حریم شاہ سے تھپڑ کے بعد مفتی قوی نہ گھر کا رہا نہ گھاٹ کا

رنگیلا مفتی عبدالقوی ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ کے ساتھ پیار کی پینگیں بڑھانے کے چکر میں نہ صرف پوری دنیا میں رسوا ہو چکا ہے بلکہ اس کے اپنوں نے بھی ان سے منہ موڑ تے ہوئے اسے ایک کمرے میں بند کر دیا یے۔
یاد ریے کہ ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ کی جانب سے عبدالقوی کی چند نازیبا ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد دیگر افراد کی طرح ان کے اہل خانہ اور متعلقین نے بھی شدید رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور کچھ نہیں تو لاتعلقی کا اظہار بھی کر دیا ہے۔ حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی متنازع ویڈیوز کے بعد نام نہاد عالم دین مفتی عبدالقوی کے اہل خانہ نے ان سے موبائل چھین کر انہیں کمرے میں بند کردیا ہے اور ان کے نفسیاتی علاج کروانے کا اعلان کیا ہے جبکہ انکے ساتھی علما نے انہیں مفتی پکارنے سے بھی منع کردیا ہے۔
یاد رہے گذشتہ برس جنوری میں سوشل میڈیا پر پہلی بار عبد القوی کے ساتھ حریم شاہ کی ایک تصویر نے سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کرلی تھی اور بہت صارفین کا کہنا تھا کہ جس طرح یہ رنگیلا مولوی تک ٹاکر قندیل بلوچ کے قتل کا باعث بنا،اب حریم شاہ کو اپنی جان کی فکر ہونی چاہیے تاہم بعد میں عبدالقوی اور حریم شاہ کی کئی ویڈیو وائرل ہوئیں اور حالیہ دنوں منطر عام پر آنے والی ویڈیوز میں تو تمام حدیں ہی پار کر دی گئیں۔ اب حال ہی میں ٹک ٹاک گرل حریم شاہ نے رویت ہلال کمیٹی کے سابق رکن عبدالقوی کی چند ویڈیوز شیئر کیں۔ ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ حریم شاہ عبدالقوی کے ساتھ کھڑی ہیں اور وہ میک اپ کراتے ہوئے ویڈیو بنوارہے ہیں۔ ایک اور ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حریم شاہ گاڑی میں سفر کے دوران مولوی عبدالقوی سے بات کرر ہی ہیں اور وہ ان کے ساتھ نازیبا گفتگو اور گندے اشارے کررہے ہیں۔ ایک اور ویڈیو میں جو کھانے کے میز پر خفیہ انداز میں بنائی گئی اس میں عبدالقوی اپنی شراب نوشی اور درجنوں گرل فرینڈز سے متعلق لمبی لمبی چھوڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح ایک تہلکہ خیز ویڈیو میں حریم شاہ کی اسسٹنٹ عبدالقوی کو تھپڑ مارتی ہوئی بھی دکھائی دیتی ہیں جس کے بعد رنگیلے مولوی کا زوال شروع ہوا اور نوبت یہاں تک آگئی کہ اہل خانہ نے اسے گھر میں بند کرکے موبائل چھین لیا اور علماء نے اسے مفتی پکارنے سے منع کردیا ہے۔
مفتی عبدالقوی کے چچا عبدالواحد ندیم نے ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا خاندان عزت والا ہے، ہمارے خاندان نے ہزاروں لوگوں کو تعلیم دی ہے، ہمارا خاندان مسلکی گروہ بندی سے ہٹ کر خدمت کرتا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ عبدالقوی کو لوگوں نے استعمال کیا وہ سازش کو سمجھ نہ پائے لیکن جب عبدالقوی سے معاملات کے بارے میں پوچھا تو نامناسب جواب ملا۔پریس کانفرنس میں مفتی عبدالقوی کے ذاتی معالج حافظ عبدالکبیر کا کہناتھا کہ مفتی قوی کی سوچ ان کے کنٹرول سے نکل گئی ہے، پوری کوشس ہے کہ مفتی قوی کو عوامی اجتماعات سے دور رکھیں۔حافظ عبدالکبیر کا کہنا تھا کہ مفتی قوی کو گھر میں آئسولیٹ کیا ہے، وہ شہرت کے چکر میں بھٹک کر رہ گئے ہیں۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ اہل خانہ نے عبدالقوی کا موبائل چھین کر انہیں کمرے میں قید کر دیا ہے۔ اہل خانہ نے مزید عبدالقوی کی خرکات کے بارے میں سےہماری پوری دنیامیں رسوائی ہوئی اور انہوں نے اپنے کردار کی وجہ سے ہمارے خاندان کی ساکھ کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔
یاد رہے کہ عبدالقوی تحریک انصاف میں شمولیت، اپنی فتوی بازی اور آئے روز متنازع ویڈیوز میں دکھائی دینے کی وجہ سے خاصے بدنام ہیں تاہم انہیں اصل شہرت 2016 میں اس وقت ملی جب ان کی وجہ سے قندیل بلوچ کا قتل ہوا۔ سال 2016 میں قندیل بلوچ مفتی عبدالقوی کے ساتھ ایک کامیڈی شو میں نظر آئی تھیں۔ کچھ مہینے بعد انہوں نے ایک ہوٹل کے کمرے میں دونوں کی تصویریں پوسٹ کیں جس میں انہوں نے عبدالقوی کی ٹوپی پہن رکھی تھی۔ انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا کہ میں مفتی عبدالقوی کے ساتھ ایک یادگار وقت گزار رہی ہوں۔ اس تصویر کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا میں ایک طوفان بپا ہو گیا۔ قندیل بلوچ کی اصل شناخت کو ڈھونڈا گیا اور اس کو شائع کر دیا گیا۔ ان کے خلاف فتوے جاری کرنے کی افواہیں تھیں۔ قندیل بلوچ نے اپنے بھائیوں کے حوالے سے خدشے کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شاید انہیں روپوش ہونا پڑے لیکن ایک مہینے بعد وہ اپنے سگے بھائی کے ہاتھوں قتل ہوگئیں۔ قندیل کے والدین نے الزام لگایا کہ ان کے بیٹے نے مفتی عبدالقوی کی جانب سے اکسائے جانے پر اپنی سگی بہن کو موت کے گھاٹ اتارا۔ اس مقدمے میں عبدالقوی کچھ عرصہ جیل میں بھی رہے تاہم بعد ازاں انہیں بری کردیا گیا تھا
دوسری جانب ٹک ٹاک اسٹار حریم شاہ نےالزام عائد کیا کہ عبدالقوی کے گھروالے انہیں بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کی ذہنی حالت بالکل ٹھیک ہے۔ پاگل کو تو اپنے گھر کا بھی پتا نہیں ہوتا لیکن عبدالقوی سب جانتے ہیں۔حریم شاہ نےمطالبہ کیا کہ اگر گھر والوں کے نزدیک عبدالقوی پاگل ہیں تو انہیں پاگل خانے داخل کرایا جائے کیونکہ ان کی باتوں اور حرکتوں کی وجہ سے مفتیان کرام بدنام ہو رہے ہیں۔
