حوثیوں کا سعودی تیل کمپنی آرامکو کی جازان ریفائنری پر ڈرون حملے کا دعویٰ

 

 

 

یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی جازان ریفائنری کو ڈرون حملے میں نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جب کہ سعودی حکام نے ریفائنری میں آگ لگنے کی تصدیق کرتےہوئے کہا ہےکہ آگ پر قابو پالیا گیا اور واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں دعویٰ کیاکہ گروپ نے سعودی عرب کے جنوب مغربی علاقے جازان میں واقع آرامکو ریفائنری کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا۔

سعودی وزارت توانائی کےمطابق ریفائنری میں آگ لگی تھی جسے بعد میں بجھادیا گیا۔وزارت نے آگ لگنےکی وجہ واضح نہیں کی،تاہم متعلقہ ادارے واقعے سے نمٹنے اور دیگر ضروری کارروائیاں مکمل کررہے ہیں۔

خیال رہے کہ جازان ریفائنری سعودی عرب اور عالمی توانائی کی منڈی کےلیے انتہائی اہم تنصیب ہے۔یہ ریفائنری روزانہ تقریباً 4 لاکھ بیرل خام تیل پراسیس کرنےکی صلاحیت رکھتی ہے اور پٹرول کے علاوہ الٹرا لائٹ سلفر ڈیزل جیسی مصنوعات تیار کرتی ہے۔

یہ حوثیوں کی جانب سے جازان میں آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانےکا پہلا واقعہ نہیں۔اس سے قبل بھی جازان اور بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع یَنبُع میں آرامکو کی تنصیبات کو حملوں کا نشانہ بنایا جاچکا ہے۔

رپورٹس کےمطابق 27 جولائی کو بھی ایک حوثی حملے کےبعد جازان ریفائنری کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا تھا۔اس حملے میں ریفائنری کے انٹیگریٹڈ گیسفیکیشن کمبائنڈ سائیکل کمپلیکس اور ٹینک فارم کےبعض حصوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہےجب خطے میں پہلے ہی ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کے باعث سکیورٹی صورت حال انتہائی حساس ہے۔

آبنائے ہرمز میں تجارتی آمدورفت کی سطح بدستور کم ہے: برطانیہ

یاد رہے کہ یمنی حوثیوں نے گزشتہ ماہ سعودی عرب کےخلاف بحیرہ احمر میں بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتےہوئے اسے یمن کے خلاف سعودی اقدامات کا جواب قراردیا تھا، جب کہ سعودی عرب اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

 

Back to top button