مذاکرات ناکام ہوئے تو کیا گرینڈ آپریشن آخری حل ہو گا؟

وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید نے مختلف شہروں میں تحریک لبیک کی قائم کردہ 192 میں سے 191 چوکیاں فتح کرنے کا اعلان تو کر دیا لیکن یتیم خانہ چوک لاہور کی چوکی ٹی ایل پی کا مضبوط ترین قلعہ ثابت ہوئی ہے جہاں چار مظاہرین کی ہلاکتوں کے باوجود دھرنا ساتویں روز بھی جاری ہے اور کپتان حکومت کے لیے ایک بڑا دردسر بن گیا ہے۔ یاد رہے کہ لاہور کے مصروف ترین کاروباری مرکز ملتان روڈ پر یتیم خانہ چوک کے نزدیک بیڑی سٹاپ کہلائے جانے والے مقام پر تحریک لبیک کی مرکزی مسجد رحمت العالمین واقع ہے جہاں پر دیا گیا دھرنا وقت گزرنے کے ساتھ نہ صرف بڑا ہوتا چلا جا رہا ہے بلکہ مشتعل مظاہرین کے جذبات میں بھی مذید شدت آتی جا رہی ہے۔ اتوار کے روز لاہور میں تحریک لبیک کی 192 ویں چوکی فتح کرنے کی ناکام کوشش کے دوران ہلاکتوں کے بعد اب حکومت نے سکیورٹی فورسز کو پیچھے ہٹا لیا ہے اور مظاہرین نے 12 یرغمالی پولیس والوں کو رہا کردیا ہے۔ لیکن صورت حال اب بھی کشیدہ ہے چونکہ ان مظاہرین نے سعد رضوی کے اعلان کے مطابق 20 اپریل کو اسلام آباد پہنچ کر فرانسیسی سفیر کی بے دخلی کے لیے دھرنا دینا ہے۔ چنانچہ حکومت کی کوشش ہے کہ مذاکرات کے ذریعے مسلے کو حل کیا جائے اور لانگ مارچ ہونے سے روکا جائے۔
لاہور میں یتیم خانہ چوک پر سکیورٹی فورسز اور تحریک لبیک کی خون ریز جھڑپ سے اب تک سب سے زیادہ متاثر وہاں کی رہائشی آبادی ہو رہی ہے۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ مسلسل شیلنگ اور فائرنگ سے وہ محصور ہو کر رہ گئے ہیں اور ایک ہفتے سے گھروں میں قید روزے دار، بزرگ اور بیمار افراد شدید مشکلات کا شکار ہے۔ ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مسلسل آنسو گیس پھینکی جانے سے علاقے کی اکثریتی آبادی نظام تنفس کے مسائل سے دوچار ہوی ہے لیکن راستے بند ہونے کی وجہ سے کوئی اسپتال بھی نہیں جاسکتا، اگر کوئی گھر سے باہر نکلتا یے یا اہنی دکان کھولنے کی کوشش کرے تو ٹی ایل پی کے کارکنان اسے منع کر دیتے ہیں۔ ایک خاتون نے شکوہ کیا کہ ان کے گھر میں راشن ختم ہوگیا ہے بچے بھوکے بیٹھے ہیں۔ لیکن ٹی ایل پی کارکنان انہیں باہر نکلنے کی اجازت نہیں دے۔ انکا۔کہنا تھا کہ بازار بھی بند ہیں اور اگر وہ راشن کا بندوبست نہ کر سکیں تو ان کے بچے بھوک سے مرجائیں گے۔
یاد رہے کہ لاہور کے مصروف ترین کاروباری مرکز ملتان روڈ پر یتیم خانہ چوک پر کالعدم قرار دی گئی تنظیم تحریک لبیک کی مرکزی مسجد رحمت العالمین واقع ہے جہاں پر دیا گیا دھرنا ایک ہفتے سے جاری ہے۔ اتوار کو پولیس اور تحریک لبیک کے کارکنان کے مابین ہونے والے تصادم کے بارے میں بات کرتے ہوئے مقامی رہائشی اور یتیم خانہ چوک میں کاروبار کرنے والے ایک تاجر نے بتایا کہ ٹی ایل پی سربراہ سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد جب اس مسجد کے باہر دھرنا شروع ہوا تو تنظیم کے کارکنان مسجد کے سامنے ہی کے علاقوں تک محدود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ جب لاہور کے مختلف علاقوں میں آپریشن شروع ہوا تو ٹی ایل پی کے کارکنان نے مسجد کے تینوں اطراف ایک کلو میٹر کا علاقہ مختلف رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کردیا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ مسجد سے باہر ٹی ایل پی کے کارکنان ایک کلومیٹر کے اس علاقے میں شفٹ تبدیل کرکے ڈیوٹیاں دے رہے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ جب اتوار کی صبح پولیس نے ٹی ایل پی کے مرکز پر تین اطراف سے دھاوا بولا تو اس تنظیم کے کارکنان نے پولیس کی نفری کو اپنے کنٹرول والے اس ایک کلو میٹر کے علاقے میں آنے کی اجازت نہیں دی۔ پولیس کی زیادہ نفری یتیم خانہ چوک سے دو سو میٹر کے فاصلے پر تھانہ نواں کوٹ میں موجود تھی۔
