حکومت اور اپوزیشن کا ایک دوسرے کو ذلیل کرنے کا مقابلہ

عمران خان کی جانب سے حکومت کو مذاکرات کی پیشکش ٹھکرانے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جیسے ماضی میں خان صاحب ضد پر اڑے ہوئے تھے ویسے ہی اب حکومت بھی ضد پر اڑ گئی ہے اور اصل مقابلہ ایک دوسرے کو ذلیل کرنے کا ہے۔ ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سینئر صحافی انصار عباسی کہتے ہیں کہ اگر عمران نے اپنی ضد چھوڑ کر پی ڈی ایم حکومت کو مذاکرات کی دعوت دے دی تھی تو اتحادیوں کو بھی خان کے اس مثبت یو ٹرن پر مثبت انداز میں سوچنا چاہئے تھا۔ افسوس کہ وزیراعظم کے ساتھ اجلاس میں عمران کی مذاکرات کی دعوت کا جائزہ لینے کے بعد ن لیگی وزیروں نےگویا انہیں دھتکار دیا ہے۔ اس عمل سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ایکدوسرے سے ضد کا مقابلہ کیا جا رہا ہے، اور ایک دوسرے کو ذلیل کرنے کی ریس لگی ہوئی ہے۔

 

انصار عباسی کے بقول پہلے عمران کہتے رہے کہ میں پاکستان کے دشمنوں سے بات کر لوں گا لیکن ان چوروں اور ڈاکوئوں سے بات نہیں کروں گا۔ لیکن اب اگر عمران خان اپنے سابقہ موقف کو خود غلط ثابت کرتے ہوئے چوروں اور ڈاکوؤں سے مذاکرات کے لئے آمادہ ہیں تو حکمرانوں کو بھی سنجیدگی دکھانی چاہئے تھی، انہیں ملک کا سوچنا چاہئے تھا۔ اگر عمران نے اپنی حکومت کے دوران اپوزیشن سے لڑتے ہوئے ’’چور ڈاکو، چور ڈاکو‘‘ کی گردان الاپنے میں وقت ضائع کیا اور ملک کو سیاسی اور معاشی استحکام مہیا کرنے کا سنہری موقع کھویا تو موجودہ حکومت بھی اُسی روش پر کیوں چلنا چاہتی ہے؟ انکا کہنا ہے کہ بات چیت کے ذریعے سیاسی اور معاشی استحکام کا حصول اپوزیشن سے زیادہ حکومتوں کی خواہش ہوتی ہے۔یہ سب اگر عمران اپنے دور حکومت میں نہیں سمجھے تو موجودہ حکمراں خصوصاً ن لیگ کی عقل پر کیوں پردے پڑ گئے ہیں؟

 

انصار عباسی کہتے ہیں کہ اگر عمران نے واقعی پنجاب اور خیبر پختونخوا کی دونوں اسمبلیاں توڑ دیں اور حکمراں اتحاد اس بات پر قائم رہا کہ نہ تو سندھ اور بلوچستان کی اسمبلیاں توڑیں گے اور نہ ہی وزیراعظم قومی اسمبلی کو تحلیل کریں گے تو ایسے میں سیاسی عدم استحکام مزید بڑھ جائے گا۔ اس سے بھی اہم اور فکر انگیز سوال یہ ہے کہ معیشت کا کیا بنے گا؟ پاکستان کے معاشی حالات پہلے ہی بہت گھمبیر ہیں، سیاسی عدم استحکام میں اضافے کا مطلب معیشت کی مزید تباہی ہے، جو دراصل پاکستان اور عوام دونوں کیلئے بہت بُری خبر ہے۔

 

انصار عباسی کہتے ہیں کہ ویسے تو عمران نےانتخابات کی شرط پر حکومت کو مذاکرات کی دعوت دی لیکن تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ میثاق معیشت، الیکشن ریفارمز سمیت ،گڈ گورننس اور دیگر اصلاحات پر بھی حکومت سے بات کرنے کیلئے تیار ہیں۔ ضد، اناپرستی اور ایک دوسرے کو زیر کرنے کی سیاست نے ہی ملک کی یہ حالت کی ہے۔ ن لیگ اور پی پی پی کو اگر بار بار حکومتیں ملیں تو اُنہیں نے جو کرنا چاہئے تھا وہ نہ کیا، یہی حال عمران خان کا تھا۔ اس ملک کو میثاق معیشت کی اشد ضرورت ہے، پاکستان کو اگر ترقی کرنی ہے تو اسے اپنے گورننس ماڈل کو تبدیل کرنا پڑے گا۔ اداروں کی مضبوطی، ادارہ جاتی اصلاحات، سول بیوروکریسی اور پولیس کو غیر سیاسی کرنا، قانون کی عملداری، میرٹ اور شفافیت یہ وہ گورننس کی بنیادیں ہیں جن کیلئے حکومت اور اپوزیشن کو مل کر اتفاق رائے سے اصول مرتب کرنا پڑیں گے جس کیلئے یہ بہترین وقت ہے۔

 

انصار عباسی کہتے ہیں کہ اگر الیکشن جون میں کروا دیے جائیں جس کیلئےطرفین کو ایک ایک قدم پیچھے ہٹنا پڑے گا تو آنے والے تین چار مہینوں میں بات چیت کے ذریعے ہم اپنی معیشت اور طرز حکمرانی کو ٹھیک کر سکتے ہیں جو پاکستان اور عوام دونوں کے وسیع تر مفاد میں ہو گا۔ اگر عمران موجودہ حکومت کو گرانے کے چکر میں ہی رہے اور حکمراں اتحاد اپنے آپ کو بچانے اور عمران کی سیاسی چالوں کو ناکام بنانے میں ہی لگا رہا تو معیشت بد سے بدتر ہوتی چلی جائے گی۔ اسکے برعکس دونوں اطراف اگر مذاکرات کی میز پر بیٹھتے اور معاملات کے سدھار کیلئے اتفاقِ رائےکا اعلان کرتے ہیں تو اس سے ملک کو سیاسی استحکام ملے گا جو معیشت کی بہتری کیلئے ازحد ضروری ہے۔

Back to top button