حماد اظہر کی ایف اے ٹی ایف کو بریفنگ

وفاقی وزیر حماد اظہر کی قیادت میں وفد نے بیجنگ میں ایف اے ٹی ایف ایشیاء پیسیفک مشترکہ گروپ سے ملاقات کی، پاکستان نے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کیخلاف ٹھوس پیشرفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ملک بھر میں 827 مقدمات درج ہوئے۔ ایک ہزار ایک سو چار گرفتاریاں ہوئیں جب کہ ایک سو چھیانوے افراد کو سزائیں دی جا چکی ہیں۔
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی بلیک لسٹ سے بچنے اور گرے لسٹ سے نکلنے کےلیے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان کے وفد نے بتایا کہ دسمبر 2019 تک ٹیرر فنانسنگ کے 827 مقدمات درج ہوئے۔ ایک ہزار 104 گرفتاریاں ہوئیں اور 196 مجرموں کو تو سزا بھی ہوچکی۔ ٹیرر فنانسنگ کیسز میں 387 کیسز کے ساتھ خیبرپختونخوا پہلے، 307 کے ساتھ پنجاب دوسرے، 80 مقدمات کے ساتھ بلوچستان تیسرے اور 53 کیسز کےساتھ سندھ چوتھے نمبر پر رہا۔
منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کیخلاف قانون سازی کے ساتھ ساتھ بچت اسکیموں کو ٹیرر فنانسنگ سے محفوظ بنانے کے اقدامات پر بھی بات ہوئی۔ پاکستان وفد نے بتایا کہ کرنسی اسمگلنگ، زیورات یا قیمتی دھاتوں کی غیر قانونی ترسیل میں ملوث افراد کو دس سال تک قید و جرمانے کی سزا ہوگی۔
سرمایہ کاروں کی بائیو میٹرک تصدیق، عملے کی ٹریننگ، کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی اور اثاثے ضبط کرنے کی تفصیلات سے بھی آگاہ کر دیا گیا۔
پاکستانی وفد کے مطابق ایف اے ٹی ایف نے پیش رفت رپورٹ پر کافی حد تک اطمینان کا اظہار کیا۔ مذاکرات جمعرات 23 جنوری تک جاری رہیں گے۔
پاکستان جون 2018 سے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہے، جس سے نکالے جانے یا بلیک لسٹ کیے جانے سے متعلق حتمی فیصلہ ایف اے ٹی ایف کے آئندہ ماہ پیرس میں ہونے والے اجلاس میں متوقع ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button