایا جائے کہ کیا سالانہ عبادت شیڈول کے مطابق جولائی کے اوآخر میں ہوگی۔سعودی حج حکام سے رابطے میں موجود ایک ایشیائی عہدیدار نے بتایا کہ ’معاملہ حج کی مختصر ادائیگی اور بالکل بھی ادا نہ کرنےکے درمیان لٹک رہا ہے‘۔
دوسری جانب ایک سعودی عہدیدار نے بتایا کہ ’اس سلسلے میں جلد فیصلہ کر کے اس کا اعلان کردیا جائے گا‘۔
خیال رہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ مسلمان آبادی والا ملک انڈونیشیا، اور ملائیشیا ریاض کی جانب سے کوئی فیصلہ سامنے نہ آنے پر حج خواہشمندوں کو نہ بھیجنے کا اعلان کرچکے ہیں۔
دوسری جانب مسلم آبادی والے دیگر ممالک مصر، مراکش، ترکی، لبنان اور بلغاریہ نے کہا کہ وہ اب تک ریاض کے فیصلے کا انتظار کررہے ہیں۔ادھر فرانس جیسے ممالک میں مذہبی رہنماؤں نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ موجودہ وبائی صورتحال کے باعث حج کے ارادے کو موخر کردیں۔
واضح رہے حج مسلمانوں کی بدنی عبادت ہے جو زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے اور چونکہ اس میں لاکھوں افراد شرکت کرتے ہیں اس لیے معتدی بیماری پھیلنے کا زیادہ امکان ہوسکتا ہے۔ تاہم حج منسوخ یا محدود کرنے فیصلے سے مسلمانوں کے ناراض ہونےکا اندیشہ ہے۔
اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے دونوں مقدس مقامات کی سعودی تحویل پر نظر ثانی کے مطالبے بھی کیے جاسکتے ہیں جو کہ سعودی عرب کے سیاسی جواز کا سب سے طاقتور ذریعہ ہے۔ اس سے قبل سال 2015 میں بھگدڑ کے دوران 2300 حاجیوں کے جاں بحق ہونے پر سعودی حج انتظامات کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
اسی حوالے سے ایک بین الاقوامی امن ادارے سے منسلک عہدیدار یاسمین فاروق کا کہنا تھا کہ اگر حج منسوخ یا محدود ہوتا ہے تو یہ سعودی عرب کے لیے ریونیو کا بڑا نقصان ہوگا جو پہلے ہی وائرس اور تیل کی قیمتوں میں کمی کے دھچکے برداشت کررہا ہے۔
قبل ازیں مارچ میں سعودی حکام نے عمرہ روکنے کا اعلان کردیا تھا جبکہ حج اور عمرہ دونوں مل کر سعودی معیشت میں 12 ارب ڈالر شامل کرتے ہیں۔
اس سلسلے میں جنوبی ایشائی عہدیدار نے کہا کہ مملکت محتاط انداز میں آگے بڑھتے ہوئے وقت صرف کررہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر آخری لمحات میں سعودی عرب نے کہ دیا کہ ہم مکمل حج کے لیے تیار ہیں اور بہت سے ممالک اس پوزیشن میں نہیں ہوں گے حاجیوں کو بھجواسکیں۔عہدیدار نے کہا کہ بین الاقوامی پروازوں کی بندش کے سبب مقامی افراد کے ساتھ محدود پیمانے پر حج کا امکان ہے۔
یہ بات بھی مدِ نظر رہے کہ اگر حج منسوخ ہوتا ہے تو یہ 1932 میں سعودی عرب کے قیام کے بعد سے اب تک منسوخی کا پہلا فیصلہ ہوگا۔ حالانکہ سعودی عرب نے ایبولا اور مارس وباؤں کے وقت بھی حج کا انتظام کرلیا تھا لیکن اب مملکت خود وائرس کیسز کی روزانہ بڑھتی ہوئی تعداد پر قابو پانے کے لیے جدو جہد کررہی ہے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ سعودی ہسپتالوں میں آئی سی یو بیڈز تیزی سے بھر رہے ہیں اور اب تک ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد وبا سے متاثر جبکہ ایک ہزار سے زائد اموات ہوچکی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button