حریم شاہ نے اداکارہ عظمیٰ خان کی حمایت کا اعلان کر دیا

معروف ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ بحریہ ٹاؤن کے چئیرمین ملک ریاض حسین کی بیٹیوں اور مبینہ رشتہ دار آمنہ عثمان کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے والی اداکارہ عظمی خان کی حمایت میں کھل کر سامنے آگئی ہیں۔ حریم شاہ نے اپنے ایک انٹرویو میں عظمیٰ کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہاں کا قانون ہے کہ آپ صرف طاقتور ہونے کی وجہ سے کسی کے بھی گھرزبردستی گھس کر اس پر تشدد شروع کر دیں۔ حریم شاہ نے کہا کہ اگر اس ملک میں کوئی عورت اپنے گھر میں بھی محفوظ نہیں تو آخر وہ کہاں جائے، حریم نے کہا کہ جن خواتین نے عظمی خان اور ان کی ہمشیرہ ہما خان پر تشدد کیا، گالیاں بکیں اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کی، انہیں جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔ حریم نے مزید کہا کہ پاکستانی قانون امیر غریب طاقتور اور کمزور سب کے لئے برابر ہونا چاہیے اور ملک ریاض ہو یا اس کی بیٹیاں، اگر کسی نے جرم کیا ہے تو اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔
حریم نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی پارٹی کی حمایت نہیں کر رہیں تاہم وہ حق کے ساتھ کھڑی ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ عظمیٰ خان کے ساتھ زیادتی کی گئی، عظمی کو ضرور انصاف ملنا چاہیے بے شک اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔
خیال رہے کہ عید سے ایک روز قبل آمنہ عثمان نامی خاتون جو مبینہ طور پر پاکستان کے سب سے بڑے بلڈر ملک ریاض حسین کی رشتہ دار ہے، اپنے بے وفا خاوند ملک عثمان کی تلاش میں ملک ریاض حسین کی بیٹیوں امبر اور پشمینہ کے ہمراہ عظمیٰ خان کے لاہور میں واقع گھر پہنچیں جہاں انہوں نے نہ صرف عظمیٰ اور ان کی بہن کو جسمانی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالیاں بکیں بلکہ اپنے مسلح گارڈز کو عظمی کے ساتھ بد فعلی کرنے کی بھی ہدایت کی تاہم ان کے شور مچانے پر عزت بچ گئی۔
اس واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اگرچہ ملک ریاض نے یہ ماننے سے انکار کر دیا کہ ان کی فیملی کی خواتین اس واقعے میں ملوث ہیں۔ تاہم ویڈیو ثبوت اور ایف آئی آر میں ملک ریاض کی بیٹیوں اور مبینہ رشتہ دار آمنہ عثمان کو نامزد کیے جانے کے بعد یہ ثابت ہوچکا ہے کہ مذکورہ بااثر خواتین نے غیر قانونی اور غیر اخلاقی طور پر اداکارہ عظمی خان اور ان کی بہن ہما خان کو تشدد کا نشانہ بنایا، گھر میں توڑ پھوڑ کی اور جنسی طور پر ہراساں کیا۔ ملک ریاض کی دونوں بیٹیوں اور آمنہ کے وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں لیکن اب تک ان تینوں میں سے کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی جس کی بنیادی وجہ ملک ریاض کا اثر رسوخ ہے۔
اس واقعے کے حوالے سے حریم شاہ نے اپنا مؤقف دیتے ہوئے عظمی خان کی کھل کر حمایت کی اور کہا کہ مسلح گارڈز کے ہمراہ کسی کے گھر میں زبردستی گھس کر اس طرح کی غنڈا گردی کرنے کی قطعی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور جس نے بھی یہ حرکت کر کے قانون اپنے ہاتھ میں لیا ہے اس کو کڑی سزا دی جانی چاہئے
