صدر بائیڈن کا واشنگٹن میں پاکستانی سفیر سے ملنے کا فیصلہ

صدر عارف علوی کی جانب سے پاکستان میں تعینات ہونے والے نئے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی تقرری کے کاغذات وصول کرنے میں مسلسل اور بلاجواز تاخیر کے باوجود امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکہ میں پاکستانی سفیر مسعود احمد خان کو وائٹ ہاؤس مدعو کر لیا ہے تاکہ ان کی نامزدگی کو ریگولرائز کیا جا سکے۔
اسلام آباد میں سفارتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن میں پاکستانی سفیر مسعود خان اس ہفتے امریکی صدر جو بائیڈن سے ملاقات کریں گے، یہ ملاقات امریکا میں پاکستان کے سفیر کی پوزیشن کی باضابطہ توثیق کر دے گی۔ مسعود خان کو 25 مارچ کو واشنگٹن بھیجا گیا تھا، اور انہوں نے اسد مجید خان کی جگہ لی تھی۔ یہ وہی صاحب ہیں جن کے لکھے ہوئے ایک خط کو عمران خان نے اپنے خلاف امریکی سازش قرار دے دیا تھا۔ اس لیے 11 اپریل کو عمران خان کو عہدے سے ہٹانے کے بعد یہ قیاس آرائیاں تھیں کہ اسلام آباد میں ہونے والی تبدیلی سفارتی تقرریوں پر بھی اثر انداز ہوگی اور ہوسکتا ہے کہ مسعود احمد خان کو واپس بلا لیا جائے جو ماضی میں آزاد کشمیر کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔
تاہم، دفتر خارجہ نے واضح کیا تھا کہ پرانے سفیر غیر ملکی دارالحکومتوں میں تب تک پاکستان کی نمائندگی جاری رکھیں گے جب تک نئی حکومت کی جانب سے انہیں وطن واپس بلانے کا حکم نہیں دیا جاتا۔ دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ نہ تو مسعود خان اور نہ ہی اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم کو ابھی واپس بلایا جا رہا ہے۔ امریکا پہنچنے پر مسعود خان نے امریکا کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے پروٹوکول کے سربراہ سے ایک لیٹر وصول کیا تھا، جو ان کے واشنگٹن میں’ پاکستان کے سفیر‘ کے طور پر تقرر کی توثیق کرتا ہے۔ بعد ازاں 19 اپریل کو انہوں نے امریکا کے صدر کے دفتر سے ایک خط وصول کیا جس میں باضابطہ طور پر ان کے تقرر تصدیق کی گئی۔اب مسعود خان امریکی صدر کے ساتھ رسمی تصویر کے لیے وائٹ ہاؤس کا دورہ کریں گے جو ان کے تقرر کی حتمی توثیق ہوگی۔ عموماً نئے سفیر کو دیگر ایلچیوں کے ہمراہ وائٹ ہاؤس میں مدعو کیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی اسناد پیش کرسکیں، یہ تقریب سفیر کے تقرر کی تصدیق کرتی ہے۔
تاہم، دیگر چیزوں کی طرح کورونا وائرس نے اس روایت کو بھی متاثر کیا ہے، امریکی صدر جوبائیڈن کی عمر 79 سال ہے لہذا انہیں کورونا وائرس کے خطرات لاحق ہیں، وائٹ ہاؤس امریکی صدر کے دیگر افراد کے ساتھ براہِ راست رابطے کو کم سے کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
واشنگٹن میں موجود سفارتی ذرائع نے بتایا کہ کرونا وائرس سفارتی تقریب کو بھی متاثر کیا ہے۔ اب، وائٹ ہاؤس کی جانب سے دستاویزی مراحل مکمل کرتے ہوئے ضروری خطوط جاری کیے جاتے ہیں اور پھر سفیر کو فوٹو سیشن کے لیے مدعو کیا جاتا ہے۔
