مشرف کو وطن واپس لانے کی تیاریاں شروع کر دی گئیں

ایک جان لیوا موذی بیماری میں مبتلا ہو کر بستر مرگ پر پہنچ جانے والے مفرور ملٹری ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کو پاکستان لانے کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں تاکہ ممکنہ موت کی صورت میں انہیں پاکستان میں دفن کیا جا سکے۔
معروف ٹی وی اینکر کامران شاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈاکٹروں کے مشورے اور خاندان کی مرضی کیساتھ پرویز مشرف کو وطن واپس لانے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور اب صرف پاکستان سے گرین سگنل ملنے کا انتظار ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر انہوں نے لکھا کہ جنرل پرویز مشرف کو وطن واپس لانے کے تمام انتظامات خاندان کی رضامندی اور ڈاکٹروں کے مشورے کے بعد کئے جا رہے ہیں- اس میں ایئر ایمبولینس وغیرہ شامل ہیں اور فوج کی قیادت اپنے سابق سربراہ کے ساتھ کھڑی ہے۔ یاد رہے کہ کچھ روز قبل مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے بھی اس حوالے سے اشارہ دیا تھا کہ جنرل مشرف کی خراب صحت کے پیش نظر ان کو وطن واپس آنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔
اسکے بعد خواجہ سعد رفیق نے اپنی ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ماضی کے واقعات کو اس سلسلے میں رکاوٹ نہیں ہونے دینا چاہیے۔ اللہ ان کو صحت دے اور وہ عمر کے اس حصہ میں وقار کیساتھ اپنا وقت گزار سکیں۔تاہم ان ٹوئٹس کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے خواجہ آصف اور خواجہ سعد رفیق کا رگڑا نکال دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف کے خلاف آئین شکنی کرنے کے الزام میں سزائے موت کا حقدار قرار دیا جا چکا ہے اور خواجہ آصف اور سعد رفیق نے جو گفتگو کی ہے وہ ناقابل معافی ہے۔ سوشل میڈیا پر ناقدین کا کہنا تھا کہ جس کا باپ، خواجہ محمد صفدر، خود فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کی مجلس شوریٰ کا چیئرمین رہا ہو، وہ پرویز مشرف کی چاپلوسی کر کے شرمناک خاندانی روایت آگے نہیں بڑھائے گا تو اور کیا کرے گا۔
یاد رہے کہ خواجہ آصف نے یہ بیان تب دیا تھا جب مشرف کے اہل خانہ نے واضح کیا تھا کہ سابق جرنیل شدید علالت کے باعث ہسپتال میں زیر علاج ہیں، بتایا جا رہا ہے کہ عسکری حکام نے آئین شکن جنرل مشرف کو باعزت طریقے سے پاکستان لانے کے لیے شہباز شریف حکومت سے رابطہ کرلیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وطن واپسی پر وہ جیل کی بجائے ہسپتال جائے۔ ایسے میں مشرف بارے خواجہ آصف کا بیان معنی خیز قرار دیا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا صارفین ان پر کڑی تنقید کر رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ خواجہ آصف کو مشرف کے لیے باوقار زندگی گزارنے اور صحت کی دعائیں کرنے پر کوئی شرم اور کوئی حیا کرنی چاہیئے کیوں کہ اس نے دو مرتبہ پاکستان کا آئین توڑا اور منتخب حکومت ختم کی۔ اس کے علاوہ وہ بے نظیر بھٹو شہید اور نواب اکبر بگٹی شہید کے قتل کیسوں میں بھی نامزد ہے۔
یاد رہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں خصوصی عدالت نے دسمبر 2019 میں سابق صدر پرویز مشرف کو آئین سے غداری کے الزامات کے تحت پھانسی کی سزا سنائی تھی اور حکم دیا تھا کہ اسے اسلام آباد کے ڈی چوک میں لٹکایا جائے۔ اس فیصلے پر عمران خان دور میں عسکری قیادت نے سخت رد عمل کا اظہار کیا تھا اور حکومت نے جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف نااہلی کا ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں جسٹس وقار سیٹھ کرونا سے انتقال کر گئے تھے۔ جب مشرف کے وکلا نے سزائے موت کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تو کورٹ نے یہ کہہ کر درخواست قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ قانون کے مطابق سابق فوجی ڈکٹیٹر کو پہلے وطن واپس آ کر عدالت کے سامنے سرنڈر کرنا ہوگا۔ لیکن مشرف ایسا کرنے سے انکاری رہا اور اب اسکی سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے کی قانونی مدت ختم ہو چکی یے۔ لہذا اگر مشرف وطن واپس آتا ہے تو اسے ایئرپورٹ سے ہی گرفتار کرنا ہوگا تاکہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کروایا جا سکے۔
یاد رہے کہ پرویز مشرف نے 1999 میں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا تھا اور سابق وزیراعظم اور ان کے بھائی شہباز شریف کو حراست میں لے لیا تھا، اسکے بعد جنرل مشرف نے 2008 تک حکومت کی اور شریف خاندان کو جلا وطن کر دیا گیا۔ 2008 میں آصف زرداری کے برسراقتدار آنے کے بعد مواخذے سے بچنے کے لیے مشرف استعفیٰ دینے پر مجبور ہو گیا تھا۔ 2013 کے الیکشن کے بعد جب نواز شریف برسر اقتدار آئے تو 30 مارچ 2014 کو اس پر آئین معطل کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ 17 دسمبر 2019 کو مشرف کو خصوصی عدالت نے سنگین غداری کے کیس میں سزائے موت سنائی۔ لیکن سابق فوجی حکمران کو اس سے پہلے ہی مارچ 2016 میں دبئی فرار کروا دیا گیا جس کے بعد سے وہ پاکستان واپس نہیں آیا اور اب بستر مرگ پر ایڑیاں رگڑ رہا ہے۔
اپنے سیاسی مخالفین کو جلسوں میں مکے لہرا لہرا کر دکھانے والا پرویز مشرف ایک پیچیدہ بیماری میں مبتلا ہے جس میں اس کا بچنا محال ہے کیونکہ اس بیماری کا کوئی علاج نہیں نکل پایا۔
پرویز مشرف کے اہلِ خانہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ انہیں لاحق بیماری لا علاج ہے جسے کہ میڈیکل زبان میں ایمولائی ڈوسس کہتے ہیں۔ اس بیماری میں انسانی اعضاء ایک ایک کرکے کام چھوڑنا شروع کر دیتے ہیں اور جسم مفلوج ہو جاتا ہے۔ دوسری جانب نواز شریف کے داماد اور مریم نواز شریف کے شوہر کیپٹن محمد صفدر نے مطالبہ کیا ہے کہ وطن واپسی پر پرویز مشرف کو جسٹس وقار سیٹھ کے عدالتی فیصلے کی روشنی میں پھانسی دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسی آئین شکن کے لیے کسی قسم کی کوئی معافی نہیں ہونی چاہیے۔ کیپٹن صفدر نے کہا کہ مہذب معاشروں میں ایسی روایتیں بھی موجود ہیں کہ آئین شکن ملٹری ڈکٹیٹرز کو قبروں سے نکال کر لٹکایا گیا۔
