حمزہ نے اکثریت کھوئی تو انہیں اعتماد کا ووٹ لینے کو کہوں گا


گورنر پنجاب بلیغ الرحمان خان نے کہا ہے کہ اگر کسی سٹیج پر حمزہ شہباز پنجاب اسمبلی میں اکثریت کھو بیٹھتے ہیں تو وہ یقینا ًانہیں اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہیں گے اور کسی صورت اپنے حلف سے انحراف نہیں کریں گے۔

جب عمرانڈو گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کی جگہ لینے والے بلیغ الرحمان سے سوال کیا گیا کہ پنجاب اسمبلی میں اکثریت کھونے کی صورت میں کیا وہ گورنر کی حیثیت سے وزیراعلٰی حمزہ شہباز کو اعتماد کا ووٹ لینے کے کہیں گے؟ تو انہوں نے جواب دیا ’دیکھیں آئینی عہدوں کی ذمہ داری بھی آئینی ہوتی ہے۔ جو آئینی تقاضے ہیں ان کو پورا کرنا چاہیے۔ پہلے بھی جو آئینی بحران پیدا ہوا تھا اسکی وجہ کچھ آئینی عہدوں پر بیٹھے لوگوں کی جانب سے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری نہ کرنا تھی۔ بہر حال جو بھی آئینی تقاضے ہوں گے ان پر پوری طرح عمل کیا جائے گا۔‘

اردو نیوز کو دیے گے ایک انٹرویو میں پنجاب کے گورنر کا کہنا تھا کہ ’مسلم لیگ ن کا ریکارڈ ہمیشہ واضح رہا ہے اور ہم نے ہمیشہ آئین کی پاسداری کی ہے اور ہمیشہ آئینی رول ادا کرنے کا ہی سب کو کہا ہے تو انشااللہ یہ روایت جاری رہے گی۔‘خیال رہے کہ پنجاب میں اپریل کے مہینے سے تحریک انصاف کی حکومت کے وزیراعلٰی عثمان بزدار کے استعفے کے بعد پارٹی کے 25 ممبران صوبائی اسمبلی نے مسلم لیگ ن کا ساتھ دینے کا اعلان کیا تھا۔ انہی اراکین نے بعد میں نئے وزیراعلٰی پنجاب کے انتخاب میں حمزہ شہباز کو ووٹ دیا جس کی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے اراکین کو ڈی سیٹ کر دیا تھا۔ پنجاب میں عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے لے کر تاحال سیاسی بحران جاری ہے۔ اس دوران بلیغ الرحمان گورنر کا عہدہ سنبھالنے والے تیسرے شخص ہیں۔

اس سے پہلے عمران خان نے اپنے ہی لگائے گورنر چوہدری سرور کو برطرف کرنے کےبعد عمر سرفراز چیمہ کو گورنر کی ذمہ داریاں سونپی تھیں جنہوں نے حمزہ شہباز کا حلف رکوانے کے لیے پنجاب میں جتنا گند ہو سکتا تھا، کیا۔ تاہم مسلم لیگ ن نے پنجاب میں حکومت بنانے کے بعد بلیغ الرحمان کو گورنر پنجاب مقرر کیا تھا۔

جب بلیغ الرحمن سے پوچھا گیا کہ کیا پنجاب کی سیاست میں اب بھی مفاہمت کی گنجائش ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ سیاست میں کچھ بھی ممکن ہے۔ ہم نے تو پرویز الٰہی کو تمام اتحادی سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر وزیراعلیٰ بنانے کا بھی سوچ لیا تھا لیکن وہ اپنی کمٹمنٹ سے پھر گئے۔ لہذا دیکھیں آج وہ بھی کس حالت کو پہنچ گئے ہیں۔

گورنر پنجاب نے سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی کے ساتھ مسلم لیگ ن کے بیک ڈور رابطوں کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ ایسے تمام فیصلے ن لیگ کی لیڈرشپ کرتی ہے لیکن اس مرحلے پر ابھی ایسا کچھ بھی نہیں ہو رہا۔ بلیغ الرحمان کا کہنا تھا کہ اگر پنجاب میں بحران جاری رہتا ہے تو وہ بحیثیت گورنر آئینی طور پر مداخلت کریں گے۔ ’ان کی مداخلت سے بحران ٹلتا ہوا نظر آیا تو وہ مداخلت ضرور کریں گے۔ وزیراعلیٰ کے خلاف سپیکر اور ان کے دیگر اراکین کوئی آئینی عمل شروع کریں تو کسی نے ان کو زبرستی تو کسی نے نہیں روکا ہوا۔ یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کی طرف سے گورنر مقرر کیے جانے والے بلیغ الرحمن کا تعلق جنوبی پنجاب کی بہاولپور ڈویژن سے ہے اور وہ بہاولپور کو صوبہ بنانے کی توانا آواز بھی رہے ہیں۔

Back to top button