عینی شاہدین کے مطابق جب پولیس تھانہ سے باہر نکلی تو ٹی ایل پی نے ان کے خلاف شدید مزاحمت کی اور فریقین کے مابین تصادم کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔ لیکن پولیس پھر بھی ٹی ایل پی کا علاقے میں کنٹرول نہیں توڑ سکی۔ ایک اور مقامی رہائشی اور عینی شاہد نے دعویٰ کیا کہ جب پولیس اہلکار اپنی کوششوں کے باوجود بھی ٹی ایل پی کی لگائی گئی رکاوٹوں کو نہ ہٹا سکی تو اس موقع پر غالباً جھنجلاہٹ یا غصہ میں ڈی ایس پی نے اپنی نفری کو للکارا اور کہا کہ ‘جوانوں ہلا بول دو، بہت ہوگئی ہے۔’ یہ کہنے کے بعد ڈی ایس پی خود تیزی سے آگے بڑھا اور وہاں موجود ایک بڑی رکاوٹ کو ہٹانا چاہا۔ اس پر مسجد اور مسجد کے ارد گرد کے گھروں کی چھتوں سے شدید ترین پتھراؤ شروع ہوگیا۔ پولیس نفری تیزی سے پیچھے مڑی تو اس موقع پر ڈی ایس پی نے اپنے اہلکاروں کو ڈٹے رہنے کو کہا مگر ایسا نہ ہو سکا۔ جب ڈی ایس ایس پی کی قیادت میں صرف چند لوگ ہی رہ گے تو اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹی ایل پی کے کارکنان نے ان کو اپنے اغوا کر لیا اور مسجد رحمت للعالمین کے اندر لے گئے۔
اب صورتحال یہ ہے کہ کشیدہ حالات کے باعث ملتان روڈ پر چوک یتیم خانہ زندگی عذاب ہوچکی ہے۔ اتوار کو شدید ترین شیلنگ سے گھروں میں موجود عورتیں، بچے، بوڑھے اور بیمار شدید متاثر ہوئے ہیں۔ علاقے کے رہائشیوں کے مطابق آنسو گیس کی شیلنگ کوئی تین گھنٹے تک بغیر وقفے کے جاری رہی۔ اب رہائشیوں کی افطاریاں اور سَحریاں خوف کے عالم میں گزر رہی ہیں۔ ملتان روڈ پر چوک یتیم خانہ میں اپنے دو کم عمر بچوں کے ساتھ رہائش پذیر ایک خاتون کا کہنا تھا کہ 7 روز ہو چکے ہیں لیکن وہ کام کے لیے دفتر نہیں جاسکیں اور باہر نہ جانے کی وجہ سے ان کے گھر میں کھانے پینے کی اشیا بھی نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دو روز قبل انہوں نے کوشش کی کہ افطاری اور سحری کےلیے کچھ خریداری کر لیں۔ لیکن جب باہر نکلی تو مجھے وہاں پہرہ دیتے ہوئے نوجوانوں نے سختی سے ڈانٹا اور کہا کہ میں گھر کے اندر رہوں۔ میں نے ان سے کہا کہ مجھے کھانے پینے کی اشیا خریدنی ہیں، لیکن انہوں نے مجھے پھر بھی اجازت نہیں دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں سَحری اور افطار کی اشیا پڑوس والے دے رہے ہیں لیکن وہ بھی ایسا کب تک کریں گے۔ خاتون نے بتایا کہ شروع میں آنسو گیس کی گولہ باری شروع ہوئی تو بچے ڈر کے مارے پریشان ہو جاتے تھے لیکن اب جب گولے گرتے ہیں تو وہ شور مچاتے ہیں کہ ٹھاہ ٹھاہ ٹھاہ، میچ شروع ہوگیا ہے۔
ایک مقامی رہائشی کا کہنا تھا کہ عملاً اس وقت علاقے کے ہزاروں لوگ گھروں میں نظر بند ہیں۔ نہ کوئی اپنے گھروں سے باہر نکل سکتا ہے اور نہ ہی اندر جا سکتا ہے۔ اگر باہر نکلیں تو موبائل چھین کر توڑ دیتے ہیں، بائیک کو نقصاں پہنچاتے ہیں۔ اب تک انٹرنیٹ بھی بند ہے جس سے ہمیں رابطوں میں بھی مشکلات ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ علاقے میں دوکانیں اور کاروبار زبردستی بند کروا دیے گئے ہیں اور صورت حال یہ ہے کہ اگر کوئی اپنی دوکان یا کاروبار کھولنے کی کوشش کرے تو ٹی ایل پی والے اس پر تشدد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انکے کاروبار میں پندرہ ملازم ہیں جو سب دیہاڑی دار ہیں اور ان کو ہم تنخواہیں اس وقت دینے کے قابل ہوتے ہیں جب ہم کاروبار کرتے ہیں۔ کاروبار چار روز سے مکمل بند پڑا ہے۔ اب اگر کاروبار نہ کھلا تو ہم ان کو دیہاڑی دینے کے قابل نہیں ہوں گے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت اور تحریک لبیک کے مابین مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اور بہت جلد ٹی ایل پی کی آخری چوکی بھی خالی کروا لی جائے گی۔
