حقانی نیٹ ورک کی مالی مدد قاسم سلیمانی قتل کی ایک وجہ قرار

امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی حاصل کردہ تازہ معلومات کے مطابق ایران نے طالبان جنگجوؤں کو افغانستان میں امریکی اور اتحادی افواج کو نشانہ بنانے کےلیےمبینہ طور پر بھاری ادائی کی ہے۔ اسی رپورٹ میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا معاملہ بھی زیر بحث آیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے کی جانب سے شائع شدہ خبر کے مطابق انہیں صرف گزشتہ سال میں کم از کم چھ عسکریت پسند حملوں کے پیچھے مبینہ ادائی کے بارے میں معلومات موصول ہوئی ہیں۔ ان حملوں میں دسمبر میں امریکی فضائی اڈے پر خودکش بم دھماکے بھی شامل ہیں۔ یہ ادائیاں ایک غیر ملکی حکومت نے حقانی نیٹ ورک کو کی تھیں۔ دوسری جانب ایران کے سرکاری ترجمان برائے امور خارجہ سعید خطیب زادہ نے ان الزامات سے مکمل طور پر انکار کیا ہے۔
سوموار کو ایرانی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر جاری کیے جانے والے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں جو کچھ چل رہا ہے اس کی ذمہ دار امریکی حکومت ہے جس نے ہمیشہ افغان امور میں مداخلت جاری رکھی۔ ان کا یہ الزام ایک طرح سے اپنی غلطی ہمارے سر لگانے کی کوشش ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ افغان عوام کا دھیان داعش کی امریکی معاونت سے ہٹایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے اب تک نیٹو کی افغان فضائی حدود میں اڑتے اپنے ہیلی کاپٹروں کے بارے میں بھی کوئی بیان نہیں دیا جن پر داعش کی مدد کا الزام تھا۔
یاد رہے کہ حقانی نیٹ ورک ایک شدت پسند تنظیم ہے جس کی سربراہی طالبان کے دوسرے سینئر رہنما نے کی ہے۔ اگرچہ ادائیاں کرنے والے ملک کا نام خفیہ رکھا گیا تھا لیکن امریکی نشریاتی ادارے نے اپنے دو اہم ذرائع کے حوالے سے ایرانی وزارت خارجہ کے ملوث ہونے کی تصدیق کی ہے۔
پینٹاگون کی بریفنگ دستاویزات کے مطابق 11 دسمبر کو بگرام ایئر بیس پر حملہ بھی ان میں سے ایک تھا۔ اس حملے میں دو عام شہری جاں بحق اور چار امریکی فوجیوں سمیت 70 سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق بگرام حملے کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے بعد امریکہ نے ایک اہم ایرانی جنرل یعنی قاسم سلیمانی کو مار دیا۔
لیکن یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب متعدد انٹیلی جنس ایجنسیوں نے طویل عرصے سے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی ایرانی حمایت کے ساتھ انتقامی کارروائیوں کے امکان پر غور کیا تھا۔ متعدد باخبر ذرائع کے مطابق مارچ میں امریکی عہدیداروں نے طالبان کے ساتھ امن عمل کو خطرے میں ڈالنے سے روکنے کےلیے کوئی خاص کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے طالبان کو ادائیگی کے معاملے کے بعد روس کی طرف سے امریکی افواج پر حملہ کرنے کی ادائیوں کا متنازع مسئلہ بھی اٹھایا گیا تھا لیکن روس نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ طالبان کے امن مذاکرات کی حمایت کی وجہ سے ایران کو کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ عوامی سطح پر اس کارروائی کی مذمت نہ کرنا اور سفارتی یا عسکری طور پر اس معاملے کا پیچھا نہ کرنے کا فیصلہ کرنا ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی حمایت کرنے کی آمادگی کی عکاسی کرتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ طالبان کے ساتھ امن قائم کرنے کےلیے موجود امریکی خواہش کا نتیجہ یہ معاہدہ تھا جو فروری میں ٹرمپ نے افغانستان سے امریکی فوجوں کا انخلا مکمل کرنے کےلیے کسی بھی قیمت پر طے کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ یہ ٹرمپ کا انتخابی وعدہ بھی تھا۔
بگرام ایئر بیس پر حملے کے چند دن بعد امریکی سیکریٹری دفاع اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف تک پہنچنے والی پینٹاگون کی بریفنگ میں کہا گیا ہے: ‘حملے کی پیچیدگی اور اس کی مالی مدد سے متعلق معاہدے کے پیش نظر ، اس میں انتقامی اقدامات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔’ لیکن امریکی انٹلی جنس حکام کا کہنا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کو امریکی افواج پر حملہ کرنے کےلیے رقم وصول کرنے کی خاص ضرورت نہیں تھی۔ میڈیا کے ذریعہ حاصل کردہ پینٹاگون کی داخلی دستاویز نے یہ بھی اشارہ کیا ہے کہ 11 دسمبر کو بگرام اڈے پر حملے کےلیے مالی اعانت ’امریکی اور اتحادی افواج پر مستقبل کے شدید حملوں کا باعث بنے گی۔‘
امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق ایران پورے خطے میں عسکریت پسند حملوں سے منسلک ہے۔ بگرام پر دسمبر کے حملے کے چند ماہ بعد، متعدد مختلف امریکی ایجنسیوں کو افغانستان میں حقانی نیٹ ورک سے ایران کا تعلق تلاش کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔ لیکن یہ تسلیم کرنے کے باوجود کہ یہ رابطہ ‘امریکی مفادات کےلیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے’ امریکی نیشنل سکیورٹی کونسل کے عہدیداروں نے آخر کار مارچ کے آخر میں تجویز پیش کی کہ ایران اور حقانی نیٹ ورک کے مابین تعلقات تحلیل کرنے کے لیے حکومت کوئی خاص کارروائی نہیں کرے گی۔ اس فیصلے کی وجہ یہ تھی کہ کسی بھی ردعمل سے امن کوششوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ‘این ایس سی کے فیصلے کی ایک اور وجہ یہ تھی کہ افغان حکومت کی کورونا وائرس پھیلاؤ کے علاوہ کسی بھی چیز پر توجہ مرکوز کرنے سے صورتحال مزید خراب ہوسکتی تھی اور اسی وجہ سے ممکنہ سفارتی آپشن جو دستیاب ہوسکتے تھے انہیں پیش نظر نہیں رکھا گیا۔’ ‘اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران اور حقانی نیٹ ورک کے مابین تعلقات پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے ، لیکن کچھ امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ صدر نے طالبان کے ساتھ تہران کے تعلقات پر سخت مؤقف اختیار کر رکھا ہے۔ حقانی نیٹ ورک کی مالی مدد بھی قاسم سلیمانی کے قتل کی ایک وجہ تھی۔’
امریکی حکومت کے ایک سابق سینئر عہدیدار نے امریکی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ جنوری میں قاسم سلیمانی کے قتل کے حوالے سے امریکی عہدیداروں کے درمیان ایران اور طالبان کے درمیان تعلقات پر بات چیت کی گئی تھی۔
گزشتہ ماہ جاری ہونے والے سی آئی اے اور امریکی انٹیلی جنس کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ غیر ملکی حکومتوں کا طالبان کو امریکی اور اتحادی افواج پر حملہ کرنے کی ترغیب دینے کا معاملہ حل کیا جانا اب بھی امریکی قومی سلامتی کے عہدیداروں کے ایجنڈے میں ہے۔ اس جائزے میں کہا گیا ہے کہ 2019 میں امریکہ اور اتحادیوں پر حقانی نیٹ ورک کے چھ حملوں کے بعد ایران نے نیٹ ورک کو اپنی ادائی کر دی ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان روب لڈ وِگ نے امریکی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ ایران کے منفی اثرات ‘افغان امن عمل کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور علاقے میں مسلسل تشدد اور عدم استحکام کا باعث بنتے ہیں۔’ رپورٹ میں پیش کردہ تجزیے کے مطابق ‘امریکی اعلی عہدیداروں نے جن میں سیکریٹری خارجہ مائک پومپیو بھی شامل تھے ، بگرام حملے کی فوری طور پر مذمت کی لیکن کئی دنوں یا ہفتوں تک امریکی ہلاکتوں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔’ تاہم ‘پینٹاگون کی دستاویزات کے مطابق، حملے کے فورا بعد ہی ، یہ طے تھا کہ چار امریکی فوجی زخمی ہوگئے ہیں۔’ نیز امریکی حکومت نے کبھی بھی اس بمباری کے ساتھ ایران کے رابطے کا ذکر نہیں کیا، جس کی وجہ امن مذاکرات سے متعلق ان کے خیالات تھے۔ جب دسمبر کا حملہ ہوا، امریکہ اور طالبان کے مابین امن مذاکرات نازک حالت میں تھے۔ صرف دو ہفتے قبل، بگرام کے غیر اعلانیہ دورے پر، ٹرمپ نے اعلان کر چکے تھے کہ امن مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔’
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے 11 دسمبر کو ہونے والے حملے میں ایران کے کردار کے بارے میں کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ، لیکن کہا ‘ایرانی حکومت نے اپنی پراکسی قوتوں کو مذموم مقاصد کےلیے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے اور اگر کوئی طالبان گروپ اس میں شریک ہے تو یہ غلطی ہوگی کہ وہ ایران کے اس گھناؤنے کام میں شریک ہو۔’
محکمہ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا، ‘ٹرمپ انتظامیہ ایران کی جانب سے امریکہ اور علاقائی استحکام کو لاحق تمام خطرات سے نمٹنے کےلیے پرعزم ہے۔’
