بے گناہ حیات بلوچ FC کے ہاتھوں بے موت مارا گیا

https://youtu.be/IS5xpAA87Bk
ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی وفاقی وزیر نے سیکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں ایک بلوچی نوجوان کے بہیمانہ قتل کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے قاتلوں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے ایران سے متصل بلوچستان کے سرحدی ضلع کیچ کے کراچی یونیورسٹی کے طالب علم حیات بلوچ کے قاتل ایف سی اہلکاروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے اور قرارواقعی سزا دینے کی استدعا کی ہے۔
کراچی یونیورسٹی کے فزیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے فائنل ائیر کےطالب علم حیات بلوچ کو 13 اگست 2020 کے روز بلوچستان میں ایک بم دھماکے کے تھوڑی دیر بعد ایف سی اہلکاروں نے اس کے بوڑھے اور غریب والدین کے سامنے 8 گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔ مقتول حیات بلوچ کے بھائی مراد محمد کے مطابق حیات چھٹیوں پر گھر آئے تھے اور اس روز جائے وقوعہ کے قریب کھجور کے باغ میں والد کا ہاتھ بٹا رہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ علاقے میں بم دھماکے کے بعد فرنٹیئر کور کے اہلکار باغ میں گھس آئے اور’حیات بلوچ کو تھپڑ مارنے لگے، بعد میں انہوں نے اس کے ہاتھ، پاؤں باندھے گئے اور سڑک پر لا کر اس کے جسم میں 8 گولیاں اتار دیں جس سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ اس دوران حیات بلوچ کے بوڑھے ماں باپ ایف سی اہلکاروں سے اس کی زندگی کی بھیک مانگتے رہے لیکن ظالموں نے ایک نہ سنی۔
حیات بلوچ کی ہلاکت کا مقدمہ ان کے بھائی محمد مراد کی مدعیت میں درج کروایا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ وقوعہ کے وقت تقریباً دن بارہ بجے وہ ڈیوٹی پر تھے جب انھیں یہ اطلاع ملی کہ ان کے چھوٹے بھائی کو ایف سی اہلکار نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا ہے۔ جب وہ بتائی گئی جگہ پر پہنچے تو حیات کی لاش خون میں لت پت سڑک کے جنوبی کنارے پر پڑی ہوئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’پوچھنے پر میرے والد نے بتایا کہ ایف سی کے دو اہلکار باغ میں آئے اور حیات کو گھسیٹ کر سڑک پر لے گئے۔ ایک باریش سفید کپڑوں میں ملبوس شخص نے میرے والد کے سامنے حیات کو سڑک پر اپنی رائفل سے فائرنگ کر کے قتل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حیات کے قتل پر آہ و بکا کرنے پرمیرے بھائی پر فائر کرنے والے ایف سی اہلکار نے میرے والد اور والدہ پر بھئ بندوق تان لی تھی لیکن اسے اس کے ساتھیوں نے فائر کرنے سے روک دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا بھائی آخری سال کا طالب علم تھا اور سی ایس ایس کے امتحانات میں شرکت کا ارادہ رکھتا تھا۔
دوسری طرف انسانی حقوق کی وفاقی وزیر شیریں مزاری نے بلوچستان میں فرنٹیئر کور ایف سی کے ایک سپاہی کے ہاتھوں کراچی یونیورسٹی کے طالب علم محمد حیات مرزا کی ہلاکت کو ناقابل قبول فعل قراردیا ہے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ شیریں مزاری نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ایف سی اہلکاروں نے حیات بلوچ کو ان کے والدین کے سامنے قتل کیا جو ناقابل قبول فعل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایف سی کے متعلقہ اہلکار کو پولیس کے حوالے کیا جاچکا ہے اور ایف آئی آر بھی درج کی جا چکی ہے۔ شیریں مزاری نے مزید کہا کہ انکوائری میں اس امر کی کھوج ضروری ہے کہ اس طرح کسی شہری کو قتل کرنے کی اجازت کس طرح دی جا سکتی ہے؟
دوسری طرف تربت پولیس کے مطابق 13 اگست کو آبسر روڈ پر بلوچی بازار کے مقام پر ایف سی کی دو گاڑیوں پر دھماکہ ہوا تھا، جس پر ایف سی کے اہلکار نے قریبی باغات میں موجود محمد حیات کو اپنی سرکاری رائفل سے گولیوں کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں محمد حیات ہلاک ہوگئے۔ کیچ پولیس نے فرنٹیئر کور کے ایک سپاہی کو گرفتار کیا ہے اور اس کے خلاف مقدمہ قتل درج کرنے کے بعد تفتیش شروع کردی ہے۔
ایف سی اہلکاروں کے ہاتھوں نہتے طالبعلم کے قتل کے بعد مختلف سیاسی و سماجی تںظیموں اور عوام کی طرف سے سخت رد عمل دیکھنے میں آیا اور مختلف علاقوں میں اس بیہیمانہ قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کئے گئے۔ تربت میں فرنٹیئرکور کے اہلکاروں کی فائرنگ سے طالب علم حیات بلوچ کی ہلاکت کے خلاف کوئٹہ میں ہونے والے مظاہرے میں کئی مطالبات میں سے ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ ان کی ہلاکت کے ذمہ دار تمام اہلکاروں کو گرفتار کیا جائے۔ برمش یکجہتی کمیٹی کوئٹہ کے زیر اہتمام پریس کلب کے باہر ہونے والے مظاہرے سے خطاب کے دوران مقررین کا کہنا تھا کہ جب حیات بلوچ کو حراست میں لیا گیا تو وہاں فرنٹیئر کور کا صرف ایک اہلکار نہیں تھا بلکہ اس وقت کئی اہلکار موجود تھے اس لئے ان کی ہلاکت کے ذمہ دار تمام اہلکاروں کو گرفتار کیا جائے۔مقررین نے کہا کہ ’بلوچستان پچھلے کئی سال سے ایک شورش زدہ علاقہ ہے جہاں پر سیکیورٹی اداروں کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان بھر میں آئے روز آپریشن کا سلسلہ جاری ہے اور اجتماعی سزا کے طور پر لوگوں کو مبینہ طور پر جبری طور پر لاپتہ کیا جارہا ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’اب حیات بلوچ کی مبینہ طور پر سرِ عام ہلاک کرنے کا واقعہ ایک نئے راستہ کی طرف جانے کا عندیہ ہے جس میں بلوچ نوجوانوں کو باقاعدہ ٹارگٹ کیا جائے گا تاکہ نوجوان خوف کے سائے تلے زندگی گزاریں اور اپنی تعلیمی سرگرمیاں معطل کر دیں۔ ان کا کہنا تھا بلوچ عوام بلوچستان بھر میں مبینہ طور پر غیر انسانی جرائم میں ملوث سیکورٹی اداروں کا احتساب چاہتی ہے جو ان کے بقول بلوچستان بھر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔ مظاہرے کے شرکاء نے ایک قرارداد بھی منظور کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ فرنٹیئر کورکو بلوچستان کے تمام شہروں سے فوری طور پر نکالا جائے اور ان کی سیکورٹی کی ذمہ داری پولیس کے حوالے کی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button