حکومت، کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے مابین مذاکرات کا آغاز

ایک روز قبل ہی ہر قسم کے مذاکرات سے انکار کے بعد وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے علی الصبح پیر کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔
ٹوئٹر پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں شیخ رشید نے بتایا کہ مذاکرات کا پہلا دور کافی بہتری سے مکمل ہوا ہے اور مثبت رہا جب کہ دوسرا دور سحری کے بعد صبح ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ایل پی نے اغوا کیے گئے پولیس اہلکاروں کو چھوڑ دیا گیا ہے، اور خود مسجد رحمتہ اللعالمین میں چلے گئے ہیں جب کہ پولیس بھی پیچھے ہٹ چکی ہے۔


ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات حکومت پنجاب نے کیے ہیں جس کے دوسرے دور میں باقی معاملات بھی طے کرلیے جائیں گے اور 192 ناکوں میں سے ایک ناکہ رہ گیا تھا اس میں بہتری آگئی ہے۔ علاوہ ازیں ٹی ایل پی کارکنان کے خلاف تھانہ نواں کوٹ پر ‘حملے’ کا مقدمہ بھی انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کرلیا گیا ہے۔ مزید برآں مذہبی رہنماؤں کی جانب سے لاہور واقعے پر احتجاجاً ہڑتال کا اعلان کرنے کے بعد بڑے شہروں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔ دوسری جانب لاہور پولیس کے ترجمان نے کہا کہ سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر نے اہلکاروں کو بازیاب کروانے کے آپریشن میں حصہ لیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پولیس کی نفری کے علاوہ رینجرز کو بھی شہر بھر کے حساس مقامات پر تعینات کردیا ہے جب کہ نواں کوٹ پر ہونے والا احتجاج منتشر ہوگیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے جائے وقوع پر موجود ہیں۔ خیال رہے کہ سی سی پی او لاہور کے ترجمان نے اس سے قبل گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ٹی ایل پی کارکنان نے ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) کو ‘بہیمانہ تشدد’ کا نشانہ بنایا اور انہیں اور دیگر 4 اہلکاروں کو یرغمال بنالیا ہے۔ بعدازاں وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا تھا کہ حملہ آور ڈی ایس پی سمیت 12 پولیس اہلکاروں کو اغوا کرکے اپنے مرکز لے گئے ہیں۔ لاہور میں پیش آنے والی صورت حال پر مفتی منیب الرحمٰن کی سربراہی میں تنظیمات اہلسنت کا ایک خصوصی اجلاس ہوا جس کے بعد ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے آج ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کی کال دی گئی تھی جس کی حمایت جمیعت علمائے اسلام (ف) اور جماعت اسلامی نے بھی کی۔ مفتی منیب الرحمٰن نے کہا تھا کہ ‘مین اسٹریم میڈیا پر پابندیاں ہیں، اس لیے درست معلومات دستیاب نہیں ہیں تاہم سوشل میڈیا سے جو معلومات لوگوں تک پہنچ رہی ہیں وہ انتہائی ہولناک اور اذیت ناک ہیں کہ ہم سب کے دل دکھی اور آنکھیں اشکبار ہیں’۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘2017 میں ان لوگوں (کالعدم ٹی ایل پی) کا یہی عمل آپ کی داد و تحسین کا مستحق تھا کیونکہ تب اقتدار پر کوئی اور فائز تھا اور جب آپ خود اقتدار کی کرسی پر بیٹھے ہیں تو وہی عمل آپ کی نظر میں دہشت گردی قرار پایا، اس سے بڑی منافقت اور کیا ہوگی’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘پولیس تھانوں اور جیلوں میں قید کارکنان پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں، انہیں اذیت سے دوچار کیا جارہا ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تھانوں اور جیلوں میں قید کارکنان کو ذاتی مچلکوں پر فوری طور پر رہا کیا جائے اور تمام جعلی ایف آئی آرز واپس لی جائیں، اس کے بغیر مسئلے کے پُرامن حل کی توقع رکھنا خوش فہمی ہوگا’۔ دوسری جانب ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی نے بھی ایک ٹوئٹر پیغام میں ‘لاہور میں حکومت کی جانب سے خونریزی’ کی مذمت کی۔ پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ چند افراد نے پولیس پر جوحملے کیے وہ بھی یقیناً غلط تھے لیکن ان سے آج کی گئی سفاکی اور درندگی کا کوئی جواز پیدا نہیں ہوتا حکومت ہوش میں آئے اور دانشمندی سے کام لے۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز لاہور کے یتیم خانہ چوک پر موجود احتجاجی مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق اور 15 پولیس اہلکاروں سمیت سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔ حکام نے پورا دن اس تصادم، بشمول پولیس تھانے پر حملے، اہلکاروں کے اغوا، اموات اور زخمیوں سے متعلق کسی قسم کی خبر نشر کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ تاہم شام میں حکومتی عہدیداروں نے نجی چیلننز پر آ کر بیانات دیے کہ گڑ بڑ اس وقت شروع ہوئی جب ٹی ایل پی مظاہرین نے تھانے پر حملہ کر کے ڈی ایس پی اور اہلکاروں کو یرغمال بنایا۔ دوسری جانب ایک ویڈیو پیغام میں ٹی ایل پی ترجمان شفیق امینی کا کہنا تھا کہ پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز نے لاہور میں ان کے مرکز پر صبح 8 بجے حملہ کیا جس کے نتیجے میں ‘متعدد کارکنان جاں بحق اور بڑی تعداد میں زخمی ہوگئے’۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ یرغمال بنائے گئے پولیس اہلکاروں نے ان کے مرکز پر حملہ کیا تھا اور وہ ان کے کارکنان کی اموت میں ملوث ہیں۔ پیغام ان کا مزید کہنا تھا کہ اہلکاروں کو ہجوم سے چھڑانے کے بعد ابتدائی طبی امداد دی گئی، وہ ہماری تحویل میں ہیں اور صورت حال بہتر ہونے پر انہیں رہا کیا جائے گا کیوں کہ ٹی ایل پی مرکز کے باہر ہجوم کی موجودگی کے باعث اس وقت انہیں رہا کرنا خطرناک ہوسکا ہے۔ پنجاب پولیس نے ایک بیان جاری کرکے دعویٰ کیا تھا کہ اتوار کی صبح شرپسندوں نے تھانہ نواں کوٹ پر حملہ کیا جس سے وہاں موجود رینجرز اور پولیس افسران پھنس گئے، بعدازاں وہ ڈی ایس پی نواں کوٹ کو اغوا کرکے اپنے مرکز لے گئے جبہ 50 ہزار لیٹر پیٹرول کے ایک آئل ٹینکر کو بھی ساتھ لے گئے۔ بیان کے مطابق پولیس اور رینجرز نے شر پسندوں کو پیچھے دھکیل کر تھانے کا قبضہ واپس لے لیا، پولیس نے مسجد یا مدرسے کے خلاف کوئی منصوبہ بندی یا آپریشن نہیں کیا بلکہ اپنے دفاع اور عوامی املاک کے تحفظ کےلیے کارروائی کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button