سفارتی حلقوں نے بتایا ہے کہ مسعود احمد خان کو امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک ایسے وقت مدعو کیا ہے جب صدر عارف علوی اسلام آباد میں نئے پاکستانی سفیر کی تعیناتی کے کاغذات وصول کرنے میں بلا جواز تاخیر کر رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر عارف علوی نے اپنے جنونی قائد عمران خان کے ایما پر شہباز شریف کی حکومت کو ناکام بنانے کی خاطر آخری حد تک جاتے ہوئے ایسی حرکتیں شروع کر دی ہیں جن سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات مکمل طور پر ختم ہو سکتے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ پاکستان میں تعینات ہونے والے امریکہ کے نئے سفیر ڈونلڈبلوم کو اپنے کاغذات نامزدگی صدر کے سامنے پیش کرنے کی تقریب کے انعقاد میں ایوان صدر کی جانب سے جان بوجھ کر تاخیر سے کام لیا جارہا ہے جو حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث بن رہی ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کے دور اقتدار میں امریکہ نے کئی مہینوں تک پاکستان میں اپنا سفیر ہی تعینا ت نہیں کیا تھا۔ بالآخر عمران کے جانے کے بعد بائیڈن انتظامیہ نے اپنے ایک تجربہ کار افسر ڈونلڈ بلوم کی تقرری کا فیصلہ کیا۔ امریکی صدر کی جانب سے ہوئی سفارتی تقرری کی وہاں کی پارلیمان سے منظوری لازمی ہے۔ اس کے حصول کے لئے نامزد کردہ سفیر کو ایک خصوصی کمیٹی کے روبرو پیش ہو کر بے تحاشہ سوالات کاجواب دینا ہوتا ہے۔ ڈونلڈ بلوم اس مرحلے سے گزر کر رواں برس 11 اپریل کو بطور سفیر اپنے عہدے کا حلف بھی اٹھاچکے ہیں۔ باقاعدہ تعیناتی کے بعد وہ گزشتہ ماہ کے وسط میں اسلام آباد بھی پہنچ گئے۔
سفارتی روایات کے مطابق جب کسی ملک کا سفیر اسلام آباد پہنچ جاتاہے تو اس کے چند ہی دن بعد ایوان صدر میں تقریب منعقد ہوتی ہے۔ سرکاری ٹی وی پر خبروں میں عوام نے اکثر دیکھا ہوگا کہ یہ تقریب درباروں سے مختص تزک واحتشام سے برپا ہوتی ہے۔ مہمان سفیر کی ایوان صدر آمد پر بگل بجائے جاتے ہیں۔ اسکے بعد موصوف کو بگھی میں بٹھاکر ایوان صدر کے مرکزی دروازے تک لایا جاتا ہے۔ وہاں سے سفیر کو صدر کے روبرو پیش کرنے کے لیے لے جایا جاتا ہے اور وہ کورنش بجا کر اپنے کاغذات نامزدگی مہمان ریاست کے سربراہ کی خدمت میں پیش کرتا ہے۔ جب تک یہ تقریب منعقد نہ ہوجائے اور نیا سفیر اپنے کاغذات نامزدگی صدر کے روبرو پیش نہ کر دے تب تک اسکی تعیناتی کو ”باقاعدہ“ تصور نہیں کیا جاتا۔ سادہ لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ اس کا رتبہ ”سرکاری“ نہیں بلکہ بنیادی طورپر کاغذات نامزدگی کی منظوری کے ”منتظر“ شخص جیسا ہی رہتا ہے۔ مہمان ملک کی حکومت سے سرکاری معاملات طے کرنا سفارتی روایات کے مطابق اس کا ”اختیار“ تصور نہیں ہوتا۔ اسلام آباد پہنچنے والے نئے سفیر ڈونلڈبلوم کو تاہم ابھی تک ایوان صدر سے کاغذات نامزدگی پیش کرنے کے لئے ایوان صدر میں مدعو نہیں کیا گیا اور نہ ہی تاخیر کی کوئی وجہ بتائی جا رہی ہے حالانکہ دو ماہ گزر چکے ہیں۔
